30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے فساد نماز لازم ، لہذا جب بھی اول ہوگا ثانی ہوگا اورثانی کا اول پر حمل اس لحاظ سے بجا ہے اور برعکس صورت نہ یہاں ہے نہ ہوسکتی ہے ۱۲ م )
ثانیًا کلام اس میں ہے کہ قصدًا سونے سے نماز فاسد ہوجائے گی اور جو صورت ذکر کی ہے اس میں فسادِنماز کا سبب یہ نہیں بلکہ کامل ایك رکعت کی زیادتی ہے----اور کلام خانیہ کوامام ثانی کی روایت پرمحمول کرنا اسے مستلزم نہیں کہ کوئی نماز کسی شئی سے اس وقت تك فاسد ہی نہ ہو جب تك وضو نہ ٹوٹ جائے ۔ محقق بحر اسے خوب سمجھتے ہیں اس نکتے سے غافل نہیں ---یہ ذہن نشین رہے۔
اور منحۃ الخالق میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ خانیہ میں جو فسا د مذکور ہے وہ نقض وضو پر مبنی ہے اس لئے کہ اُنہوں نے رکوع وسجود کے درمیان فرق رکھا ہے ۔ اس میں غور کرو اھ۔
اقول : دونوں فاضلوں پر خدا رحم فرمائے۔ سوال اور جواب دونوں پردوں کے پیچھے سے ہو رہے ہیں ---اس لئے کہ قاضی خا ن نواقض وضو کے بیان میں اس سے وضو ٹوٹنے کی تصریح فر ما چکے ہیں ۔ ان کی عبارت جیسا کہ
فـــ ۱ : تطفل اخر علیہما ۔
فـــ۲ : تطفل ثالث علیھما ۔
النوم فی قیامہ اورکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم [1] اھ
والوجہ ان الفساد فی التعمد وانتقاض الوضوء متلازمان فایھما اثبت اثبت الاٰخر وایھما نفی نفی الاٰخر ولذا اقتصر فی الخانیۃ ھھنا اعنی فی مفسدات الصلٰوۃ علی فساد الصلاۃ وعدمہ ولم یتعرض للوضوء وثمہ ای فی نواقض الوضوء ذکرھما معافی السجود واقتصر علی ذکر عدم النقض فی الرکوع ولم یتعرض لعدم الفساد فاتی فی کل باب بما یحتاج الیہ وکیفما کان فقد صرح باجلی تصریح ان تعمد النوم لیس ممایفسد الصلٰوۃ مطلقًا وکذلك الخلاصۃ وعلیہ مشی الفتح والحلیۃ وعنہ تکلم البحر۔
اقول : وھو قضیۃ اطلاق المتون قاطبۃ فانھم یذکرون گزری اس طرح ہے : “ اگر سجدے میں قصدًا سویا تو اس کی طہارت ٹوٹ جائے گی اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی اور اگر قیام یا رکوع میں قصدًا سویا تو حضرات ائمہ کے قول پر اس کی طہارت نہ جائے گی ۔ “ اھ
وجہ یہ ہے کہ تعمد کی صورت میں فسادِنماز اور وضو ٹوٹنا دونوں ایك دوسرے کو لازم ہیں تو ایك کے اثبات اور ایك کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو جائے گی اسی لئے خانیہ نے یہاں بمعنی مفسداتِ نماز کے بیان میں صرف نماز کے فساد وعدمِ فساد کے ذکر پر اکتفا کی اور بیان وضو سے تعرض نہ کیا ---اور وہاں یعنی نواقض وضو میں سجود کے تحت دونوں کو ذکر کیا اور رکوع کے تحت عدمِ نقض کے ذکر پر اکتفا کی عدمِ فساد سے تعرض نہ کیا--تو ہر باب میں جس قدر حاجت تھی اس قدر بیان کردیا --اور جو بھی ہو اس بات کی تو روشن تصریح فرمادی کہ قصدًا سونا مطلقًا مفسدِنماز نہیں --اسی طرح صاحب خلاصہ نے بھی ذکر کیا ۔ اور اسی پر صاحبِ فتح القدیر اور صاحب حلیہ بھی چلے --اور اسی سے متعلق بحر نے بھی گفتگو کی ---
اقول : یہی سارے متون کا بھی مقتضا ہے ---اس لئے ارباب متون
من صور الحدث الذی یمنع البناء مااذا جن اونام فاحتلم او اغمی علیہ فیفیدون ان النوم بمفردہ لیس بحدث ولا مانع للبناء مطلقًا والالم یحتج الی ضم الاحتلام قال فی العنایۃ ثم البحر انما قال او نام فاحتلم لان النوم بانفرادہ لیس بمفسد عـــــہ الخ[2] ثم ھم یرسلونہ ارسالا
مانع بنا حدث کی صورتوں میں سے یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب مجنون ہو جائے یا سو جائے تو احتلام ہوجائے یا بیہوش ہوجا ئے (تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز از سر نو پڑھنی ہو گی جہاں چھوٹی اس کے آگے نہیں پڑھ سکتا )اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ نیند تنہا حدث اور مطلقًا مانع بنا نہیں ورنہ نیند کے ساتھ احتلام کو ملانے کی کوئی ضرورت نہ تھی ---عنایہ پھر بحر میں ہے : “ نام فاحتلم سوئے تو احتلام ہو جائے “ کہا اس لئے کہ تنہا نیند مفسدِنماز نہیں اھ ۔ پھر یہ حضرات نیند کو مطلق ذکر
عـــــہ : اعترضہ العلامۃ خیر الدین رملی کما نقل عنہ فی المنحۃ بانہ ذکر فی التتارخانیۃ اقوالا واختلاف تصحیح فی المسألۃ وکذلك ذکر فی الجوھرۃ فی نوم المضطجع والمریض فی الصلاۃ اختلافا والصحیح انہ ینقض وبہ ناخذ وفی التتارخانیۃ عن المحیط فی النوم مضطجعا الحال لا یخلو ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی حالۃ نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ
اس پرعلامہ خیر الدین رملی کا یہ اعتراض ہے جیسا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان سے نقل کیا ہے کہ : تاتار خانیہ میں اس مسئلہ کے تحت چند اقوال اور اختلاف تصحیح کا ذکرہے--- اسی طرح جوہرہ میں نماز کے اندر کروٹ لینے والے اور بیمار کی نیند سے متعلق اختلاف کا ذکر ہے اور یہ کہ صحیح ناقض ہونا ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں--- اور تاتارخانیہ میں محیط کے حوالے سے کروٹ لیٹ کر سونے سے متعلق ہے کہ اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے اسے نیند آگئی پھر سو نے ہی کی حالت میں وہ کروٹ لیٹ گیا تو ایسا ہی ہے (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع