30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳) [1] وقولہ تعالی اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- [2] فانھم العلماء علی الاصح و
اجتہاد کا خاص حصہ ہے دو سرے کو اگر کسی مسئلے میں دلیل مجتہد کا علم ہوتا بھی ہے تو تقلیدا ہوتا ہے ، جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ہم نے اپنے رسالہ “ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فہو مذھبی “ میں بیان کیا (خدا نے چاہا تو یہ رسالہ بابر کت ثابت ہوگا ) اس لئے کہ اس رسالہ میں جو منزلیں ہم نے بتائی ہیں انہیں طے کرنا سوائے مجتہد کے اور کسی کے بس کی بات نہیں ، اس میں سے کچھ تھوڑی سی مقدار کی جانب “ عقود رسم المفتی “ میں بھی اشارہ ہے اس میں یہ نقل کیا ہے کہ دلیل کی معرفت مجتہد ہی کو ہوتی ہے اس لئے کہ یہ اس امر کی معرفت پر موقوف ہے کہ دلیل ہر معارض سےمحفو ظ ہے اور یہ معرفت تمام دلائل کے استقراء اور چھان بین پر موقوف ہے جس پر بجز مجتہد کسی کو قدرت نہیں ہوتی ، اور صرف اتنی واقفیت کہ فلاں مجتہد نے فلاں حکم فلاں دلیل سے اخذ کیا ہے تو اتنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ا ھ
(۲) اجمالی ، جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے ذکر والوں سے پو چھو اگر تمہیں علم نہیں اور ارشاد ہے ، الله کی اطاعت کرو اوررسول کی اطاعت کر و اور ان کی جو تم میں صاحب امر ہیں ، یہ اصحاب امر بر قول اصح حضرات علماء کرام
و قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الا سألوا اذلم یعلموا فانما شفاء العی السؤال [3]
وعن فـــــ ھذا نقول ان اخذنا با قوال امامنا لیس تقلیدا شرعیا لکونہ عن دلیل شرعی انما ھو تقلید عرفی لعدم معرفتنا بالدلیل التفصیلی اما التقلید الحقیقی فلا مساغ لہ فی الشرع وھو المراد فی کل ماورد فی ذم التقلید والجھال الضلّال یلبسّون علی العوام فیحملونہ علی التقلید العرفی الذی ھو فرض شرعی علی کل من لم یبلغ رتبۃ الاجتھاد۔
قال المدقق البھاری فی مسلم الثبوت التقلید العمد بقول الغیر من غیر حجۃ کا خذ العامی والمجتہد من مثلہ فالرجوع الی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم او الی الاجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول
ہیں ، اور سرکار اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے “ جب انہیں معلوم نہ تھا تو پوچھا کیوں نہیں ، عاجز کا علاج یہی ہے کہ سوال کرے ۔ “ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اپنے امام کے اقوال کو تسلیم وقبول کر نا تقلید شرعی نہیں ، بس تقلید عرفی ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی کی ہمیں معرفت نہیں ، اور تقلید حقیقی کی تو شریعت میں کوئی گنجائش ہی نہیں اور مذمت تقلید میں جو کچھ وارد ہے اس میں تقلید حقیقی ہی مراد ہے اہل جہالت وضلالت عوام پر تلبیس کر کے اسے تقلید عرفی پر محمول کر تے ہیں جب کہ یہ ہر اس شخص پر فر ض شرعی ہے جو رتبہ اجتہاد تك نہ پہنچا ہو ۔ مدقق بہاری مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں تقلید یہ ہے کہ دوسرے کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل ہو ، جیسے عامی اور مجتہد کا اپنے جیسے سے اخذ کرنا تو نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانب یا اجماع کی جانب رجوع لانا تقلید نہیں اسی طر ح عامی کا مفتی کی جانب اور قاضی کا گو اہان عادل
فـــــ : الفرق بین التقلید الشرعی المذموم والعرفی الواجب وبیان ان اخذنا باقوال امامنالیس تقلید فی الشرع بل بحسب العرف وھو عمل بالدلیل حقیقۃ وبیان تلبیس الوھابیہ فی ذالک۔
لا یجاب النص ذلك علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد قال الامام وعلیہ معظم الاصولیین [4] اھ
وشرحہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت ھکذا ( التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ) متعلق بالعمل والمراد بالحجۃ حجۃ من الحجج الاربع والا فقول المجتھد دلیلہ وحجۃ (کاخذ العامی) من المجتہد (و) اخذ (المجتھد من مثلہ فالرجوع الی النبی علیہ) واٰلہ واصحابہ (الصّلٰوۃ والسّلام والی الاجماع لیس منہ) فانہ رجوع الی الدلیل (وکذا) رجوع (العامی الی المفتی والقاضی الی العدول ) لیس ھذا الرجوع نفسہ تقلید وان کان العمل بما اخذ وابعدہ تقلیدا ( لا یجاب النص ذالك علیھما ) فھو عمل بحجۃ لا بقول الغیر فقط (لکن العرف) دل (علی ان العامی مقلد للمجتہد ) بالرجوع الیہ ( قال
کی جانب رجوع ، اس لئے کہ یہ ان دونوں پرنص نے واجب کیا ہے ، لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے ، امام نے فرمایا اسی پر بیش تر اہل اصول ہیں۔ ۱ھ
مولانا بحر العلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی شرح یوں کی ہے ، (قوسین کے درمیان متن کے الفا ظ ہیں )تقلید ، دو سرے کے قول پر عمل ، بغیر کسی دلیل کے یہ عمل سے متعلق ہے اور دلیل سے مراد ادلہ اربعہ (کتاب سنت ، اجماع ، قیاس) میں سے کوئی دلیل ہے ، ورنہ مجتہد کا قول ہی اس کی دلیل اور حجت ہے (جیسے عامی کا اخذ کرنا )مجتہد سے (اور مجتہد کا اپنے مثل سے) اخذ کرنا (تو نبی علیہ ) وآلہ واصحابہ (الصلوۃ والسلام یا اجماع کی جانب رجوع تقلید نہیں) اس لئے کہ یہ تو دلیل کی جانب رجوع ہے ، (اور اسی طر ح عامی کا مفتی ، او رقاضی کا گواہان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع