30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امر کا ارتکاب کیا ؟ حاصل یہ کہ طبع سلیم کے لئے انصاف کی قابل قبول بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے مفتی کا کام یہی ہے کہ مشائخ نے جو فتوی دیا ہے اسے نقل کردے ۔ اسی بات پر علامہ ابن شلبی اپنے فتا وی میں گام زن ہیں ، وہ فرماتے ہیں ، اصل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول پر عمل کیا جائے اسی لئے مشائخ اکثر ان ہی کی دلیل کو ان کے مخالف کی دلیل پر ترجیح دیتے ہیں اور مخالف کے استدلال کا جواب بھی پیش کرتے ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ عمل قول امام پر ہوگا اگرچہ ایسی جگہ حضرات مشائخ نے یہ صراحت نہ فرمائی ہو کہ فتوی قول امام پرہے ، اس لئے کہ ترجیح خود صراحۃ تصحیح کا حکم رکھتی ہے ، کیونکہ مرجوع راجح کے مقابلے میں بے ثبات ہوتا ہے ۔ جب معاملہ یہ ہے تو قاضی یا مفتی کو قول امام سے انحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے
ما مر ، قال وھو الذی مشی علیہ الشیخ علاء الدین الحصکفی ایضا فی صدر شرحہ علی التنویر حیث قال واما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ وصححوہ کما افتوا فی حیاتھم فان قلت قد یحکون اقوالا بلا ترجیح وقد یختلفون فی التصحیح قلت یعمل بمثل ما عملوا من اعتبار تغیرالعرف واحوال الناس وما ھوا لارفق وما ظہر علیہ التعامل وما قوی وجہہ ولا یخلو الوجد ممن یمیز ھذا حقیقۃ لا ظنا وعلی من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز لبراء ۃ ذمتہ اھ والله تعالی اعلم اھ [1]۔
اقول : وتلك شکاۃ کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو (آخر عبارت تك جو فتاوی ابن شلبی کے حوالے سے پہلے گزری ) آگے علامہ شامی لکھتے ہیں ، یہ ہی وہ ہے جس پر شرح تنویر کے شرو ع میں شیخ علاء الدین حصکفی بھی گام زن ہیں ، وہ رقم طراز ہیں ، لیکن ہم پر تو اسی کی پیروی لازم ہے جسے حضرات مشائخ نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے وہ اپنی حیات میں اگر فتوی دیتے تو ہم اسی کی پیروی کرتے ۔ اگریہ سوال ہو کہ حضرات مشائخ کہیں متعدد اقوال بلا ترجیح نقل کردیتے ہیں اور کبھی تصحیح کے معاملے میں ایك دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں ، ان مسائل میں ہم کیا کریں ؟ تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ جیسے ان حضرات نے عمل کیا ویسے ہی ہمارا عمل ہوگا یعنی لوگو ں کے حالات اور عرف کی تبدیلی کا اعتبار ہوگا ، یوں ہی اس کا اعتبار ہوگا جس میں زیادہ آسانی اور فائدہ ہو یا جس پر لوگو ں کا عمل در آمد نمایاں ہو یا جس کی دلیل قوی ہو ، اور بزم وجود کبھی ایسے افراد سے خالی نہ ہوگی جو محض گمان سے نہیں بلکہ واقعی طو ر پر اقوال کے درمیان اتنی تمیز رکھنے والے ہوں گے اور جس میں تمیز کی لیاقت نہ ہو اس پر عہد ہ بر آہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ صاحب تمیز کی جانب رجوع کر ے ، والله تعالی اعلم
اقول : یہ ایسی شکایت ہے جس کا
طاھر عنك عارھا ، ولنقدم لبیان الصواب مقدمات تکشف الحجاب
الاولی فـــ ۱١ لیس حکایۃ قول افتاء بہ فانا نحکی اقوالا خارجۃ عن المذھب ولا یتوھم احد انا نفتی بھا ، انما الافتاء ان تعتمد علی شیئ وتبین لسائلك ان ھذا حکم الشرع فی ما سألت وھذا لا یحل لاحد من دون ان یعرفہ عن دلیل شرعی و الاکان جزافا وافتراء علی الشرع ودخولا تحت قولہ عزوجل اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۰) [2] وقولہ تعالی قُلْ ﰰ للّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ(۵۹) [3]
الثـانیۃ فـــــ ۲ الدلیل علی وجھین اما تفصیلی و معرفتہ خاصۃ باھل النظر عا ر
آپ سے دور ہے بیان حق کے لئے ہم پہلے چند مقامات پیش کرتے ہیں جن کے باعث حقیقت کے رخ سے پردہ اٹھ جائے گا ۔
مقدمہ اول : کسی قول کی نقل وحکایت اور کسی قول پر افتا دو نوں ایك نہیں ، ہم ایسے بہت سے اقوال بیان کرتے ہیں جو ہمارے مذہب سے باہر کے ہیں اور کسی کو یہ وہم نہیں ہوتا کہ ہم ان اقوال پر فتوی دے رہے ہیں افتا یہ ہے کہ کسی بات پر اعتماد کر کے سائل کو بتا یا جائے کہ تمہاری مسئولہ صورت میں حکم شریعت یہ ہے ۔ یہ کام کسی کے لئے بھی اس وقت تك حلال نہیں جب تك اسے کسی دلیل شرعی سے اس حکم کا علم نہ ہوجائے ، ورنہ جزاف (اٹکل سے بتانا ) اور شریعت پر افترا ہوگا اور ان ارشاد ات کا مصداق بھی بننا ہوگا (۱) کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں (۲) فرماؤ کیا الله نے تمہیں اذن دیا یا تم خدا پر افتر ا کرتے ہو۔ مقدمہ دو م : دلیل دو طر ح کی ہوتی ہے (۱) تفصیلی اس سے آگا ہی اہل نظر و
فـــ ۱ : معنی الافتا وانہ لیس حکایۃ محضۃ وانہ لایجوز الا عن دلیل
فـــ ۲ : الدلیل دلیلان تفصیلی خاص معرفتہ بالمجتہد واجمالی الابد منہ حتی للمقلد
و الاجتھاد فان غیرہ وان علم دلیل المجتھد فی مسألۃ لا یعلمہ الا تقلیدا کما یظہر مما بیناہ فی رسالتنا المبارکۃ ان شاء الله تعالی “ الفضل الموھبی فـــ١ فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی “ فان قطع تلك المنازل التی بینا فیھا لا یمکن الا لمجتھدو اشارالی بعض قلیل منہ فی عقود رسم المفتی اذنقل فیھا ان معرفۃ الدلیل انما تکون للمجتہد لتوقفھا علی معرفۃ سلامتہ من المعارض وھی متوقفۃ علی استقراء الادلۃ کلہا و لا یقدر علی ذلك الاالمجتہد اما مجرد معرفۃ ان المجتھد الفلانی اخذ الحکم الفلانی من الدلیل الفلانی فلا فائدۃ فیھا [4] اھ اواجمالی کقولہ سجنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع