30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو انتہائی ڈھیلاپن نہ ہونے ، کچھ بندش باقی رہنے ، اور ساقط نہ ہونے میں رکوع اور قیام کی طر ح ہو ، او رسجدہ جب مسنون طریقے پر نہ ہوگا تو انتہائی ڈھیلاپن موجود ہوگا ، تھوڑی بندش بھی باقی نہ رہ جائیگی او رگر بھی جائے گا ، تو حاصل یہ نکلا کہ نیند سے
السقوط فالحاصل ان القاعدۃ الکلیۃ المعتمد علیہا فی النقض بالنوم وجود کمال الاسترخاء مع عدم تمکن المقعدۃ فبھذا ینبغی ان یؤخذ عندالاختلاف واشتباہ الحال الاانھم اخرجوا عن ھذہ القاعدۃ نوم الساجد علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فی الصلاۃ [1] اھ مزید امنا مابین الاھلۃ۔
الرابع : کالثالث غیر الحاق کل سجود مشروع بسجود الصلاۃ فلا تشترط الھیاۃ الا فیما لیس سجودا مشروعا وقد قدمنا نص الخلاصۃ مع ایضاحہ وفی البحر الرائق قید المصنف بنوم المضطجع والمتورك لانہ لاینقض نوم القائم والقاعد والراکع والساجد مطلقًا فی الصلاۃ وان کان خارجہا فکذلك الا فی السجود فانہ یشترط ان یکون علی الہیاۃ المسنونۃ لہ وھذا ھو القیاس فی الصلاۃ الا انا ترکناہ فیھا بالنص کذا
وضو ٹوٹنے کے معاملے میں قاعدہ کلیہ معتمد ہ یہ ہے کہ اعضاء پورے طور سے ڈھیلے پڑجائیں اور مقعد کو استقرار بھی حاصل نہ ہو ، اختلاف اور اشتباہ حال کی صورت میں اسی قاعدے کو لینا چاہئے ، مگر حضرات علماء نے نماز کے اندر مسنون طریقہ کے خلاف سجدہ کرنے والے کی نیند کو اس قاعدے سے مستثنی کردیا ہے اھ عبارت غنیہ ہلالین کے درمیان ہمارے اضافہ کے ساتھ ختم ہوئی
قول چہارم : یہ بھی قول سوم ہی کی طر ح ہے ( کہ سجدہ نماز میں کسی طر ح بھی ہونیند آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز عدم نقض کے لئے ہیات سنت پر ہونا شرط ہے ) فرق یہ ہے کہ اس میں ہر سجدہ مشرو ع کو سجدہ نماز ہی کے ساتھ ملادیا ہے تو ہیات کی شرط صرف اس میں ہے جو سجدہ مشرو ع نہ ہو ، اس بارے میں خلاصہ کی عبارت مع تو ضیح کے ہم پیش کر آئے ہیں ، اور البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے “ مصنف نے قید لگائی کہ کرو ٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھنے والے کی نیند ہو ( تو وضو ٹوٹے گا) اس لئے کہ قیام ، قعود ، رکوع او رسجود والے کی نیند نماز میں مطلقًا ناقض نہیں اور بیرون نماز ہو تو بھی یہی حکم ہے مگر سجدہ سے متعلق یہ شرط ہے کہ مسنون ہیات پر ہو قیاس یہ تھا کہ نماز میں بھی یہ شرط ہو مگر ہم نے نماز کے بارے
فی البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا کالصلبیۃ وکذا سجدۃ الشکر عند محمد خلافا لابی حنیفۃ وکذا فی فتح القدیر [2] اھ
اقول اولا : لم فـــ۱ یعتمدہ فی الفتح بل عقبہ بقولہ کذا قیل۔
وثانیا : فـــ۲ المشار الیہ بھذا فی قولہ وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا فی عبارۃ الفتح غیرہ فی عبارۃ البحر فان البحر جعلہا کالصلبیۃ فی عدم اشتراط الھیاۃ والفتح لم یعرج علی ھذا اصلا بل اسقط من ھذا القیل الذی ھو لصاحب الخلاصۃ قولہ سواء سجد علی وجہ السنۃ او غیر السنۃ فالمشار الیہ فی قولہ ھو عدم النقض فی السجود علی ھیاۃ السنۃ ولذا قال
میں نص کی وجہ سے قیاس ترك کردیا ۔ ایسا ہی بدائع میں ہے اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ۔ اور سجدہ تلاوت اس بارے میں سجدہ نماز کی طر ح ہے اور اسی طرح امام محمد کے نزدیك سجدہ شکر بھی ہے بخلاف امام ابو حنیفہ کے اور اسی طر ح فتح القدیر میں بھی ہے اھ “
اقول اولا : فتح القدیر میں اس پر اعتماد نہ کیا بلکہ اسے ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا کذا قیل (ایسا ہی کہا گیا)
ثانیا : عبارت “ سجدۃ التلاوۃ فی ھذا “ ( اس )کامشار الیہ فتح القدیر کی عبارت میں اور ہے بحر کی عبارت میں اور اس لئے کہ صاحب بحر نے سجدہ تلاوت کو ہیات کی شرط نہ ہونے کے بارے میں سجدہ نماز کی طر ح قرار دیا ہے اور صاحب فتح نے اس کا کوئی ذکر ہی نہ چھیڑابلکہ یہ قول جو صاحب خلاصہ کا ہے اس سے یہ عبارت “ سواء سجدعلی وجہ السنۃ اوغیر السنۃ “ (خواہ بطور سنت سجدہ کرے یا خلاف سنت )ساقط کردی ، تو ان کو عبارت میں مشار الیہ “ ہیات سنت پر سجدہ کی صورت میں وضوکا ٹوٹنا ہے “ اسی لئے
فــــ۱ : تطفل علی البحر
فــــ۲ : تطفل اخر علیہ
بعد قولہ کذا قیل ردا علیہ مانصہ وقیاس ما قدمناہ من عدم الفرق بین کونہ فی الصلاۃ او خارجہا یقتضی عدم الخلاف فی عدم الانتقاض بالنوم فیھا (ای فی سجدۃ الشکر وان کان بین الامام وصاحبیہ خلاف فی مشروعیتھا) نعم ینتقض علی مقابل الصحیح ھذا قول ابن شجاع بنقض مطلقًا نقض خارج الصلوۃ اھ [3] مزیدا منا مابین الاھلۃ ۔
وانما الذی قدم ھو قولہ تحت قول الہدایۃ بخلاف النوم فی الرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح ھذا اذا نام علی ھیاۃ السجود المسنون خارج الصلاۃ بان جافی اما اذا الصق بطنہ بفخذیہ فینقض ذکرہ علی بن موسی القمی [4] اھ
[1] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈ یمی لاہور ص۱۳۸و۱۳۹
[2] البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۸
[3] فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۵
[4] فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع