30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائے گا اور وہ بناء کرسکے گا ( نماز جہاں سے رہ گئی تھی وہیں سے پوری کرلے گا ) تو بلا قصدسونا بناء سے بالاتفاق مانع نہیں خواہ وضوٹوٹ جائے یا نہ ٹوٹے ، بخلاف قصدا سونے کے اھ ، ملخصا ۔
اقول : یہ عبارت بآ واز بلند ناطق ہے کہ ان کی مشی امام ابو یوسف کی روایت پر ہے ، دیکھئے انھوں نے قصدا سونے کو مطلقًاناقض وضو قرار دیا ہے او ریہ معتمد مختار ، ظاہر الروایہ کے خلاف ہے جیسا کہ محشی وشارح نے پہلے بیان کیا اور ہم اسے محیط کی تصحیح کے ساتھ نقل کر چکے تو علامہ شامی کو یہاں آکر اس پر اعتماد نہ کرنا تھا لیکن پاکی ہے اسی کے لئے جسے نسیان نہیں۔
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
الرابعۃ : مسألۃ فــــ التنورف مذکورۃ فی الخانیۃ وھی الاصل وعنہا نقل فی خزانۃ المفتین والہندیۃ وایاھا تبع فی الخلاصۃ والخلاصۃ فی البزازیۃ وعن الخلاصۃ اثر فی البحر قال الامام قاضی خان رحمہ الله تعالٰی ان نام علی راس التنور وھو جالس قد ادلٰی رجلیہ کان حدثا لان ذلك سبب لاسترخاء المفاصل [1] اھ
وقد قدمنا انھا لاتلتئم علی الضابطۃ المؤیدۃ بالحدیث والقیاس الصحیح۔
قلت : ولم ارلھا ما اشدھا بہ الاشیاء ابداہ المحقق فی الفتح توجیہا لمسألۃ مخالفۃ لظاھر الروایۃ واختیار الجمھور وھی مسألۃ المستند الی مالوازیل سقط حیث قال ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ عدم النقض بھذا الاستناد ما دامت المقعدۃ مستمسکۃ للا من من الخروج و الانتقاض افادہ رابعہ۴ : مسئلہ تنور خانیہ میں مذکورہے ، خانیہ ہی اصل ہے اسی سے خزانۃ المفتین اور ہندیہ میں نقل ہے اسی کی پیروی خلاصہ میں ہے اور خلاصہ کی پیروی بزازیہ میں ہے اور خلاصہ ہی سے البحر الرائق میں نقل کیا ہے ،
امام قاضی خاں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا ، اگر تنور کے کنارے میں بیٹھا اس میں پاؤ ں لٹکائے سوگیا تو وضو جاتارہے گا اس لئے کہ یہ جوڑوں کے ڈھیلے پڑجانے کا سبب ہوتا ہے اھ۔
اورہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث اور قیاس صحیح سے تائید یافتہ ضابطے کے بر خلاف ہے ۔
قلت اس کی موافقت میں مجھے کوئی ایسی بات نہ ملی جس سے اس کو تقویت دے سکوں مگر ایك بات جو حضرت محقق نے فتح القدیر میں ظاہر الروایہ اور اختیار جمہور کے مخالف ایك مسئلہ کی تو جیہ میں پیش کی ہے وہ مسئلہ اس کی نیند سے متعلق ہے جو ایسی چیز کی طر ح ٹیك لگائے ہوئے ہے کہ اگر وہ ہٹادی جائے تو گر جائے ، وہ لکھتے ہیں ، امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول ظاہر مذہب یہی ہے کہ اس ٹیك لگانے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تك مقعد
فــــ : تحقیق مسئلۃ النوم علٰی رأس التنّور۔
مختار الطحاوی واختارہ المصنّف والقدوری لان مناط النقض الحدث لاعین النوم فلما خفی بالنوم ادیر الحکم علی ماینتھض مظنۃ لہ ولذا لم ینقض نوم القائم والراکع والساجد ونقض فی المضطجع لان المظنۃ منہ مایتحقق معہ الاسترخاء علی الکمال وھو فی المضطجع لافیھا وقد وجد فی ھذا النوع من الاستناد اذ لا یمسکہ الا السند وتمکن المقعدۃ مع غایۃ الاسترخاء لایمنع الخروج اذقد یکون الدافع قویا خصوصا فی زماننا لکثرۃ الاکل فلا یمنعہ الامسکۃ الیقظۃ [2] اھ واقرہ الحلبی فی الغنیۃ۔
اقول : وقولہ لایمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ای عند وجود جمی ہوئی رہے اس لئے کہ خروج ریح سے بے خوفی ہوگی اور اس سے وضو ٹوٹ جانے کا حکم امام طحاوی کا مختار ہے اسی کو مصنف اور امام قدوری نے اختیار کیا اس لئے کہ وضو ٹوٹنے کا مدار حدث پر ہے خود نیند پر نہیں چونکہ نیند کی وجہ سے حدث مخفی رہ جائے گا اس لئے حکم کا مدار اس پر رکھا گیا جو وجود حدث کے گمان غالب کا موقع بن سکے ، اسی لئے قیام ، رکوع او رسجود والے کی نیند ناقض ہے ۔ اس لئے کہ گمان حدث کا محل وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور یہ کروٹ لیٹنے والے کی نیند میں ہوتا ہے ، ان سب میں نہیں ہوتا اور استرخاء اس طر ح ٹیك لگانے کی صورت میں بھی موجود ہے اس لئے کہ صرف ٹیك نے اس کو روك رکھا ہے اور کمال استرخاء ہوتے ہوئے مقعد کا مستقر ہونا خروج ریح سے مانع نہیں اس لئے کہ ہمارے زمانے میں ، کیوں کہ کھانا زیادہ کھایا کرتے ہیں تو اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بندش ہی ہوگی اھ-- اس کلام کو حلبی نے بھی غنیہ میں بر قرار رکھا ۔
اقول : ان کے قول اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بند ش ہی ہوگی ، کا معنی یہ ہے
نھایۃ الاسترخاء بخلاف القائم والراکع و الساجد علی ھیاۃ السنۃ فلا یرد ان ھذا التقریر یوجب النقض بالنوم مطلقًا وھو خلاف ما اجمعنا علیہ۔
لکنی اقـول : کمال فــــ۱ الاسترخاء مظنۃ الخروج وتمکن المقعدۃ مظنۃ منعہ فیتعارضان ولا یثبت النقض بالشك ولا نسلم ان قوۃ الدافع بحیث لایقاومہ التمکن بلغ من الکثرۃ مایعدبہ غالبا ولامظنۃ الابالغلبۃ وکیفما کان فمخالفتہ للمذھب ولجمھور اھل الاختیار عَلَم کاف علی تقاعدہ عن الحجیۃ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع