30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فیشمل العمد والغلبۃ وکذلک
کرتے ہیں تو قصدا سونا اور نیند کے غلبہ سے سوجانا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الحدث یتوضا ویبنی ولو تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل الصّلٰوۃ ھکذا حکی عن مشائخنا اھ فراجع المنقول ولا تغتربما اطلقہ ھنا[1] اھ
اقول : اولا فـــ۱ اذا اختلف التصحیح فای اغترار فی الاقتصار علی احد القولین ۔ وثانیا فـــ۲ مسئلۃ الجوھرۃ فی انتقاض الوضوء والکلام ھنا فی فساد الصلوۃ والانتقاض لایستلزم الفساد اذا لم یکن ھناك تعمد ۔ وثالثا فرع فــــ۳ المحیط لیس فیہ الفساد للنوم بانفرادہ بل لانضمام التعمد علی ھیات الحدث فما ھذہ الایرادت من مثل المحقق السامی والاعتماد علیہا من العلامۃا لشامی و بالله التو فیق ۱۲منہ حفظہ ربہ جل وعلا۔
جیسے بلا اختیار حدث ہو گیا وہ وضو کرے گا اور بناء کرے گا (نماز جہاں سے چھوٹی تھی وہیں سے پوری کرے گا) اور اگر نماز میں قصدًا کروٹ لیتا تو اُسے وضو کر کے از سر نو پڑھنا ہے ۔ ہمارے مشائخ سے ایسا ہی حکایت کیا گیا اھ تو منقول کی طرف رجوع کرو اور اس سے فریب خوردہ نہ ہو جو یہاں مطلق رکھا ہے اھ۔
اقول : اولا جب اختلاف تصحیح ہے تو ایك قول پر اکتفاء میں فر یب خورد گی کیا ؟
ثانیا مسئلہ جو ہر ہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ہے اور یہاں پر فسادنماز کے بارے میں کلام ہے اور ٹوٹنا اس کو مستلزم نہیں کہ نماز بھی فاسد ہو جب کہ قصدا وضو توڑنے کی صورت نہ ہو۔
ثالثا محیط کے جزئیہ میں تنہا نیند سے فساد نماز نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ نیند کے ساتھ ہیات حدث کا قصدا ارتکاب بھی ہوگیا ہے پھر ایسے بلند محقق سے یہ اعتراض کیسے ؟ اور ان پر علامہ شامی کا اعتماد کیسا ؟ وبالله التوفیق ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (ت)
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وش ، فــــ۲ : تطفل اخر علیھما ، فــــ۳ : تطفل ثالث علیھما
سکوتھم قاطبۃ عن عد تعمد النوم فی المفسدات دلیل علی ذلك لاسیما المتاخرین الذین جنحوانحو الا ستیعاب مھماحضرکالدر المختار ومراقی الفلاح نعم یفسد اذا تعمدہ علی ھیاۃ یکون بھا حدثا وھم قد ذکروا فی المفسدات تعمد الحدث فقد ترجح ماجزم بہ ھؤلاء الجلۃ علی ما فی جامع الفقہ ان النوم فی الرکوع والسجود لاینقض الوضوء ولو تعمدہ ولکن تفسدصلاتہ کما نقلہ فی البحر [2] عن شرح منظومۃ ابن وھبان واعتمدہ ش ۔
جئنا علی مااستدرك بہ ش علی العلامۃ العلائی قال فی الدر یتعین الاستیناف لجنون اوحدث عمدا و احتلام بنوم [3] الخ قال الشامی افادان النوم بنفسہ غیر مفسد لکن ھذا اذا کان غیر عمد لمافی حاشیۃ
دونوں ہی اس میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح تعمد نوم کو مفسدات نماز میں شمار کرانے سے ان تمام اہل متون کا سکوت بھی اس پر دلیل ہے خصوصا متا خرین کا سکوت جن کا میلان اس طر ح ہوتاہے کہ جتنی صورتیں بھی مستحضر ہوں سب کا استیعاب اور احاطہ کرلیں جیسے درمختار اور مراقی الفلاح ، ہاں نیند مفسد اس وقت ہے جب ایسی ہیات پر قصدا سوئے جس پر سونا حدث ہے اور مفسدات نماز میں تعمد حدث مذکور ہے تو ترجیح اسی کو ملی جس پر ان بزرگوں کا جز م ہے جیسا کہ جامع الفقہ میں ہے ، رکوع وسجود میں سونا ناقض وضو نہیں اگر چہ قصدا سوئے لیکن اس کی نماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ اسے بحر میں منظومہ ابن وہبان کی شرح سے نقل کیا ہے اور علامہ شامی نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔
اب ہم اس پر آئے جو علامہ شامی نے علامہ علائی پر استدارك کیا ہے درمختار میں فرمایا ، از سر نوپڑھنا متعین ہے جنون کے با عث یا قصدا حدث کی وجہ سے نیند میں احتلام کے سبب الخ ۔ اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں ، افادہ ہو اکہ نیند کچھ مفسد نہیں لیکن یہ اس وقت ہے جب نیند بلا قصد ہو اس لئے کہ حاشیہ
نوح افندی النوم اما عمدا ولا فالاول ینقض الوضوء ویمنع البناء والثانی قسمان مالا ینقض ولایمنع البناء کالنوم قائما او راکعا او ساجدا وما ینقض الوضوء ولا یمنع البناء کالمریض اذا صلی مضطجعا فنام ینتقض وضوؤہ علی الصحیح ولہ البناء فغیر العمد لایمنع البناء اتفاقا سواء نقض الوضوء اولا بخلاف العمد اھ ملخصا [4] اھ
اقـول : ھذافــــ ناطق بملأفیہ انہ ماش علی الروایۃ عن ابی یوسف الا تری انہ جعل نوم العمد مطلقًا ناقض الوضوء وھذا خلاف ظاھر الروایۃ المعتمد المختارۃ کما قدم المحشی والشارح وقدمنا نقلہ مع تصحیح المحیط فما کان للعلامۃ ان یعتمد ھذا ھھنا سبحٰن من لاینسی۔ علامہ نوح آفندی میں ہے ، سونا یا تو قصدا ہوگا یا بلا قصد اول ناقض وضو اور مانع بناء ہے ثانی کی دو قسمیں ہیں ، ایك وہ جو نہ ناقض وضو ہے نہ مانع بناء جیسے قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونا ، دوسری وہ جو ناقض وضو ہے مانع بناء نہیں ہے ، جیسے مریض کر وٹ لیٹ کر نماز پرھتے ہوئے سوجائے تو صحیح قول پر اس کا وضو ٹوٹ
[1] منحۃ الخالق علی بحر الرائق کتاب الصلوۃ باب الحدث فی الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۲
[2] البحرالرائق بحوالہ جامع الفقہ کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
[3] الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۷
[4] رد المحتار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۰۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع