دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

بل اقول :  وبالله التوفیق مسئلۃ التنور لاتلتئم علی ھذا ایضا لان تحقیق فـــ۲ ھذا القول علی ماالھمنی ذوالطول ان الحالات ثلث وذلك ان نفس وجود الاسترخاء لازم النوم مطلقًا ثم یبقی معہ بعض الاستمساك  

کمال استرخاء کی صورت میں مانع صرف یہی ہوگی بخلاف اس کے جو قیام یا رکوع یا سنت طریقہ پر سجدہ کی حالت میں ہو تو یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس تقریر پر تو مطلقًا ہر نیند ناقض وضو ہوگی ، اوریہ ہمارے اجماع کے بر خلاف ہے ۔

لیکن میں کہتاہوں کمال استرخا گمان خروج کی جگہ ہے او رمقعد کا استقرار منع خروج کے گمان کی جگہ ہے اس لئے دو نوں میں تعارض ہوگا اور شك سے نقض کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ دافع کی اتنی قوت کا استقرار اس کی مقاومت نہ کرسکے کثر ت کی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اس کو غالب واکثر شمار کر لیاجائے اور جائے گمان کا ثبوت غالب واکثر ہونے ہی سے ہوتا ہے اور جو بھی ہو مذہب اور جمہور اہل ترجیح کے مخالف ہونا ہی اس کی بات کی کافی علامت ہے کہ وہ حجت بننے کے قابل نہیں ، ۔

بلکہ میں کہتا ہوں اور تو فیق خداہی کی طر ف سے ہے-- تنور کا مسئلہ اس سے بھی موافقت نہیں رکھتا -- اس کے لئے اس قول کی تحقیق-- جیسا کہ رب کریم نے میرے دل میں القا کی -- -یہ ہے کہ تین حالتیں ہوتی ہیں وہ یوں کہ نفس استرخاء تو نیند کے لئے مطلقًا لازم ہے پھر استرخاء کے ساتھ کچھ بندش باقی رہتی ہے

 

فـــ۱ :  تطفل علی الفتح۔

فـــ۲ : تحقیق مناط النقض بالنوم علی مختارالھدایۃ۔

مالم یستغرق فاما غالبا کالنوم قائما او راکعا اوعلی ھیاۃ السنۃ ساجدا فان بقاء ہ علی تلك الھیات دلیل واضح علی غلبۃ الاستمساك اومغلوبا کالنوم قاعدا او راکبا وینتفی اصلا فی صورۃ الاضطجاع والاسترخاء  و نحوھما فالاول لاینقض مطلقًا والثالث ینقض من دون فصل ومنہ المتکیئ الی مالو ازیل سقط لان عدم سقوطہ لیس لبقاء شیئ من المسکۃ فیہ بل للسند کمیت یسند الی شیئ والثانی یفصل فیہ فان کان متمکن المقعدۃ لم ینقض لان التمکن یعارض غلبۃ الاسترخاء والانقض والنوم علی راس التنور جالسا متمکنا مدلیا من القسم الثانی قطعا دون الثالث اذلو انتفی التماسك لسقط بل کون الجلوس علی راس وطیس حام ربما یوجب تیقظ القلب اکثر مما لو کان حیث لامخافۃ فی السقوط فیکون التمکن مانعا للنقض وھو الموافق للضابطۃ ۔

ولکن ھیبۃ تلك الکتب الکبار کانت تقعد فی عن الاجتراء علی انکارھذا الفرع حتی رأیت الامام ابن امیر الحاج الحلبی رحمہ الله تعالٰی اوردہ فی        

جب تك کہ استغراق نہ ہو ، اب یہ بندش یا تو غالب ہوتی ہے جیسے قیام یا رکوع یاسنت طریقہ پر سجدہ کی حالتوں میں سونا کیونکہ سونے والے کا ان حالتوں پر بر قرار رہنا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ بندش غالب ہے ---یا یہ بندش مغلوب ہوتی ہے جیسے بیٹھے ہوئے یا سوار ہونے کی حالت میں سونا اور کروٹ لیٹنے ، چت لیٹنے اور ان دونوں جیسی صورتوں میں بندش بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے پہلی صورت مطلقًا ناقض نہیں ، اور تیسری صورت بغیرکسی تفصیل کے ناقض ہے اور اسی قسم میں وہ شخص داخل کیاجائے تو وہ گرپڑے ، کیونکہ اس کا نہ گرنابندش کے باقی رہ جانے کے باعث نہیں بلکہ محض ٹیك کی وجہ سے ہے جیسے مردے کو سہارے سے کھڑا کردیا جائے ، اور دوسری صورت میں تفصیل ہے اگر مقعد کو پوری طر ح جماؤ حاصل ہے تو ناقض نہیں اس لئے کہ استقرار غلبہ استرخاء کے معارض ہے ، اور ایسا نہ ہو تو ناقض ہے ، اورتنور کے کنارے بیٹھ کر اس میں پیر لٹکائے استقرار مقعد کے ساتھ سونا قطعا قسم دوم سے ہے قسم سوم سے نہیں اس لئے کہ بندش اگر ختم ہوجاتی تو گر جاتا بلکہ گرم تنور کے سرے پر بیٹھنا ایسی جگہ سے زیادہ بیدار قلبی کا موجب ہے جہاں گرنے کا اندیشہ نہ ہو تو بہ استقرار نقض وضو سے مانع ہوگا یہی ضابطہ کے مطابق ہے ۔

لیکن ان بڑی بڑی کتابوں کی ہیت اس جزئیہ کے انکار کی جسارت سے مجھے روکتی تھی یہاں تك کہ میں نے امام ابن امیر الحاج حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دیکھا کہ حلیہ میں یہ جزئیہ خانیہ سے نقل کیا

الحلیۃ عن الخانیۃ ثم قال وھو غیر ظاھر بل الاشبہ عدم النقض لان مظنۃ الحدث من النوم مایتحقق معہ الاسترخاء علی وجہ الکمال والظاھر عدم وجود ذلك والا لسقط لفرض عدم المانع من استناد اوغیرہ [1]  اھ ومع ذلك احببت ان یجدد الوضوء ان وقع ذلك لانھا صورۃ نادرۃ فلا علینا ان نعمل فیھا بالاحتیاط بمعنی الخروج عن العہدۃ بیقین وان کان حقیقۃ الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔

ثم الذی سبق منہ الی ذھن الحلیۃ ان سبب الاسترخاء نفس الادلاء حیث قال فالقیاس علی ھذا یفید انہ لورکب علی اکاف علی الدابۃ فادلی رجلیہ من الجانبین کما یفعلہ بعضھم انہ ینقض وھو غیر ظاھر [2]  الخ

قلت ھکذا فی نسختی وھی سقیمۃ جدا والظاھر فادلی رجلیہ من احد الجانبین لان ھذا

 پھر لکھا ، یہ غیر ظاہرہے بلکہ اشبہ ناقض نہ ہونا ہے اس لئے کہ مظنہ حدث (گمان حدث کا محل) وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخاء کامل طور پر متحقق ہو او ر ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخامتحقق نہ ہوگا ورنہ گرجائے گا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ ٹیك لگانا یا اس طر ح کا اور کوئی مانع نہیں ہے ، اھ اس کے باوجود میں نے پسندیہ کیا کہ



[1]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[2]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن