30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : یہ صاحب غنیہ شیخ حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس قول کی ایك وجہ ظاہر کردی ہے یہ نہیں کہ ان کا اسی پر اعتماد ہے یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی اس شرح کی تلخیص کی تو اس میں اس بات پر جز م کیا کہ اگر سجدہ خلاف سنت طور پر
وجعلہ المعتمد واحال تمام تحقیقہ علی الشرح کما تقدم فلو ارادھنا الاعتماد لکانت الحوالۃ غیر رائجۃ بل حوالۃ علی المخالف ثم لما صنف متن الملتقی لم یلتفت ایضا الی ھذا التفصیل وتبع سائر المتون فی الاطلاق ثم لما شرح متنہ صرح ان الاطلاق ھو المعتمد کما سیاتی ان شاء الله تعالٰی۔
الــثانیۃ : فی استخراج القول الراجح من ھذہ الاقاویل۔
اقول : القول الاول علیہ المعول وھو الصحیح و لہ الترجیح وذلك لاربعۃ وجوہ :
الاول علیہ الاکثر کما یظھر لك ممامر و یاتی و القاعدۃ فــــ العمل بما علیہ الاکثر [1] کما نقلت علیہ نصوصا کثیرۃ فی فتاوٰی۔
الــثـانی : علیہ تظافرت المتون ولیس لہا الی غیرہ رکون ولا طباقہا شأن من اعظم الشیون فانھا ہے تو اس میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگر چہ نماز ہی میں ہو ، اسی کو معتمد بھی قرار دیا اور اس کی کامل تحقیق کے لئے اپنی شرح (حلیہ) کا حوالہ دیا جیسا کہ اس کی عبارت گزری تو اگر یہاں قول مذکور کی وجہ بیان کرنے سے اس پر اعتماد مراد ہو تو اس کا حوالہ نہ چل سکے گابلکہ مخالف حوالہ ہوگا پھر جب متن ملتقی تصنیف کیا اس وقت بھی اس تفصیل پر التفات نہ کیا اور ا طلاق میں دیگر متون کا اتباع کیا پھر جب اس متن کی شرح فرمائی تو تصریح بھی کردی کہ اطلاق ہی معتمد ہے ، جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء الله تعالی ۔
افادہ ثانیہ۲ : ان اقوال میں سے قول راجح کے استخراج کے بارے میں ۔
اقول : قول اول ہی پر اعتماد ہے وہی صحیح ہے ، اسی کو ترجیح ہے ، اور اس کی چار وجہیں ہیں۔
وجہ اول : اسی پر اکثر ہیں جیسا کہ گزشتہ وآئندہ صفحات سے ظاہر ہے ، اور قاعدہ یہ ہے کہ عمل اسی پر ہو جس پر اکثر ہوں ، جیسا کہ اس پر میں اپنے فتاوی میں کثیر نصوص نقل کر چکا ہوں ،
وجہ دوم اسی پر متون ہم نوا ومتفق ہیں کسی اور قول کی طر ف ان کا جھکاؤ بھی نہیں اور اتفاق متون کی شان بہت عظیم ہے اس لئے
فــــ : القاعدۃ العمل بما علیہ الاکثر
الموضوعۃ لنقل المذھب المصون وذلك انہا من عند اٰخرھا لم تجنح الی تفرقۃ فی ھذا بین الصلاۃ وغیرھا انما ترسل الحکم ارسالا ۔
قــال فی الکتاب والنوم مضطجعا اومتکئا اومستندا [2] اھ ومثلہ فی البدایۃ وقال فی الوقایۃ ونوم مضطجع ومتکئ اومستند الی مالوازیل لسقط لاغیر [3] اھ وفی النقایۃ ونوم متکئ الی ما لو ازیل لسقط [4] اھ وفی کنزالد قائق ونوم مضطجع ومتورك [5] اھ وفی الاصلاح ونوم متکئ [6] وفی ملتقی الابحر ونوم مضطجع اومتکیئ باحد ورکیہ اومستند الی مالوازیل لسقط لانوم قائم اوقاعد او راکع اوساجد [7] اھ
کہ متون مذہب محفوظ کی نقل ہی کے لئے وضع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ شروع سے آخر تك تمام ہی متون اس بارے میں نماز اور غیر نماز کی تفریق کی طرف مائل نہیں حکم صرف بیان کرتے ہیں۔ کتاب میں ہے کروٹ لیٹ کر ، یاتکیہ لگا کر ، یا ٹیك لگا کر سونا اھ اسی کے مثل بدایہ میں بھی ہے ، اور وقایہ میں ہے : اس کی نیند جو کروٹ لینے والا ، یا تکیہ لگانے والا ، یا ایسی چیز کی طرف ٹیك لگانے والا ہے جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے کوئی اور نیند نہیں اھ نقایہ میں ہے ، اس چیز کی طرف تکیہ لگا نے والے کی نیند جو ہٹا دی جائے تو یہ گرجائے اھ کنز الدقائق میں ہے کروٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھ کر سونے والے کی نیند اھ اصلاح میں ہے تکیہ لگانے والے کی نیند اھ ملتقی الا بحر میں ہے اس کی نیند جو کروٹ لینے والے ، یا ایك سرین پر سہارا لینے والا ، یاایسی چیز کی طرف ٹیك لگانے والا ہو جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے قیام یا قعود یا رکوع یا سجود والے کی نیند نہیں اھ ۔
وفی الغرر ونوم یزیل مسکتہ والا فلا وان تعمد فی الصّلاۃ [8] اھ
[1] در مختار باب صلوٰۃ المریض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱۰
[2] الہدایۃ ، کتاب الطہارات فصل نواقض الوضوء المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰
[3] الوقایۃ (شرح وقایۃ) ، کتاب الطہارۃ النوم والاغماء الخ ، مکتبۃ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۷۶
[4] النقایۃ(مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ) ، کتاب الطہارۃ ، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۴
[5] کنز الدقائق کتاب الطہارۃ ، ایچ ، ایم سعید کمپنی کراچی ص۸
[6] الاصلاح والایضاح
[7] ملتقی الابحر کتاب الطہارۃ ، المعانی الناقضۃ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۹
[8] درر الحکام شرح غرر الاحکام ، کتاب الطہارۃ ، میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع