دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

مطلقًا نہ جائے ۔ اور کلام خانیہ کو امام ابو یوسف کی روایت پر محمول کرنا چاہئے اھ بحر کی عبارت ہلالین کے درمیان اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔

البحر الرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں علامہ شامی فرماتے ہیں امام ابو یوسف کی روایت جو پہلے مذکور ہوئی یہ ہے کہ نماز میں قصدا سوناناقض وضو ہے اسی طر ح فتح میں منقول ہے یہ روایت جیسا کہ سامنے ہے ، حالت سجدہ سے مقید نہیں ، غور کرو ، پھر میں نے غایۃ البیان میں یہ عبارت دیکھی ، امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے “ املا “ میں مروی ہے کہ سجدہ میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے (بلا قصد) سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اھ ، اس روایت کی بنیاد پر کلام خانیہ کو اس پرمحمول کرنے کی بات کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے اور اس صورت میں امام ابو یوسف سے سابقا جو روایت بلفظ فی الصلوۃ ( نماز میں قصدا سونا ناقض ہے ) منقول ہوئی اس میں “ نماز میں “ سے مراد “ صرف سجدہ نماز میں “ ہوگا تو اسے سمجھئے اھ

اقول : اولا مقید کے بارے میں حکم ،

 

فـــ :  معروضۃ اخری علیہ

لاینافی الحکم فی المطلق کما افادہ فی الفتح لاجرم ان ذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورك فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ و روی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی انہ قال سالت ابا حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النوم فی الصّلاۃ فقال لاینقض الوضوء ولا ادری سالتہ عن العمد او عن الغلبۃ وعندی انہ ان نام متعمدا انتقض وضوؤہ [1]  قال فی البدائع وجہ روایۃ ابی یوسف ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع والسجود ان یکون حدثا لکونہ سببا لوجود الحدث الا اناترکنا القیاس لضرورۃ التہجد نظر ا للمجتہدین وذلك عند الغلبۃ دون

مطلق کے بارے میں حکم کے منافی نہیں جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا (توہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دونوں روایت ہو ، خاص سجدہ میں قصدا سونا ناقض ہے او ریہ بھی کہ اندرون نماز کسی بھی رکن میں سونا ناقض ہے ۱۲م) یہی وجہ ہے کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا ہے کہ اندرون نماز کروٹ لیٹنے اور سرین پر ٹیك دے کر لیٹنے کے علاوہ حالت میں سونا حدث نہیں خواہ نیند کے غلبہ سے سوگیا ہو یا قصدا سویا ہو ظاہر الروایہ میں یہی ہے ، اور امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے امام ابو حنیفہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اندرون نماز نیند کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا ناقض وضو نہیں ، میں نہیں جانتا کہ ان سے میں نے قصدا سونے کے بارے میں پوچھا تھا یانیند کے غلبہ سے سونے کے بارے میں پوچھا تھا اور میرے نزدیك یہ حکم ہے کہ اگر قصدا سویا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ،  بدائع میں کہا کہ روایت امام ابو یوسف کی وجہ یہ ہے کہ قیام ، رکوع اور سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے اس لئے کہ یہ وجود حدث کا سبب ہے لیکن ہم نے تہجد گزاروں کا لحاظ کرتے ہوئے ضرورت تہجد کے باعث قیاس ترك کردیا اور یہ ضرورت غلبہ نوم ہی کی صورت میں ہے قصدا

التعمد [2]  اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ھذا یفید اطلاقہ انہ ینتقض عند ابی یوسف بالنوم راکعا اذا تعمدہ [3]  اھ ای وکذا قائما۔

اقول :  انما فــــ۱ الاطلاق فی تحفۃ الفقہاء اما فی البدائع فتنصیص صریح لقولہ ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع الخ فافادان ابا یوسف عمل فی جمیعہا بالقیاس عند العمد والعالم ربما یسأل عن صورۃ خاصۃ فیجیب فتأتی الروایۃ عنہ مقیدۃ بصورۃ السؤال مع ان الحکم مطلق عندہ عرف ھذا من مارس الفقہ وعن فــــ۲ ھذا قلنا ان المطلق یحمل علی اطلاقہ وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الی التقیید ضرورۃ۔

سونے میں نہیں اھ حلیہ میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا : اس کے اطلاق سے یہی مستفاد ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیك قصدا رکوع کی حالت میں سونے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اھ۔ مقصد یہ ہے کہ یوں ہی قیام میں بھی۔

اقول :  اطلاق صرف تحفۃ الفقہاء میں ہے ۔ بدائع میں تو صاف تصریح ہے قیام ، رکوع ، سجود ، کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے جس سے یہ افادہ فرمایا کہ امام ابو یوسف قصد کی صورت میں تمام ہی حالتوں میں قیاس پر عامل ہیں ۔ اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عالم سے کوئی خاص صورت پوچھی جاتی ہے وہ اس کے بارے میں جواب دے دیتا ہے تو اس کے حوالے سے روایت صورت سوال کے ساتھ مقید ہوکر نقل ہوتی ہے حالاں کہ اس کے نزدیك حکم مطلق ہوتا ہے ۔ فقہ کی مما رست اور مشغولیت والا اس سے اچھی طرح آشنا ہے ۔ اسی لئے ہم اس کے قائل ہیں کہ مطلق اپنے اطلاق پرمحمول ہوگا اگرچہ حکم اور معاملہ ایك ہی ہو ، جب تك تقیید کی جانب کوئی ضرورت داعی نہ ہو۔

 

فــــ۱ :  تطفل علی الحلیۃ۔

فــــ۲ :  المطلق یحمل علی اطلاقہ و ان اتحد الحکم و الحادثۃ الا بضرورۃ

 



[1]   بدائع الصنائع   کتاب الطہارۃ  فصل واما بیان ما ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۵۲

[2]   بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل واما بیان ما ینقض الوضوء   دار الکتب العلمیہ بیروت  ۱ / ۲۵۳ 

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن