30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قلت و راجعت ثلث نسخ من الکتاب فلم ارہ ذکر فی کتاب السنۃ شیئا من ھذا والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
عـــہ۱ : (۱) حدیث یونس بن متی(۲) حدیث ابن عمر دربارہ نماز(۳) حدیث القضاۃ ثلاثۃ(۴) حدیث ابن عباس ، مجھ سے پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی جن میں عمر بھی ہیں ، اور ان میں میرے نزدیك سب سے زیادہ پسند یدہ عمر ہی ہیں اھ ابو داؤد(۱۲م۔ ت)
عـــہ۲ : حکایت کرنے والے امام زیلعی مخرج حدیث ہیں کہ ابوداؤد نے یہ بات کتاب السنۃ میں ذکر کی ہے اس حدیث کے تحت کہ کسی بندے کو یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں
قلت میں نے ابوداؤد کے تین نسخے دیکھے کسی میں نہ پایا کہ انہوں نے کتاب السنۃ میں اس سے کچھ ذکر کیا ہو۔ والله تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)
فیہ فـــ مع انھا لم تقبل من الذین عــــہ ھم
بارے میں ان کے اقوال بھی مضطرب ہیں اورایسی شہادت
فــــ : لم تقبل شہادۃ نفی سماع ابن اسحق من فاطمۃ بن المنذر من ائمۃ اجلۃ ۔
عـــہ : ھم ھشام بن عروۃ وامام دارالھجرۃ مالك بن انس و الامام وھب بن جریر والامام یحیی بن سعید القطان اخرج ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابو داؤد سلیمان بن داؤد قال قال یحیی القطان اشہد ان محمد بن اسحق کذاب قلت وما یدریك قال قال لی وھب فقلت لوھب مایدریك قال لی مالك بن انس فقلت لمالك وما یدریك قال قال لی ھشام بن عروہ قلت لھشام بن عروۃ وما یدریك قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وما راھا رجل حتی لقیت الله تعالٰی [1] حاول التفصی عند الذھبی فی المیزان فقال وما یدری ھشام بن عروۃ فلعلہ
عـــہ : وہ حضرات یہ ہیں (۱) ہشام بن عروہ(۲) امام دارا لہجرۃ مالك بن انس (۳) وہب بن جریر (۴) امام یحیی بن سعید قطان ، ابن عدی نے ابو بشر دولابی اور محمد بن جعفر بن یزید سے روایت کی ہے وہ ابوقلابہ رقاشی سے روای ہیں انہوں نے کہا مجھ سے ابو داؤد سلیمان بن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی قطان نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم ؟ کہا مجھ کو وہب نے بتایا اب میں نے وہب سے کہا آپ کو کیسے معلوم؟ انہوں نے کہا مجھے مالك بن انس نے بتایا میں نے مالك سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ؟ انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا میں نے ہشام بن عروہ سے دریافت کیا آپ کو کیسے معلوم ؟ انہوں نے کہا : اس نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے حدیث روایت کی ، جب کہ وہ میرے یہاں نوسال کی عمر میں لائی گئی او رکسی مرد نے اسے دیکھا نہیں یہاں تك کہ وہ خدا کو پیاری ہوئی اس جرح سے چھٹکارے کی کوشش کرتے ہوئے میزان الاعتدال میں ذہبی نے کہا ہشام بن عروہ کو کیا پتہ ، ہوسکتا ہے ابن اسحق (باقی برصفحہ آئندہ)
اکبر واکثرمع کونھا مھم اکد عـــہ واظہر وذلك فی روایۃابن اسحٰق عن امرأۃ ھشام بن عروۃ فلیس غایتہ الا الارسال فکان ماذا فان المرسل مقبول عندنا وعند الجمھور مع انا فی غنی عن النظر فیہ فقداحتج بہ اصحابنا
ان لوگو ں سے قبول نہ کی گئی جو ان سے بزرگ اور تعداد میں ان سے زیادہ ہیں جب کہ ان کی شہادت بھی ان سے زیادہ موکد اورزیادہ ظاہر ہے دوسری بات یہ کہ اگر تسلیم بھی کر لی جائے تو اس کامدعا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حدیث مرسل ہے تو اس سے کیا ہوا ؟ حدیث مرسل ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیك مقبول ہے باوجودیکہ ہمیں اس حدیث (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سمع منہا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیہا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا الخ[2] وقد ضعفنا اعتذارہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین مع ان المحقق عندنا ایضًا ھو توثیق ابن اسحاق وبذل الامام البخاری جہدہ فی الذب عنہ اذ اتی بحدیث القراء ۃ خلف الامام وان لم یرض بالاخراج لہ فی صحیحہ المسند ۱۲منہ۔ (م)
عـــــہ : اکد للفظ اشھد واظہر لان الانسان بحال امرأتہ المخدرۃ اعلم۱۲منہ۔
نے ان کی بیوی سے مسجد میں سنا ہو ، یا ان سے اپنے بچپن میں سنا ہو ، یا ان کے پاس گئے ہوں تو انہوں نے پردہ کی اوٹ سے حدیث سنائی ہو ، تو اس میں کیا بات ہے الخ ، ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین میں ذہبی کا یہ اعتذار ضعیف قرار دیا ہے باوجودیکہ ہمارے نزدیك بھی تحقیق یہی ہے کہ ابن اسحاق ثقہ ہیں اور امام بخاری نے ان کے دفاع میں پوری کوشش صرف کی ہے جہا ں جزء القراء ۃ میں قرأت خلف الامام کی حدیث ان سے روایت کی ہے اگر چہ اپنی صحیح مسند میں ان کی روایت لانا پسند نہ کیا ہو ۱۲منہ (ت)
عـــــہ : زیادہ موکد اس لئے کہ اس میں لفظ اشھد (میں شہادت دیتا ہو ں) ہے اور زیادہ ظاہر اس لئے کہ آدمی اپنی پردہ نشین بیوی کے حال سے زیادہ با خبر ہوگا ۱۲منہ(ت)
وقبلوہ من غیر نکیر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع