30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و قال فی الھدایۃ ھوالصحیح [1] وقال فی العنایۃ الذی صححہ وھو ظاھر الروایۃ [2] وانما نسب العنایۃ وکتب اُخر الفرق الی ابن شجاع بل فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ابی الحسین القدوری انہ قال فیما عن ابن شجاع انہ اذا نام خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الساجد ینقض وضوؤہ ھذا قولہ ولم یقل بہ احد من اصحابنا [3] اھ
وفی ھذا مایکفینا للخروج عن عھدتہ ولله الحمد۔
درمیان عدم فرق کو ہی ظاہر مذہب قرار دیا حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے کہ یہی مشہور ہے اوراسی میں بدائع کے حوالے سے ہے کہ اسی پر عامہ علماء ہیں اسی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ وہی اصح ہے ہدایہ میں فرمایا ہے کہ وہی صحیح ہے عنایہ میں فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے جسے صحیح کہا وہی ظاہر الروایہ ہے عنایہ اور دوسری کتابوں میں نماز بیرون نماز کی تفریق ابن شجاع کی جانب منسوب ہے بلکہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام ابو الحسین قدوری سے منقول ہے کہ انہوں نے ابن شجاع سے مروی اس مسئلہ سے متعلق کہ جب سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائیگا ، یہ فرمایا کہ یہ ابن شجاع کا اپنا قول ہے ہمارے اصحاب میں سے کوئی اس کا قائل نہیں اھ اس تصریح میں اس قول سے ہماری سبکدوشی کے لئے سب کچھ موجود ہے ، ولله الحمد۔
فاستبان ان القول الاول ھو المحتظی بصریح التصحیح۔
الرابع ھو الاقوی من حیث الدلیل اعلم انہ اذقد تحقق ان القول الاول علیہ الاکثر وعلیہ المتون ولہ التصحیح ولو کان بعض ھذہ لمساغ لمثلی ان یتکلم عن الدلیل فکیف وقد اجتمعت۔
فالان اقول : وبحول ربی احول اخرج الائمۃ احمد وابو داؤد والترمذی وابو بکر بن ابی شیبۃ فی مصنّفہ والطبرانی فی المعجم الکبیر والدار قطنی والبیہقی فی سننھما من طریق ابی خالد یزید بن عبدالرحمٰن الدالانی عن قتادۃ عن ابی العالیۃ عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما انہ رأی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نام وھو ساجد حتی غط او نفخ ثم قام یصلی فقلت یارسول الله انك قدنمت قال ان الوضوء لایجب الا علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ھذا لفظ الترمذی [4]
تو یہ واضح وروشن ہوگیا کہ قول اول ہی صریح تصحیح سے بہرہ ور ہے ۔ وجہ چہارم : دلیل کے لحاظ سے بھی قول اول ہی زیادہ قوی ہے واضح ہو کہ جب یہ تحقیق ہوگئی کہ قول اول ہی پر اکثر ہیں اسی پر متون ہیں اسی کی تصحیح ہے اور اگر ان باتوں میں سے ایك بھی ہوتی تو مجھ جیسے شخص کے لئے دلیل سے متعلق کلام کا جوا ز ہوجاتا پھر جب یہ سب جمع ہیں تو مجھے یہ حق کیوں نہ ہوگا ۔
تو اب میں کہتا ہوں اور اپنے ر ب ہی کی قدرت سے حرکت میں آتاہوں ، امام احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ، طبرانی معجم کبیر میں ، دار قطنی اور بیہقی اپنی اپنی سنن میں بطریق ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دالانی قتادہ سے وہ ابو العالیہ سے وہ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ہیں کہ انہوں نے دیکھا نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سجدے میں نیند آئی یہاں تك کہ سونے میں دہن مبارك یا بینی مبارك کی آواز آئی پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، تومیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو تو نیند آگئی تھی ، فرمایا وضو واجب نہیں ہوتا مگر اسی پر جو کروٹ لیٹ کر سوجائے اس لئے کہ جب وہ کروٹ لیٹے گاتو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ، یہ ترمذی کے الفاظ ہیں ۔
وفی لفظ لاحمدان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال لیس علی من نام ساجدا وضوء حتی یضطجع فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ [5]ولابی داؤد انما الوضوء علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ[6]
وللدار قطنی لاوضو علی من نام قاعدا انما الوضو علی من نام مضطجعا فان نام مضطجعا استرخت مفاصلہ اھ[7] وللبہیقی لایجب الوضوء علی من نام جالسا اوقائما اوساجدا حتی یضع جنبہ فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ [8] وذکر المحقق فی الفتح حدیثا اٰخر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ فیہ مھدی بن ھلال واخر عن ابن عباس
امام احمد کی ایك روایت کے الفاط یہ ہیں کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ، جو سجدے کی حالت میں سوجائے اس پر وضو نہیں یہاں تك کہ کروٹ لیٹے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں وضو اسی پر ہے جو کروٹ لیٹ کر سوجائے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ،
[1] الہدایۃ ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰
[2] العنایۃ شر ح الہدایۃ علے ہامش فتح القدیر ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
[3] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[4] سنن الترمذی ، ابواب الطہارۃ ، باب جاء فی الوضوء من النوم ، الحدیث ۷۷ ، دار الفکر بیروت ، ۱ / ۱۳۵
[5] مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۵۶
[6] سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء من النوم آفتا ب علم پریس لاہور ۱ / ۲۷
[7] سنن الدرا قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۵ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۷۶
[8] السنن الکبری کتاب الطہارۃ باب ورد فی نوم المساجد دارصادر بیروت ۱ / ۱۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع