30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بات کہ قول مذکور نہ صرف امام اعظم بلکہ ان کے اصحاب سے بھی منقول ہے تو ہاں واقعہ یہی ہے حضرات اصحاب سے بھی اسی طر ح منقول ہے جیسے حضرت امام سے منقول ہے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم، امام کردری کی تصنیف مناقب امام اعظم میں عاصم بن یوسف سے یہ روایت ہے کہ امام اعظم کی مجلس سے زیادہ معزز کوئی مجلس دیکھنے میں نہ آئی ، اور ان کے اصحاب میں زیادہ معزز و بزرگ چار حضرات تھے (۱) زفر (۲) ابو یوسف(۳) عافیہ(۴) اسد بن عمرو(باقی بر صفحہ آئندہ)
فــ ۱ : ١ تطفل علی العلامہ الرملی والشامی
فــ ۲ : تطفل علیہما
یعلم من این قلنا حتی نقل فی السراجیۃ ان ھذا سبب مخالفۃ عصام للامام وکان یفتی بخلاف قولہ کثیرا لانہ لم یعلم الدلیل وکان یظھرلہ دلیل غیرہ فیفتی بہ ، فاقول ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کمافی القنیہ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب
دینا روا نہیں جب تك اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ ہمارا ماخذا ور ہمارے قول کی دلیل کیا ہے ، یہاں تك کہ سراجیہ میں منقول ہے کہ اسی وجہ سے شیخ عصام سے امام اعظم کی مخالفت عمل میں آئی ، ایسا بہت ہو تا کہ وہ قول امام کے بر خلاف فتویٰ دیتے کیونکہ انہیں دلیل امام معلوم نہ ہوتی اور دو سرے کی دلیل ان کے سامنے ظاہر ہوتی تو اسی پر فتویٰ دیتے ، (صاحب بحر فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں یہ شرط حضرات مشائخ کے زمانے میں تھی لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
این قلنا ولا ان یروی عنا شیئا لم یسمعہ منا[1] وفیھا عن ابن جبلۃ سمعت محمدا یقول لایحل لاحد ان یروی عن کتبنا الا ما سمع اویعلم مثل علمنا [2] ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
ان حضرات نے فرمایا : کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا اس وقت تك روا نہیں جب تك اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ہے ، نہ ہی اس کے لئے یہ روا ہے کہ ہم سے کوئی ایسی بات روایت کرے جو ہم سے سنی نہ ہو اسی کتاب میں ابن جبلہ کا یہ بیان مروی ہے کہ میں نے امام محمد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے لئے ہماری کتابوں سے روایت کرنا روا نہیں مگر وہ جو خود اس نے سنا ہو یا وہ جو ہماری طرح علم رکھتا ہو ۱۲منہ (ت)
وان لم نعلم من این قال وعلی ھذا فما صححہ فی الحاوی مبنی علی ذلك الشرط وقد صححوا ان الافتاء بقول الامام فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ لانھم انما افتوا بخلافہ لفقد شرطہ فی حقھم وھوالوقوف علی دلیلہ واما نحن قلنا الافتاء وان لم نقف علی دلیلہ ، وقد وقع للمحقق ابن الھمام فی مواضع الرد علی المشائخ فی الافتاء بقولھما بانہ لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ وھو قوی فی وقت العشاء لکونہ الاحوط وفی تکبیر التشریق فی اٰخر وقتہ الی اٰخرھا ذکرہ فے فتح القدیر ولکن ھو اھل للنظر فی الدلیل ومن لیس باھل للنظر فیہ فعلیہ الافتاء بقول الامام والمراد بالاھلیۃ ھنا ان
تو اب اگرچہ ہمیں قول امام کی دلیل معلوم نہ ہو ، قول امام پر فتوی دینا جائز بلکہ واجب ہے اس تفصیل کے پیش نظر تصیح حاوی کی بنیا د وہی شرط ہے جو حضرات مشائخ کے لئے اس زمانے میں تھی اور اب علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا کہ قول امام پر ہی فتویٰ ہوگا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم پر یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتویٰ دیں اگر چہ مشائخ اس کے پر خلاف فتوی دے چکے ہوں اس لئے کہ اس کے خلاف افتا ئے مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ خود قول اما م پر فتویٰ دینے کے لئے اس کی دلیل سے باخبر ہونے کی جو شرط ان کے حق میں تھی وہ مفقود تھی ( وہ اس کی دلیل سے با خبر نہ ہوسکے اس لئے اس پر فتویٰ نہ دے سکے ) اور ہمارے لئے یہ شرط نہیں ، ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگرچہ ا سکی دلیل سے آگاہی نہ ہو ، او رمحقق ابن ہمام نے تو متعد د جگہ قول صاحبین پر فتویٰ دینے سے متعلق مشائخ پر رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ قول امام سے بجز اس کے اس کی دلیل ضعیف ہو انحراف نہ ہوگا اور وقت عشا سے متعلق قول امام کی دلیل قوی ہے اس لئے کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے ۔ اسی طر ح تکبیر تشریق کے آخری وقت کی تعیین میں بھی قوت دلیل اس طر ف ہے اس کے آگے فتح القدیر میں مزید بھی ہے لیکن امام ابن الہام کو دلیل میں نظر وفکر کی اہلیت حاصل تھی ، جو دلیل میں نظر کی اہلیت نہیں
یکون عارفا ممیزا بین الاقاویل لہ قدرۃ علی ترجیح بعضھا علی بعض [3] ا ھ
وتعقبہ العلامۃ ش فی شرح عقودہ بقولہ لایخفی علیك مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام ولھذا اعترضہ محشیہ الخیر الرملی بان قولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان لم نعلم من این قال مضاد لقول الامام لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا اذھو صریح فی عدم جواز الافتاء بغیر اھل الاجتھاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ فنقول مایصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد انہ قائل بکذا واعتبار ھذا الملحظ تجوز حکایۃ قول غیرالامام فکیف یجب علینا الافتاء بقول الامام وان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع