دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

اقول :  ھذا فــــــ ان تم یصلح                         نہ جائے ، اگر چہ پیشاب جیسی چیز سے وضوجانے کا حکم کیا جائے اس وجہ سے نہیں کہ ان سے یہ حقیقۃً نجس ہے بلکہ ان کی عظمت شان او ر بلندی مرتبت کی وجہ سے خاص ان کے حق میں حکما نجس ہے ان پر ان کے رب رحمن کی طر ف سے دائمی درود و سلام ہو۔ اھ حاشیہ ختم

پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں پہلے تو اس پر جز م کیا کہ کسی چیز سے انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا وضو نہ جاتا پھر کچھ ویسا ہی کلام ذکر کیا جو میں نے لکھا ، وہ فرماتے ہیں اس میں بعض ماہرین نے بحث کی ہے کہ جب ناقض حقیقی متحقق ناقض نہیں تو حکمی متوہم بدرجہ اولی نہ ہوگا علاوہ ازیں مبسوط کی عبارت صریح نہیں اگر چہ مان بھی لی جائے تو اس پر محمول ہوگی کہ وہ ایك روایت ہے اھ اور انہوں نے درمختار کے حاشیہ میں اس پر اعتماد کیا ہے جس پر ابو السعود گئے ، لکھتے ہیں ، “ اور ظاہر یہ ہے کہ اغما وغشی بذات خود حدث ہیں اس ظن ریح کے با عث نہیں جس سے یہ دونوں خالی نہیں ہوتے ورنہ ان حضرات کے حق میں یہ دونوں بھی  ناقض نہ ہوتے ۔ اھ “

اقول یہ کلام اگر تام ہو تو بعض ماہرین

 

فــــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط ۔

جوابا عن بحث بعض الحذاق لکن فــــ۱ الذی علیہ کلمات العلماء عدھما کالنوم من النواقض الحکمیۃ وھو مفاد الھدایۃ حیث علل الاغماء بالاسترخاء ونقل العلامہ ش عن ابن عبد الرزاق عن المواھب اللدنیۃ نبہ السبکی علی ان اغماء ھم فــــ۲ علیھم الصلاۃ والسلام یخالف اغماء غیرھم وانما ھو عن غلبۃ الاوجاع للحواس الظاھرۃ دون القلب وقد ورد تنام اعینھم لاقلوبھم فاذا حفظت قلوبھم من النوم الذی ھو اخف من الاغماء فمنہ بالاولی [1]  اھ وبہ یتجہ البحث۔  

قلت والعجب فــــ۳ ان السید ط ذکرہ ھذا الاستظھار عاد فاورد البحث ثم قال ھذا ینا فی ما ذکرہ الملا علی القاری فی شرح الشفاء من الاجماع

کی اس بحث کا جواب ہوسکتا ہے - لیکن کلمات علماء جس پر ہیں وہ یہی ہے کہ ان دونوں کا شمار نواقض حکمیہ میں ہے یہی ہدایہ کا بھی مفاد ہے اس لئے کہ اغما کے ناقض ہونے کی علت -استر خا بتا ئی علامہ شامی نے ابن عبدالرزاق کے حوالے سے مواہب لدنیہ سے نقل کیا ہے کہ علامہ سبکی نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کو غش آنا دوسروں کے بر خلاف ہے ان کا اغما قلب پر نہیں بلکہ صرف حواس ظاہر ہ پر درد وتکلیف کے غلبہ سے ہوتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتے تو جب ان کے قلب اغما سے ہلکی چیز نیند سے محفوظ رکھے گئے تو اغما سے بدرجہ اولی محفوظ ہوں گے اھ اس سے اس بحث کی وجہ اور دلیل ظاہر ہوجاتی ہے ۔

قلت عجب یہ کہ سید طحطاوی اس استظہار کے بعد پلٹ کر پھر وہی بحث لائے ، پھر کہا : “ یہ اس کے منافی ہے جو ملا علی قاری نے شرح شفا میں بیان کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ حضور

 

فـــــ۱ : مسئلہ : غشی وبیہوشی سے وضو جاتا ہے مگر یہ خود ناقض وضو نہیں بلکہ اسی ظن خروج ریح وغیرہ کے سبب سے ۔

فــــ۲ : غشی انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے جسم ظاہری پر بھی طاری ہوسکتی دل مبارك اس حالت میں بھی بیدار وخبر دار رہتا ۔

فــــ۳ :  معروضۃ اخری علی العلامۃ ط

علی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی نواقض الوضوء کالامۃ الا ماصح من استثناء النوم لانہ کان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تنام عیناہ ولا ینام قلبہ وقد حکی فی الشفاء قولین بالطھارۃ والنجاسۃ فی الحدثین منہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [2]  اھ۔

اقول :  والقول الفصل عندی ان لانقض منھم صلی الله تعالٰی علیھم وسلم بالنوم والغشی ونحوھما مما یحکم فیہ بالحدث لمکان الغفلۃ ،  واما النواقض الحقیقیۃ منافتنقض منھم ایضا صلوات الله تعالٰی علیھم وسلامہ علیھم لالانھا نجسۃ کلا بل ھی فــــــ طاھرۃ بل طیبۃ حلال الاکل والشرب لنا من نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کما دل علیہ غیر ماحدیث بل لانھا نجاسۃ فی حقہم صلی الله

 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنواقض وضو کے حکم میں امت کی طر ح ہیں مگر نیند کااستثنا ء بطریق صحیح ثابت ہے کیونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہ سوتا -اور شفا میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دونوں حدث سے متعلق دونوں قول طہارت اور نجاست کے حکایت کئے ہیں اھ۔

اقول : میرے نزدیك قول فیصل یہ ہے کہ نیند ، غشی اور ان دونوں جیسی چیز یں جن میں جائے غفلت کے باعث حدث کا حکم ہوتا ہے ایسی چیزوں سے انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا وضو نہ جاتا ، لیکن ہمارے حق میں جونواقض حقیقیہ ہیں وہ ان حضرات صلوات الله تعالی و سلامہ علیہم کے حق میں بھی ناقض ہیں اس وجہ سے نہیں کہ نجس ہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ طاہر بلکہ طیب ہیں ہمارے لئے اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ان کا کھانا پینا حلال ہے ، جیسا کہ متعد د حدیثوں سے ثابت ہے ، بلکہ اس لئے ناقض ہیں کہ ان چیزوں کے لئے ان حضرات کے

 



[1]   ردالمحتار   کتاب الطہارۃ   مطلب نوم الانبیاء غیر ناقض  دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۷

[2]   حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار  کتاب الطہارۃ   المکتبۃ العربیہ کوئٹہ  ۱ / ۸۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن