دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

الثالث :  لانقض فی الصلاۃ مطلقًا اما خارجہا فبشرط ھیأۃ السنۃ والا نقض۔

قــال الامام الزیلعی فی التبیین النائم قائما او راکعا اوساجدا ان کان فی الصلاۃ لاینتقض وضوءہ لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم                                      

رکوع یا قعود یا سجود کی حالت میں سوجائے تو اس پر وضو نہیں ، اور اگر سجدہ کرنے والے کے طریقے پر نماز کے باہر سوجائے تو اس کے بارے میں اختلاف مشائخ ہے اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹو ٹ جائے گا اھ۔

منیہ کے شارح علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں : ابن شجاع نے فرمایا ان حالتوں میں اندرون نماز سونے سے وضو نہ جائے گا اور بیرون نماز ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا ، اور اسی کی طر ف مصنف بھی مائل ہوئے کہ انہوں نے فرمایا ظاہرمذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور فتاوی سراجیہ میں ہے : سجدہ تلاوت میں سوجائے تو وضو ٹو ٹ جائے گا بخلاف سجدہ نماز کے اھ ۔

قول سوم : نماز میں مطلقًا وضو نہ ٹوٹے گا  اور بیرون نماز وضونہ ٹوٹنے کے لئے شرط ہے کہ سجدہ ہیئت سنت پر ہو  ورنہ ناقض ہے۔

امام زیلعی تبیین الحقائق میں لکھتے ہیں : قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونے والا اگر نماز میں ہے تو اس کا وضو نہ ٹو ٹے گا اس لئے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے :

لاوضوء علی من نام قائما او راکعا او ساجدا وان کان خارج الصلاۃ فکذلك فی الصحیح ان کان علی ھیاۃ السجود بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ والا انتقض [1] اھ

وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنہ ان ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان ذکر النوم علی ھیاۃ السجود فقال) ذکر غیر واحد من المشائخ فی ھذہ المسألۃ عن علی بن موسی القمی انہ قال لانص فی ذلك ولکن یظھر ان سجد علی الوجہ المسنون لایکون حدثا وان سجد علی غیر وجہ السنۃ یکون حدثا قال فی البدائع وھو اقرب الی الصواب لان فی الوجہ الاول الاستمساك باق والاستطلاق منعدم وفی الوجہ الثانی بخلافہ الا اناترکنا ھذا القیاس فی حالۃ الصلاۃ بالنص قلت وقد ذکر رضی الدین فی المحیط ھذا التفصیل نقلا عن النوادر [2] اھ                    “

اس پر وضو نہیں جو قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں سوجائے “ اور اگر بیرون نماز ہے تو بر قول صحیح یہی حکم ہے بشرطیکہ سجدہ کی ہیات پر ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے ، بازو کرو ٹوں سے جداکئے ہوئے ، ورنہ وضو ٹوٹ جائے گا اھ

حلیہ کی عبارت جو پہلے ہم نے نقل کی اس کے بعد یہ ہے یہ سب نماز کے اندر ہے اگر بیرون نماز ہو ( اس کے بعد صورتیں بیان کیں ، یہاں تك کہ ہیات سجدہ پر سونے کا ذکر کیا تو فرمایا) متعدد مشائخ نے اس مسئلہ میں علی بن موسی قمی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ، اس بارے میں کوئی نص نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اگر مسنون طریقے پر سجدہ کرے تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور اگرغیر طریق سنت پر سجدہ کرے تووضو ٹوٹ جائے گا ، بدائع میں فرمایا ، یہ صواب سے قریب تر ہے اور اس لئے کہ پہلی صورت میں بندش باقی ہے اور آزادی ( ڈھیلا پن ) معدوم ہے ، اور دوسری صورت میں اس کے بر خلاف ہے لیکن ہم نے یہ قیاس حالت نماز میں نص کی وجہ سے ترك کردیا ، میں کہتاہوں ، رضی الدین نے محیط میں یہ تفصیل نوادر سے نقل کرتے ہوئے ذکر کی ہے اھ

وفی الغنیۃ فی مسائل النوم خارج الصلاۃ بعد ماذکر عن علی بن موسی مامر من التفصیل ھذا ھو مراد من صحح ھذا القول (ای عدم النقض بالنوم علی ھیاۃ ساجد خارج الصلاۃ) اما لوکان علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فلا شك فی النقض لوجود نھایۃ استرخاء المفاصل المذکورفی الحدیث (ثم قال بعد نقل کلام نفیس عن الکافی حاصلہ ان المراد بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ کمال الاسترخاء فان اصلہ حاصل بنفس النوم ولو قائما) فجمیع کلام الشیخ حافظ الدین یفید ان المراد بالسجود الذی لاینتقض الوضوء بالنوم فیہ السجود الذی ھو مثل الرکوع والقیام فی عدم نہایۃ الاسترخاء وبقاء بعض التماسك وعدم السقوط واذا لم یکن السجود علی الھیاۃ المسنونۃ فقد حصل نھایۃ الاسترخاء ولم یبق بعض التماسك و وجد                                      

اور غنیہ کے اند بیرون نماز نیند کے مسائل کے تحت علی بن موسی کے حوالے سے ذکر شدہ تفصیل کے بعدلکھتے ہیں “ جس نے اس قول کو صحیح کہا اس کی یہی مراد ہے (یعنی سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا )لیکن اگر طریقہ مسنونہ کے بر خلاف ہو تو ا س میں کوئی شك نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا اس لئے کہ جوڑوں کا انتہائی ڈھیلا پڑنا جو حدیث میں مذکور ہے وہ پالیا جائے گا ( اس کے بعد کافی کے حوالے سے ایك نفیس کلام رقم کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد “ انہ اذا اضطجع استر خت مفاصلہ وہ جب کروٹ سے لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے “ میں استر خاسے مراد کمال استر خا ہے یعنی ڈھیلے پڑنے کا مطلب کامل طور سے ڈھیلے پڑجانا اس لئے کہ اصل استر خا تو محض سونے ہی سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ کھڑے کھڑے ہی سوئے ) آگے لکھتے ہیں : تو شیخ حافظ الدین نسفی (صاحب کافی) کے پورے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ وہ سجدہ جس میں



[1]   تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الطہارۃ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ،  ۱ / ۵۲و۵۳

[2]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن