دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

رکھتا اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوی دے ۔ یہاں

اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ اقوال کی معرفت اور ان کے مراتب میں امتیاز کی لیاقت کے ساتھ ایك کو دوسرے پر ترجیح دینے کی قدرت حاصل ہو۔ ۱ھ اس کلام بحر پر علامہ شامی نے شرح عقود میں یوں تنقید کی ہے اس کلام کی بے نظمی ناظرین پر مخفی نہیں ۔ اسی لئے اس کے محشی خیر الدین رملی نے اس پر اعتراض کیاہے کہ ایك طر ف ان کا کہنایہ ہے کہ “ ہمیں قول امام پرفتویٰ  دینا واجب ہے اگرچہ اس قول کی دلیل او رماخذہمارے علم میں نہ ہو “ دوسری طر ف امام کا ارشاد یہ ہے کہ “ کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا حلا ل نہیں جب تك اسے یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ۔ “ یہ دونوں میں تضاد ہے اس لئے کہ قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتویٰ  دینا جائز نہیں ۔ پھر اس سے اس شرط کے بغیر وجوب افتا ء پر استدلال کیسے ہوسکتا ہے؟تو ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا ء نہیں ، وہ تو امام مجتہد سے صرف اس بات کی نقل و حکایت ہے کہ وہ اس حکم کے قائل ہیں جب حقیقت یہ ہے تو غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے پھر ہم پر یہ واجب کیسے رہا کہ قول اما م ہی پر

افتی المشاْئخ بخلافہ ونحن انما نحکی فتویٰ ھم لاغیر فلیتأمل انتھی  ، (وتوضیحہ) ان المشائخ اطلعوا علی دلیل الامام وعرفوا من این قال و اطلعو اعلی دلیل اصحابہ فیرجحون دلیل اصحابہ علی دلیلہ فیفتون بہ ولا یطّن بھم انھم عدلوا عن قولہ لجہلھم بدلیلہ فانا نرٰہم قدشحنو اکتبھم بنصب الادلۃ ثم یقولون الفتوی علی قول ابی یوسف مثلا وحیث لم نکن اھلا للنظر فی الدلیل ولم نصل الی رتبتھم فی حصول شرائط التفریح والتاصیل فعلینا حکایۃ ما یقولونہ لانھم ھم اتباع المذھب الذین نصبوا انفسھم لتقریرہ وتحریرہ باجتھادھم (وانظر) الی ما قدمناہ من قول العلامۃ قاسم ان المجتھدین لم یفقدوا حتی نظروا فی المختلف

فتویٰ  دیں اگر چہ مشائخ نے اس کے بر خلاف فتویٰ  دیا ہو ، حالانکہ کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں او رکچھ نہیں یہاں تامل کی ضرورت ہے ، انتھی ، (کلام رملی ختم ہوا ) علامہ شامی فرماتے ہیں : اس کی توضیح یہ ہے کہ مشائخ کو دلیل امام سے آگاہی حاصل ہوئی ، انھیں علم ہواکہ امام نے کہاں سے فرمایا ، ساتھ ہی اصحاب امام کی دلیل سے بھی وہ آگاہ ہوئے ، اس لیے وہ دلیل اصحاب کو دلیل امام پر ترجیح دیتے ہوئے فتوی دیتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے قول امام سے انحراف اس لیے اختیار فرمایا کہ انھیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔ اس لیے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرات مشائخ نے دلائل قائم کرکے اپنی کتابیں بھر دی ہیں اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوی مثلا امام ابویوسف کے قول پر ہے ۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ دلیل میں نظر کی اہلیت ، نہ تاسیس اصول وتخریج فروع کی شرائط کے حصول میں رتبہ مشائخ تك رسائی ، تو ہمارے ذمہ یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کر دیں اس لیے کہ یہی حضرات مذہب کے ایسے متبع ہیں جنھوں نے اپنے اجتہاد کی قوت سے مذہب کی تقریر وتحریر (اثبات وتوضیح ) کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ قاسم کی عبارت جو ہم پہلے پیش کر آئے ، وہ فرماتے ہیں : مجتہدین پیداہوتے رہے یہاں تك کہ انھوں نے

ورجعوا وصححوا الی ان قال فعلینا اتباع الراجع والعمل بہ کمالو افتوا فی حیاتھم (وفی) فتاوی العلامۃ ابن الشلبی لیس للقاضی ولا للمفتی العدول عن قول الامام الا الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسئلۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ فان حکم فیھا فحکمہ غیر ماض لیس لہ غیرالا نتقاض انتھٰی  [1]  اھ کلامہ فی الرسالۃ۔

وذکر نحوہ فی ردالمحتار من القضاء وزاد فی المعتمدۃ قد یمشون علی غیر مذھب الامام و اذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقہم

مقام اختلاف میں نظر فرما کر ترجیح وتصحیح کا کام سر انجام دیا تو ہمارے اوپر اسی کی پیروی اور اسی پر عمل لا زم ہے جو راجح قرار پایا جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا علامہ ابن شلبی کے فتاوی میں مرقوم ہے کہ : قاضی یا مفتی کو قول امام سےانحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو کہ فتوی امام کے سواکسی اور کے قول پر ہے ۔ تو قاضی کو امام کے سوا دوسرے کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں دوسرے کے قول کو ترجیح نہ دی گئی ہو اور خود امام ابوحنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر ترجیح ہو ، اگر ایسے مسئلہ میں قاضی نے خلاف امام فیصلہ کر دیا تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہو گا بے ثباتی کی وجہ سے آپ ہی ختم ہو جائے گا ۔ انتہی کلام ابن الشلبی اھ رسالہ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اسی طر ح کی بات علامہ شامی نے رد المحتار کتا ب القضاء میں ذکر کی ہے او رمنحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں مزید بر آں یہ بھی لکھا ہے کہ : آپ دیکھتے ہیں کہ متونِ مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے ہیں اور جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق

فنحن نتبعھم اذ ھم اعلم وکیف یقال یجب علینا الافتاء بقول الامام لفقد الشرط وقد اقر انہ قد فقد الشرط ایضا فی حق المشائخ فھل تراھم ارتکبوا منکرا والحاصل ان الانصاف الذی یقبلہ الطبع السلیم ان المفتی فی زماننا ینقل ما اختارہ المشائخ وھو الذی مشی علیہ العلامۃ ابن الشلبی فی فتاواہ حیث قال الاصل ان العمل علی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ولذا ترجع المشائخ دلیلہ فی الاغلب علی دلیل من خالفہ من اصحابہ ویجیبون عما استدل بہ مخالفہ وھذا امارۃ العمل بقولہ وان لم یصرحوا بالفتوی علیہ اذا الترجیع کصریح التصحیح لان المرجوع طائح بمقابلتہ بالراجح وحینئذ فلا یعدل المفتی ولا القاضی عن قولہ الا اذا صرح [2] الی اٰخر

میں شرط ہے ، قول امام کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دینا واجب ہے ا س لئے کہ ہمارے حق میں(قول امام پر افتاکی) شرط مفقود ہے ، حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا



[1]   شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹

[2]   منحۃ الخالق علی بحرا لرائق  کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۶ / ۲۶۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن