30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر یہ صورت واقع ہوجائے تو تجدید وضو کرلے کیونکہ یہ ایك نادر صورت ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم احتیاط پر عمل کرلیں ، احتیاط کامعنی یہ کہ یقینی طور پر عہد بر آہوجائیں اگر چہ حقیقت احتیاط یہی ہے کہ قوی تر دلیل پر عمل ہو۔
پھر اس جزئیہ سے صاحب حلیہ کا ذہن اس طر ف گیا کہ استرخا کا سبب خود پاؤں لٹکانا ہے اس طر ح کہ وہ فرماتے ہیں ، اس پر قیاس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی جانور کے پالان پر سوار ہو کر دونوں جانب سے دونوں پاؤں لٹکالئے ، جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں تو وضو ٹوٹ جائے اور یہ غیر ظاہرہے الخ۔
قلت میرے نسخہ حلیہ میں اسی طر ح ہے اور یہ نسخہ بہت سقیم ہے ، ظاہر یہ ہے کہ عبارت اس طر ح ہوگی ، فادلی رجلیہ من احد
ھو الذی یفعلہ البعض دون العامۃ وھو المشابہ للا دلاء فی التنویر فسقط لفظ احد من قلم الناسخ۔
اقول : لکن یرد علیہ ان فـــ۱ الادلاء ان کان سببہ فالادلاء من الجانبین اولٰی لزیادۃ انفراج یحصل بہ فی المقعدۃ مع ان المصرح بہ فی الخانیۃ نفسھا والکتب قاطبۃ انہ ان نام علی ظھر الدابۃ فی سرج اواکاف لاینتقض وضوؤہ لعدم استرخاء المفاصل [1] ۔ اھ
وثانیا قد قال فـــ۲ فی الخلاصۃ وغیرھا ان نام متربعا لاینقض الوضوء وکذا لونام متورکا وھو ان یبسط قدمیہ عن جانب ویلصق الیتیہ بالارض [2] اھ
فلا یدخل الادلاء المذکور
الجانبین ، ایك جانب سے اپنے دونوں پاؤں لٹکائے ، اس لئے کہ اکثر کے بر خلاف بعض لوگ اسی طر ح کرتے ہیں اور یہی تنور میں پاؤں لٹکائے کے مشابہ بھی ہے تو کاتب کے قلم سے لفظ “ احد “ چھوٹ گیا ہے ۔
اقول : لیکن اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں اول اگر استرخاکا سبب پاؤں لٹکانا ہے تو دو نوں جانب سے پاؤں لٹکانا بدرجہ اولی اس کا سبب ہوگا اس لئے کہ اس سے مقعد کو زیادہ کشادگی مل جاتی ہے باوجودیکہ خود خانیہ میں اور تمام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ اگر جانور کی پشت پر زین یا پالان میں سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ استرخائے مفاصل نہ ہوگا (جوڑ ڈھیلے نہ پڑیں گے )اھ
دوم خلاصہ وغیرہا میں ہے اگر چار زانو بیٹھ کر سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اسی طر ح اگر بطور تو رك بیٹھ کر سوگیا ، تورك کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں ایك طرف کو پھیلا دے اور سر ینوں کو زمین سے ملادے اھ۔
تو کیا تنور میں پاؤں لٹکانے کی مذکورہ صورت
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فـــ۲ : تطفل اٰخر علیھا۔
فی ھذا التفسیر بل ھو امکن للمقعدۃ من بسط القدمین علی محل مستوکما لایخفی۔
بل الوجہ عندی ان المراد تنورحام فیہ شیئ من الجمرات اوبقیۃ من حرارۃ الایقاد کما اومأت الیہ فان الحر یوجب الارخاء ولذا عبروا بالتنور دون الکرسی مع کون الجلوس علی التنور بھذا الوجہ فی غایۃ الندور علی الکرسی معھود مشہور والله تعالٰی اعلم۔
الخامسۃ النوم فـــ۱ لیس بنفسہ حدثا بل لما عسی ان یخرج وعلیہ العامۃ بل حکی فی التوشیح الاتفاق علیہ وھو الحق لحدیث ان العین وکاء السہ [3] ولذا لم ینتقض فـــ۲ وضوؤہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالنوم
اس صورت میں داخل نہ ہوگی بلکہ اس میں مقعد کو زیادہ قرار ہوگا بہ نسبت اس کے کہ دونوں پاؤں کسی ہموار جگہ پھیلا ئے جائیں ، جیسا کہ واضح ہے ۔
بلکہ میرے نزدیك وجہ یہ ہے کہ مراد ایسا گرم تنور ہے جس میں کچھ انگارے ہیں یا بھڑ کانے سے جو گرمی پیدا ہوئی تھی کچھ باقی رہ گئی ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا اس لئے کہ گرمی اعضامیں ڈھیلا پن لانے کا سبب ہوتی ہے اسی لئے تنور سے تعبیر کی گئی ہے کرسی سے تعبیر نہ ہوئی باوجود یکہ تنور پر اس اندازسے بیٹھنا انتہائی نادر ہے اور کرسی پر بیٹھنا معروف ومشہور ہے والله تعالی اعلم
افادہ خامسہ۵ : نیند بذات خود حدث نہیں بلکہ خروج ریح کا گمان غالب ہونے کی وجہ سے حدث ہے اسی پر عامہ علماء ہیں بلکہ تو شیح میں اس پر اجماع واتفاق کی حکایت کی ہے او ریہی حق ہے اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ مقعد کا بندھن ہے اسی لئے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وضو نیند سے نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع