30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذہن میں راسخ ہوجاتا جس نے خود تبین الحقائق ( للامام الزیلعی) کی مراجعت نہ کی ہو آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں ) ماھو القیاس کی طر ف راجع نہ ہونے کی تائید ان کی اگلی عبارت مقتضی الاصح المتقدم الخ سے بھی ہوتی ہے اور اسی سے مولف کی جانب اس سہوکا انتساب ساقط ہوجاتا ہے جو نہر میں ذکر کیا ہے اھ
فـــ : معروضۃ خامسۃ علیہ
اقول : کل کلامہ رحمہ الله تعالٰی مبتن علی انہ فھم فھم النھر رجوع الضمیر الی ماھو القیاس وقد علمت انہ غیر الواقع الا تری الی قولہ بل فی عقدالفرائد ولو کان کما فھمتم لقال نعم فی عقدالفرائد لکن فــــ ارشدتم الی وجہ اٰخر شید مبانی ایراد النھر فان البحر ذکر بعدہ مسألۃ تعمد النوم فی الصلاۃ وان ابا یوسف یقول فیہ بالنقض والمختار لاوان قاضی خان فصّل فجعلہ ناقضافی السجود دون الرکوع وان المحقق فی الفتح حملہ علی سجود لم یتجاف فیہ ثم قال البحر وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لاینتقض بالنوم فی السجود مطلقًا [1] اھ ای سواء کان متجافیا اولا فقد
اقول : علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے سارے کلام کی بنیاد اس پر ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ صاحب نہر نے ضمیر کا مرجع ماھوا لقیاس کو سمجھا ہے اور واضح ہوچکا کہ واقعہ ایسا نہیں صاحب نہر کے الفاظ دیکھئے وہ لکھتے ہیں بل فی عقد الفرائد (بلکہ عقد الفرائد میں ہے) کہ اندرون نماز سجدہ کر نے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیت پر ہو ) اگر ان کے فہم میں وہ ہوتا جو ان سے متعلق آپ نے سمجھا تو وہ یوں کہتے نعم فی عقد الفرائد (ہاں عقد الفرائد میں ایسا ہے) لیکن آپ نے تو ایك دوسرے ہی رخ کی رہنمائی فرمائی جس نے صاحب نہر کے اعتراض کی بنیادیں اور زیادہ مضبوط کردیں ، اس لئے کہ صاحب بحر نے اس کے بعد نماز کے اندر قصدا سونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ امام ابویوسف ایسی نیند کے ناقض وضو ہونے کے قائل ہیں اور مختار یہ ہے کہ ناقض نہیں ، اور یہ کہ امام قاضی خان نے تفصیل کی ہے انہوں نے اس نیند کو سجدے میں ناقض قرار دیا ہے اور رکوع میں نہیں اور یہ کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسے ایسے سجدے پر محمول کیا ہے جس میں کروٹیں جدا نہ ہو ں اس کے بعد صاحب بحر نے فرمایا ہے
فــــ : معروضۃ سادسۃ علیہ
افصح انہ جعل الاطلاق فی الصّلاۃ ھو الاصح فظھرانہ رحمہ الله تعالٰی اراد بالضمیر قولہ ترکناہ فیہا بالنص کما کان ھو اقرب المتبادر وایاہ فھم فی النھر وحینئذ ھو سھو لاریب فیہ ۔
وبالجملۃ تصحیح الزیلعی کالبدائع لامساس لہ بمخالفۃ مانرتضیہ ا ماما ذکر فی الخانیۃ ان النقض مطلقًا فی السجود خارج الصلاۃ ظاھر الروایۃ [2] وقدمہ وھو فـــ یقدم الاظھر الاشھر وعبر عن قول التفصیل بالھیاۃ بقیل فافاد ضعفہ فاعلم انہ قال ذلك ولم یوافق علیہ بل جعل فی الخلاصۃ ظاھر المذھب
“ وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقًا اھ “
کہا جاتا ہے کہ اصح متقدم کا تقاضایہ ہے کہ مطلقًا سجدہ میں نیند سے وضو نہ ٹوٹے ، یعنی کروٹیں جدا ہوں یا نہ ہوں اس نے تو اسے صاف واضح کردیا کہ نماز میں اطلاق ہی اصح ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ صاحب بحر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ضمیر سے اپنا قول “ ترکناہ فیھا بالنص نماز میں اس قیاس کو ہم نے نص کی وجہ سے ترك کردیا “ مراد لیاہے جیسا کہ قریب تر اور متبادر یہی تھا اور اسی کو صاحب نہر نے سمجھا بھی ایسی صورت میں تو بلا شبہ یہ سہو ہے ۔
بالجملہ بدائع کی طر ح تصحیح زیلعی کو بھی ہمارے پسند کردہ قول کی مخالفت سے کوئی مس نہیں لیکن وہ جو خانیہ میں مذکور ہے کہ بیرون نماز کے سجدے میں مطلقًا ناقض ہونا ظاہر الروایہ ہے اور امام قاضی خاں نے اسی کو مقدم کیا ہے اوروہ اظہر اشہر ہی کو مقدم کرتے ہیں ، اور تفصیل والے قول کو انہوں نے قیل سے تعبیر کر کے اس کے ضعف کاافادہ کیا ہے تو واضح ہو کہ انہوں نے یہ کہا ہے مگر اس پر ان کی موافقت نہ ہو ئی بلکہ خلاصہ میں نماز اور بیرون نماز کے
فـــ : الامام قاضی خان انما یقدم الاظھر الاشھر ای اذا لم یصرح بتصحیح غیرہ۔
عدم الفرق فی الصلاۃ وخارجہا[3] وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ انہ المشہور [4] وفیھا عن البدائع ان علیہ العامۃ [5] وفیھا عن التحفہ انہ الاصح [6]
[1] البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
[2] فتاویٰ قاضی خان کتاب الطھارۃ فصل النوم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
[3] خلاصۃ الفتاوی ، کتاب الطہارات ، الفصل الثالث فی نواقض الوضوء ، امام النوم مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۸
[4] رد المحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الطہارۃ ، بحث نواقض الوضوء ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
[5] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[6] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع