30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عشر٭من شعبان الخیر والبُشر٭۱۲۸۶ھ ست وثمانین والف ومائتین٭من ھجرۃ سیدالثقلین٭علیہ وعلٰی اٰلہ الصلوات من رب المشرقین٭ولم تتم لی اذا ذاك اربعۃ عشرعا مامن العُمُر٭لان ولادتی عاشر شوالِ ۱۲۷۲ اثنتین وسبعین من سنی الھجرۃ الاطائب الغُر٭فجعلت اُفتی٭ویھدینی قدس سرہ فیما اُخطی٭فبعد سبع سنین اذن لی٭عطر الله تعالٰی مرقدہ النقی العلی٭ان اُفتی واعطی ولا اعرض علیہ٭ولکن لم اجترئ بذلك حتّی قبضہ الرحمٰن الیہ٭سلخ ذی القعدہ عام سبع وتسعین ۱۲۹۷٭فلم الق بالی الی جمع ماافتیت فی تلك السنین٭نحو
نہیں اُن کی حریم اس سے محفوظ رکھی گئی ہے کہ اور اہل زمانہ کے فتوے نقل کرکے گنتی اور کتاب کا حجم بڑھائیں بلکہ اُن میں خود میرے ہی فتوے پورے درج نہ ہوپائے آدھے ہوں گے یاکچھ زیادہ یاتہائی کم ہوگئے اور تہائی بہت ہوتی ہے ، اور اُس کا سبب یہ ہے کہ میرے آقااور والد سایہ رحمت الٰہی ، خاتمہ محققین ، امام مدققین ، فتنوں کے مٹانے والے ، سنتوں کی حمایت فرمانے والے ، ہمارے سردار ومولٰی حضرت مولوی محمدنقی علیخان صاحب قادری برکاتی نے (کہ الله عزوجل اُن کے مرقد کریم پر اب سے ہمیشہ تك اپنی رضا کے مینہ برسائے) مجھے چاردہم شعبان خیروبشارت کو فتوے لکھنے پرمامور فرمایا جب کہ سیّدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ہجرت سے ۱۲۸۶ھ سال تھے اور اس وقت میری عمر کے چودہ برس پورے نہ ہوتے تھے کہ میری پیدائش ہجرت کے پاکیزہ روشن برسوں سے دہم شوال ۱۲۷۲ھ میں ہے تو میں نے فتوے دینا شروع کیا اور جہاں میں غلطی کرتا حضرت قدس سرہ اصلاح فرماتے الله عزوجل اُن کے مرقد پاکیزہ بلند کو معطرفرمائے ، سات برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوے لکھو اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیاکروں ، مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تك کہ رحمن عزوجل نے حضرت والا کوسلخ ذی القعدہ ۱۲۹۷ھ میں اپنے پاس بلالیا تو ان برسوں میں جوفتوے تقریبًا ایك قرن کامل یعنی
اثنتی عشرۃ سنۃ٭قرنا کاملا فی الازمنۃ٭وبعد ذلك ان اتی السؤال من بلاد قریبۃ دانیۃ٭ومما لك بعیدۃقاصیۃ٭عشر مرات فصاعدا٭لم اثبت فی الکتاب الاجوابا واحدا٭الا لفائدۃ٭اوعائدۃ زائدۃ٭اوطروء نسیان٭وقلما یسلم منہ انسان٭ومع فوات الکثیرۃ وروم الاختصار٭قد بلغت الی الان سبع مجلدات کبار٭کل مجلد مابین سبعین٭کُرّاسا کبیرا الٰی ثمانین٭والاٰن ھی فی ازدیاد٭الی مایشاء الکریم الجواد فاستثقل الاحباب حجم المجلدات وجزّؤھا علی اثنی عشر٭ومایرزق المولی من بعد ذٰلك فسیکون ذیلا بعونہ الاکبر٭وسمیتھا بالعطایا النبویۃ٭فی الفتاوی الرضویۃ٭جعلھا الله ٭وسیلۃ لرضاہ٭ونافعۃ فی الدارین لی ولعبادہ٭وجَوداجائدا علٰی جمیع بلادہ٭واھب واھُب المراد قبول القبول٭علیھا وصانھا من کل لدود جھول٭فقد عذت برب الفلق٭من شرماخلق٭ومن شرّحاسد اذاحسد٭ومن ضرحاقداذ احقد٭اللھم من استعاذ بك فقد استعاذ بعظیم٭عزّجارك وجل ثناؤوجہك الکریم٭صل وسلم
بارہ سال تك لکھے اُن کے جمع کرنے کاخیال نہ آیا اور اُس کے بعد پاس پاس کے شہروں اور دُور دراز کے ملکوں سے اگرسوال دس یازیادہ بارآیا توکتاب میں ایك ہی بار کاجواب درج کیا مگر کسی فائدے یازیادہ نفع کے لئے یابھول کر کہ آدمی بھول سے کم خالی ہوتا ہے ، اور باآنکہ اتنے کثیر فتاوے جاتے رہے اور باقیوں میں اس قدر اختصار منظور رہا اب تك میرے فتاوے سات مجلد کبیر تك پہنچ گئے ہرجلدچودہ سوصفحہ کلاں سے سولہ سوکے اندر تك اور ہنوز جہاں تك وہ جُودوکرم والا چاہے افزائش ہی ہے ، پس احباب نے مجلدات کاحجم بھاری دیکھ کر فتاوے کو بارہ جلدوں پر تقسیم کیا اور جو کچھ مولاتعالٰی اس کے بعد عطافرمائے گا وہ اس کی مدد اکبر سے عنقریب ذیل فتاوٰی ہوجائے گا اور میں نے اس کانام العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ رکھا الله اسے اپنی رضاکاوسیلہ بنائے اور دونوں جہان میں مجھے اور اپنے بندوں کو اس سے نفع پہنچائے اور اسے اپنے سب شہروں پرنفع رسانی کے لئے برسنے والے عظیم باران بنائے ، مرادیں دینے والا ، اس پرقبول کی نسیم چلائے اور ہرسخت جاہل جھگڑالوسے اسے بچائے ، اس لئے کہ میں پروردگار صبح کی پناہ میں آیا اس کی تمام مخلوقات کے شر سے حاسد کی برائی سے جب وہ حسد کرے اور کینہ پر ور کے ضرر سے جب وہ کینہ رکھے ، اے اللہ! جس نے تیری پناہ لی اُس نے بڑی عظمت والے کی پناہ لی ، عزّت والا وہ ہے جسے توپناہ بخشے تیرے وجہ کریم کی تعریف کمال بزرگ ہے اس
وبارك علی ھذا الحبیب الرؤوف الرحیم٭وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ واولیائہٖ وعلمائہٖ بالوف التکریم٭واشھد ان لاالٰہ الا الله وحدہ لاشریك لہ٭واشھد ان سیّدنا ومولٰینا محمدًا عبدہ ورسولہ بالھدیٰ ودین الحق ارسلہ٭صلی الله علیہ وسلّم علیہ٭وعلٰی کل من ھو مرضی لدیہ٭$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع