30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گردش کرر ہی ہیں جو ہم سابقہ صفحات میں نقل کر آئے ہیں کیوں کہ صاحب حلیہ نے شروع سے آخرتك بنائے کار کمال استر خاموجود ومعلوم ہونے پر رکھی ہے اور اندرون نماز نیند کے مسائل
بقولہ والعلۃ المعقولۃ زوال المسکۃ کمامر۔
الـثالث لہ صریح التصحیح کما اسلفنا عن المنحۃ عن النھر عن عقد الفرائد عن المحیط انہ الصحیح وعن الصغیری انہ المعتمد وقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر نقلا عن منح الغفار شرح تنویر الابصار للمصنف انہ قال فی الملتقی وشرحہ للمؤلف لاینقضہ نوم قائم اوقاعد اوراکع اوساجد علی ھیاۃ السجود المعتبرۃ شرعا فی الصلاۃ اوخارجہا علی المعتمد [1] اھ
والاقــوال الباقیۃ لم ارشیئا منھا ذیل بتصحیح صریح وانما علینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم
اما قول البحر المار فی القول الرابع بعد ذکرہ کلام البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح [2]۔
کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے : اور عقلی علت بندش کا کھل جانا ہے جیسا کہ یہ عبارت گزرچکی ہے ۔
وجہ سوم ، صریح تصحیح اسی قول کی ہے جیسا کہ منحۃ الخالق سے ، اس میں نہر سے ، اس میں عقد الفرائد سے ، اس میں محیط سے نقل گزری کہ “ یہی صحیح ہے “ اور صغیر ی کا حوالہ گزرا کہ “ وہی معتمد ہے “ اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں منح الغفار شرح تنویر الابصار (اورمصنف تنویر ) کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ، ملتقی اور اس کے مولف کی شرح میں ہے کہ ناقض وضو نہیں اس کی نیند جو حالت قیام میں ہو یا سجدہ کی حالت میں سجدہ کی شرعا معتبر ہیات پر ہو نماز میں یا بیرون نماز ، بر قول معتمد اھ
باقی اقوال میں سے کسی کے ذیل میں صریح تصحیح میں نے نہ دیکھی ۔ اور ہمارے ذمہ اسی کا تباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے اگر وہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے تو ہم ان کا اتباع کرتے ۔
رہی عبارت بحر جو قول چہارم میں گزری کہ صاحب بحر نے بدائع کا کلام ذکر نے کے بعد فرمایا اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ،
فــاقــول : قد اسمعناك نصہ تحت القول الثالث وتصحیحہ لایمس بعدم اشتراط الھیاۃ فی الصلاۃ انما ذکرہ فی عدم الانتقاض خارج الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ نفیا لقول ابن شجاع فھو تصحیح لاحد جزئی القول الاول کقول البدائع وھو اقرب الی الصواب فانہ ایضا راجع الی ذلك التفصیل الذی ذکرہ القمی فی السجود خارج الصلاۃ کما فی الحلیۃ ۔
وذلك ان القول الاول یشتمل علی دعویین احدٰھما النقض عند عدم الھیاۃ ولو فی الصلاۃ وسائر الاقوال تخالفہ فی مابعد لو ، والاخری عدم النقض مع الھیاۃ المسنونۃ ولو خارج الصلاۃ والقول الثالث یوافقہ فیھا اصلا ووصلا والتصحیح فیہ انما ورد علی ھذا الجزء الموافق
فاقول : ہم امام زیلعی کی پوری عبارت قول سوم کے تحت پیش کرآئے ہیں ، ان کی تصحیح کو اندرون نماز مسنون ہیات کی شرط نہ ہونے سے کوئی مس نہیں۔ انہوں نے توقول ابن شجاع کی تردید کے لئے ، بیرون نماز مسنون ہیات پر ہونے کی صورت میں عدم نقض سے متعلق یہ تصحیح ذکر کی ہے (قول اول کے دو جز ہیں ایك یہ کہ اگر مسنون ہیات پر ہے تو ناقض نہیں اگرچہ بیرون نماز ہو ۔ دوسرا یہ کہ مسنون ہیات کے بر خلاف ہے تو ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو ۱۲) تو یہ قول اول کے جزاول کی تصحیح ہے جیسے بدائع کی عبارت وھو اقرب الی الصواب ، (درستی سے قریب تر ہے ) کیونکہ وہ بھی اسی تفصیل کی طر ف راجع ہے جو امام قمی نے بیرون نماز سجدہ سے متعلق ذکر کی جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔
تفصیل یہ ہے کہ قول اول دو دعووں پر مشتمل ہے ایك یہ کہ مسنون ہیات نہ ہونے کی صورت میں نیند ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو باقی تینوں قول “ اگر چہ “ کے مابعد میں قول اول کے مخالف ہیں(تینوں میں یہ قدر مشترك ہے کہ نماز میں مطلقًا نقض وضو نہیں اگر چہ مسنون ہیات نہ ہو ۱۲) دوسرا دعوی یہ ہے کہ مسنون ہیات ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اگر چہ بیرون نماز ہو قول سوم اس دعوے میں اصل اور وصل ( بشرط ہیات وضو نہ ٹوٹنا اور اگر چہ
دون المخالف ولذلك لما سبق الی ذھن العلامۃ عمر بن نجیم ان شیخہ واخاہ رحمھما الله تعالی یدعی تصحیح الزیلعی للجزء المخالف نسبہ للسھو وعقبہ بتصحیح المحیط۔
قــال ط قال فی النھر مافی البحر من تصحیح الزیلعی لھذا فھو سہوبل فی عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء نوم الساجد فی الصّلاۃ اذا کان علی الہیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح [3] اھ۔ ثــم رأیت العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق حاول جواب النھر فنحانحو مانحوت ثم زلت قدم القلم حیث قال قول الشارح وصرح الزیلعی بانہ الاصح الضمیر المنصوب فیہ یعود الی قولہ وان کان خارجہا فکذلك الا فی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع