دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

افادہ ثالثہ۳ : نماز میں قصدا سونا مطلقًا مفسد نما زنہیں بلکہ صرف اس صورت میں جب وہ ناقض وضو ہو جیسا کہ ہم نے اس پر تنبیہ کی اور

 

فــــ۱  :  اجراء العلۃ المنصوصۃ لایختص بالمجتہد۔

فـــــ۲ :   تحقیق مسئلۃ تعمد النوم فی الصلوۃ۔

عن الخانیۃ انہ ان تعمد النوم فی رکوعہ لاتفسد [1]  وفی الخلاصۃ لو نام فی رکوعہ اوسجودہ جازت صلاتہ لکن لایعتدبھما واعادھما اذالم یتعمد ذلك فان تعمد تفسد صلاتہ فی السجود دون الرکوع [2]  اھ واسلفنا عن الفتح ان مبناہ علی زوال المسکۃ فی السجود فلو سجد متجافیا ونام عامدا لم تفسد صلاتہ واثرہ فی الحلیۃ فاقرہ ونقلہ فی البحر و زاد علیہ انھا لاتفسد ولو غیر متجاف وذلك لما اختار ان النوم فی السجود المشروع لاینقض الوضوء مطلقًا ولو علی غیر ھیاۃ السنۃ فسجود غیر المتجافی ایضا لما لم یکن النوم فیہ حدثا عندہ لم یجعل تعمدہ فیہ مفسدا۔

ولنقص عبارۃ البحر لیکون تذکیرا لما عبر وتمہید الماغبر                                          

خانیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ اگر رکوع میں قصد ا سوئے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور خلاصہ میں ہے : اگر رکوع یا سجدے میں سوجائے تو اس کی نماز ہوجائے گی ، لیکن اس رکوع وسجود کا شمار نہ ہوگا اور ان کا اعادہ کرنا ہوگا ، یہ اس وقت ہے جب قصدا نہ سویا ہو اگر قصدا سویا تو سجدے میں ایساسونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ اور سابقہ ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے نقل کیا کہ اس کی بنیاد سجدے میں بندش کھل جانے پر ہے تو اگر کر وٹیں جدا رکھ کر سجدہ کیا اور قصدا سوگیا تو نماز فاسد نہ ہوگی اسے حلیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے اور بحر میں اسے نقل کر کے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ “ اگر کروٹیں جدا نہ ہوں تو بھی نماز فاسد نہ ہو گی “ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے یہ اختیار کیا ہے کہ سجدہ مشروع میں سونا مطلقًا ناقض وضو نہیں اگرچہ طریقہ سنت کے بر خلاف ہو ، تو سجدہ میں کروٹیں جدا نہ رکھنے والے کا سونا بھی چوں کہ ان کے نزدیك ناقض وضو نہیں اس لئے انہوں نے اس کے بالقصد سونے کو مفسد نماز قرار نہ دیا ۔

ہم عبارت بحر کا پورا قصہ بتا تے ہیں تاکہ سابق کی یاددہائی بھی ہوجائے اور باقی مباحث

قال رحمۃ الله تعالٰی واطلق فی الھدایۃ الصلاۃ (قلت یرید النوم فیھا فتجوز بحذف المضاف وبہ یسقط فـــ اعتراض المنحۃ علی البحر فیما تابع ھو فیہ الفتح قال البحر) فشمل ماکان عن تعمد وما عن غلبۃ وعن ابی یوسف اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض والمختار الاول وفی فصل مایفسد الصلٰوۃ من فتاوی قاضی خان لونام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد لاتفسد وان تعمد فسدت فی السجود دون الرکوع اھ کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظر ان یفصل فی السجود ان کان متجافیا لاتفسد والا تفسد کذا فی الفتح القدیر  ،  وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ( ان النوم فی السجود المشروع لاینقض مطلقًا ولو غیر متجاف) ان لا ینتقض بالنوم فی السجود                                                                                                                                                                                                                                   

کی تمہید بھی صاحب بحر فرماتے ہیں (ہلالین میں صاحب فتاوی رضویہ کا اضافہ ہے ۱۲م) “ ہدایہ میں نماز کو مطلق رکھا ہے “ (قلت ان کی مراد یہ ہے کہ نماز میں نیند کو مطلق رکھا ہے تو مضاف حذف کر کے مجاز حذف کا طریقہ اپنایا ہے اس تو ضیح سے منحۃ الخالق کاوہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو البحر الرائق پر فتح القدیر کی متابعت کے معاملہ میں کیا ہے بحر میں آگے فرمایا) تو یہ اس نیند کو بھی شامل ہے جو قصدا ہو اور اسے بھی جو نیند کے غلبہ کی وجہ سے ہو اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ نماز میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور مختار اول ہے اور فتاوی قاضی خان میں مفسدات نماز کی فصل میں ہے اگر رکوع یا سجدے میں سوگیا تو بلا قصد سونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا سویا تو سجدہ میں سونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ شاید یہ تفریق اس بناء پر ہے کہ رکوع میں بندش باقی ہوگی اور سجدے میں نہ ہوگی اور نظر کا تقاضایہ ہے کہ سجدے میں تفصیل کی جائے کہ اگر کر وٹیں جدا ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی ورنہ فاسد ہوجائے گی ایسا ہی فتح القدیر میں ہے او رکہا جاتا ہے کہ جو قول اصح پہلے گزرا (کہ مشروع سجدہ میں سونا مطلقًا ناقض نہیں اگر چہ کروٹیں جدا ہوں ) اس کا تقاضایہ ہے کہ سجدہ میں سونے سے وضو

 

فـــ  : معروضۃ علی العلامۃ ش۔

مطلقًا وینبغی حمل مافی الخانیۃ علی روایۃ ابی یوسف [3]  اھ ما فی البحر مزید ا مابین الاھلۃ ۔

قال فی منحۃ الخالق الذی تقدم من روایۃ ابی یوسف انہ اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض وکذا فی الفتح وھی کما تری غیر مقیدۃ بالسجود تأمل ثم رأیت فی غایۃ البیان مانصّہ وروی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی فی الاملاء انہ اذا تعمد النوم فی السجود ینقض وان غلبت عیناہ لاینقض اھ وبہ یترجح الحمل المذکور ویکون المراد حینئذ مما تقدم من قول فی الصلاۃ ای فی سجودھا فقط فافھم [4]  اھ

اقول :  اولا فــــ الحکم فی المقید

 



[1]   فتاوی قاضی خان  کتاب الطہارۃ  فصل فی النوم  نولکشور لکھنو  ۱ / ۲۰

[2]   خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوۃ  الفصل الثالث عشر  مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ  ۱ / ۱۳۲

[3]   البحرالرائق  کتاب الطہارۃ   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱ / ۳۸

[4]   منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱ / ۳۸ و ۳۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن