30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اراکینِ ادارہ نے فیصلہ کیا تھا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاویٰ رضویہ مولانا مفتی محمد عبد المنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحیقی انیق کو بھی ہم نےپیش نظر رکھا اور اس سے بھر پور راہنمائی حاصل کی ۔ عام طور پر فقہ و فتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظر و الاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتا ہ اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسوں۲۰ جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیہ پر ہوا تھا لہذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائلِ حظرو اباحۃ کی اشاعت کا آغاز کیا گیا۔ کتاب الحظر والاباحۃ(جوچار جلدوں ۲ ، ۲۲ ، ۲۳ ، ۲۴ پر مشتمل ہے)کی تکمیل کے بعد ابواب مدینات ، اشربہ ، رہن ، قسم ، وصایا اور فرائض پر مشتمل پچیسیوں۲۵ ، چھبیسویں۲۶ جلد منصّہ شہود پر آئی باقی رہے مسائل کلامیہ و دیگر متفرق عنوانات پر مشتمل مباحث و فتاوائے اعلٰحضرت جو فتاویٰ رضویہ قدیم کی جلد نہم و دوازدہم میں غیر مبوّب و غیرمترتب طور پر مندرج ہیں ان کی ترتیب و تبویب اگرچہ آسان کام نہ تھا مگر رب العالمین عزوجل کی توفیق ، رحمۃ اللعالمین صلی الله تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین کی نظر عنایت ، اعلٰحضرت اور مفتی اعظم پاکستانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے روحانی تصرف و کرامت سے راقم حقیر نے یہ گھٹائی بھی عبور کرلی اور کتاب الحظر و الاباحۃ کی طرح ان بکھرےکو ہوئے موتیوں کو ابواب کی لڑی میں پرو کر مرتبط و منضبط کردیا ہے۔ ولله الحمد
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امور کو بطورِ خاص ملحوظ رکھا ہے۔
(ا) ان تمام مسائل کلامیہ و متفرقہ کو کتاب الشتی کا مرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب میں تقسیم کردیا ہے۔
(ب) تبویب میں سوال و استفتاء کا اعتبار کیا گیا ہے نہ کہ جوابات میں مذکور مباحث کا۔
(ج) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہر سوال کو مستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د) مذکورہ بالا دونوں جلدوں (نہم و دواز دہم قدیم) میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق ابواب کے تحت داخل کر دیا ہے۔
(ھ) رسائل کی ابتداء اور انتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(و) کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلحٰضرت کےبعض رسائل جو فتاویٰ رضویہ قدیم میں شامل
نہ ہو سکے تھے ان کو بھی موزوں و مناسب جگہ پر شامل کر دیا گیا ہے۔
(ز) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذا مسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرنا پڑی۔
(ح) کتاب الشّتّٰی میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
یہ خبر آپ کے لئے یقیناً خوش کن ہوگی کہ الحمد لله رضا فاؤنڈیشن کے تحت فتاویٰ رضویہ شریف کی تخریج و ترجمہ کے ساتھ جدید انداز میں اشاعت پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے ، بلا مبالغہ ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تیس جلدوں پر مشتمل یہ دنیا کا ضخیم ترین فتاویٰ ہے۔ یہ بلند فقہی شاہکار مجموعی طور پر ۲۱۹۷۰ صفحات ، ۶۸۴۷ سوالوں کے جوابات اور ۲۰۶ رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں۔
اس عظیم کارنامے کی تکمیل پر رضا فاؤنڈیشن کے بانی اور اس بے مثال اشاعتی منصوبے کا آغاز فرمانے والے مرد کامل استاذنا الکریم مخدوم ملت شیخ الحدیث مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی نورالله مرقدہٍ کی روح پُر فتوح انتہائی مسرور ہو رہی ہوگی ، الله تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور اس عظیم فتاویٰ کی بین الاقوامی اشات جدیدہ کو ان کے لئے قیامت تك صدقہ جاریہ بنائے۔
رضا فاؤنڈیشن سے وابسطہ تمام حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں خصوصاً ادارے کے سرپرست جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مولانہ صاحبزادہ محمد عبدالمصطفےٰ قادری ہزاروی ناظم اعلیٰ جامعہ نظامیہ رضویہ ، فتاویٰ رضویہ کے
مترجمین ، مخیرجین ، مصححین ، کاتب اورناظمِ نشر و اشاعت جگر گوشہ مفتی اعظم مولانا قاری نصیر احمد ہزاروی لائق صد تحسین و تبریك ہیں۔ پروردگار عالم ان تمام حضرات کو اجرِ جزیل و ثوابِ عظیم عطا فرمائے ، آمین بجاہِ سیّد المرسلین۔
نوٹ :
رضا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فتاوی رضویہ کی جلد اول (مطبوعہ مارچ ۱۹۹۰ء)
کا ترجمہ حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی سید شجاعت علی قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبانی دارالعلوم نعیمیہ کراچی نے فرمایا تھا جس میں کافی حد تك اجمال و اختصار کے باعث سقم محسوس کیا گیا ، لہذا حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد مصباحی بھیروی دامت برکاتہم العالیہ ناظم تعلمیات الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے نئے ترجمہ کی درخواست کی گئی اور ترجمہ تفصیلی ہونے کی وجہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع