30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شمس الائمہ سرخسی ، فخرالاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدرالاسلام نے علم حاصل کیا (سیراعلام النبلا) ذہبی نے بیان کیا کہ ان کا وصال ۴۵۶ھ میں بخارا میں ہوا ، اور فخرالاسلام کاوصال ماہِ رجب ۴۸۲ھ میں کش میں ہوا ، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ فخرالاسلام کی پیدائش ۴۰۰ھ کے لگ بھگ ہوئی۔ اس طرح شمس الائمہ کے وصال کے وقت ان کی عمر چھپن ۵۶ (برس) ہوگی۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔ (ت)
میری اس روایت میں اسی طرح ہے اور اسی طرح علامہ طحطاوی اور شامی کی سند اور علامہ شامی کے شیخ کی تحریر میں ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان کی کنیت ابومحمداور نام عبدالله بن محمد ہے ، اور یہی میری دوسری روایت میں واقع ہے جو عزالدین احمد بن مظفر اور عبدالعزیز بخاری (جوپہلی روایت میں مذکور ہیں) سے مروی ہے ، وہ دونوں حافظ الدین بخاری سے ، وہ شمس الائمہ کردری سے ، وہ بدرالائمہ عمرورسکی سے ، وہ امام رکن الدین عبدالرحمن کہانی سے ، وہ فخر القضاۃ ارسابندی سے ، وہ عماد الاسلام عبدالرحیم زوزنی سے ، وہ قاضی امام ابوزیددبوسی سے ، وہ استاد (باقی برصفحہ آئندہ)
ابی حفص البخاری عن ابیہ احمد بن حفص (وھو الامام الشہیر بابی حفص الکبیر) عن الامام الحجۃ ابی عبدالله محمد بن الحسن الشیبانی عن الامام الاعظم ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃ والاسود عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم۔
______________
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابی زید الدبوسی عن الاستاذابی جعفر الاستروشنی عن ابی الحسن علی النسفی عن الامام الفضلی قال اخبرنا الامام ابومحمد عبدالله بن محمد بن یعقوب السبذ مونی الحارثی الخ فلعل لہ کنیتین ابومحمد وابو عبد الله ، و الله تعالٰی اعلم ١٢منہ دام فیضہ
ابوجعفر استروشنی سے ، وہ ابوالحسن علی نسفی سے ، وہ امام فضلی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں امام ابومحمد عبدالله بن محمد بن یعقوب سبذمونی حارثی نے بیان کیا الخ۔ ہوسکتاہے کہ ان کی دوکنیتیں ہوں : (۱) ابومحمد (۲)ابوعبداللہ۔ والله تعالیٰ اعلم۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔ (ت)
اجلَی الاعلام انّ الفتوٰی مطلقًا علی قول الاِمام ۱۳۳۴ھ
(روشن تر آگاہی کہ فتویٰ قولِ امام پر ہے)
فـــ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمد لله الحفی ، علی دینہ الحنفی ، الذی ایدنا بائمۃ یقیمون الاود ، ویدیمون المدد ، باذن الجواد الصمد ، وجعل من بینھم امامنا الاعظم کالقلب فی الجسد ، والصّلوۃ والسلام علی الامام الاعظم للرسل الکرام الذی
ہر ستا ئش خدا کے لئے جو دین حنفی پر نہایت مہربان ہے ، جس نے ہمیں ایسے ائمہ سے قوت دی جو جو د وسخا والے بے نیاز رب کے اذن سے کجی درست کرنے والے او ر ہمیشہ مدد پہنچا نے والے ہیں ، او ران کے درمیان ہمارے امام اعظم کو یوں رکھاجیسے جسم میں قلب کو رکھا ، اور درودو سلام ہو معز ز رسولوں کے امام اعظم پر جن کا یہ
فـــ : رسالہ جلیلہ اس امر کی تحقیق عظیم میں کہ فتوٰی ہمیشہ قول امام پر ہے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگرچہ خلاف پرفتوٰی دیا گیا ہو ، اختلاف زمانہ ضرورت وتعامل وغیرہا جن وجوہ سے قول دیگر پر فتوٰی مانا جاتا ہے وہ درحقیقت قول امام ہی ہوتا ہے ۔
جاء نا حقا من قولہ المأمون ، استفت عـــــہ قلبك وان افتاك المفتون ، وعلیہم وعلی اٰلہ واٰلھم وصحبہ وصحبھم وفئا مہ و
ارشاد گرامی بجا طور پر ہمیں ملا ، کہ اپنے قلب سے فتویٰ دریافت کر اگر چہ مفتیوں کافتویٰ تجھے مل چکا ہے ۔ اور (درود و سلام ہو) ان رسولو ں پر یوں ہی سرکارکے آل واصحاب وجماعت پر اورحضرات رسل کے
عــــہ : جعل الامام الاعظم کالقلب ثم ذکر ھذا الحدیث (استفت قلبك وان افتاك المفتون ، فاکرم بہ من براعۃ استھلال ، والحدیث رواہ الامام [1] احمد والبخاری فی تاریخہ عن وابصۃ بن معبد الجھنی رضی الله تعالی عنہ بسند حسن بلفظ استفت نفسك [2] وروی احمد بسند صحیح عن ابی ثعلبۃ الخشنی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم البر ما سکنت الیہ النفس واطمأن الیہ القلب والاثم مالم تسکن الیہ النفس ولم یطمئن الیہ القلب وان افتاك المفتون [3] ا ھ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع