30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے دیکھا کہ رد ا لمحتار کے اس کلام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے ۔
اقول : مصنفین اپنی عبارت ان الفاظ میں لائے کہ “ اس پر وضو نہیں جو قیام یا قعود یا رکوع یا سجود کی حالت میں سوجائے “ جیسا کہ ہدایہ وغیرہامیں ہے ان ارکان کے ایك ساتھ ہونے کی وجہ سے ذہن نماز کی طر ف جاتا ہے اور ساتھ ہونے ہی کی بنیاد پر ہمارے اصحاب نے یہ استدلال کیا ہے کہ سورہ حج کے آخر کے دونوں آیتوں میں نماز کا رکوع وسجود مراد ہے تو ان آیتوں میں سجدہ تلاوت نہیں ، جب ارکان مذکورہ کے ایك ساتھ بیان ہونے سے ذہن نماز کی طرف چلا جاتا ہے تو غیر نماز کے سجدے کو حدیث کے شامل ہونے میں ایك طر ح کا خفا آجاتا ہے یہاں تك کہ بدائع او رتبیین وغیرہما میں صرف سجدہ نماز کے ذکر پر اکتفاء کی ہے اور کہا ہے کہ نص صرف نماز کے بارے میں وارد ہے جیسا کہ آگے آئے گا ، جب یہ صورت حال ہے تو سجدہ میں نیند آنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم نماز کے بارے میں زیادہ ظاہر ہے اور وضو نہ ٹوٹنے کے لئے ہیأت مسنونہ کی شرط لگانا غیر نماز سے متعلق زیادہ ظاہر ہے کیونکہ نماز سے متعلق تو نص کا ظاہر ی اطلاق خود ہی موجود ہے اور مبالغہ خفی کو ذکر کر کے کیا جاتا ہے اس لئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے مدخول کی نقیض حکم سے متعلق مدخول سے زیادہ اولی ہواکر تی
اقول : فـــ۱ اوردوا النص بلفظ لاوضوء علی من نام قائما اوقاعدا او راکعا او ساجدا کما فی الہدایۃ وغیرھا ولاقتران ھذہ الارکان تسبق الاذھان الی الصلاۃ وبہ استدل اصحابنا علی ان المراد فی اٰخر اٰیتی الحج رکوع الصلاۃ وسجودھا فلیس فیھا سجود التلاوۃ فیسری الی شمول الحدیث سجود غیر الصلاۃ نوع خفاء حتی قصر ذلك فی البدائع والتبیین وغیرھما علی الصلٰبیۃ قائلین ان النص انما ورد فی الصلاۃ کما سیاتی فاذن عدم الانتقاض بالنوم فی السجود اظھر فی الصلاۃ واشتراط الھیاۃ المسنونۃ لعدم النقض اظھر فی غیرھا لظاھر اطلاق النص فی الصلاۃ والمبالغۃ انما تکون بذکر الخفی فان فـــ۲ نقیض مدخول الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
فان
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ۲ : نقیض مدخول لو وان الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
قیل ولو فی الصلاۃ یکن مبالغۃ علی قولہ الھیاۃ المسنونۃ کما ذکرہ المحشی رحمہ الله تعالٰی لان اشتراط الھیاۃ ھوالخفی فی الصلاۃ لاعدم النقص فی السجودا مااذا قال الشارح رحمہ الله تعالٰی ولو فی غیر الصلاۃ فالمبالغۃ علی قولہ ساجدا لاعلی قولہ الھیاۃ المسنونۃ لان اشتراط الھیاۃ فی غیر الصلاۃ امر ظاھر وانما الخفی عدم النقض لاجرم ان العلامۃ المحشی ما جعلہ مبالغۃ علی الھیاۃ لم یمکنہ تعبیرہ الا بلو فی الصلاۃ ولو لا نقلہ فی المقولۃ ولو غیر الصلاۃ کما ھو فی نسخ الدر بایدینا لظننت ان لفظۃ غیر من کلام الدر ساقطۃ من نسخۃ المحشی۔
اما التشبث بذکر اعتماد الحلبی وانما اعتمد تعمیم اشتراط الھیاۃ سجود الصلاۃ
ہے ۔ ( مثلا کہا جائے تم اپنے بھائی کے ساتھ انصاف کرو اگر چہ تمہارے ساتھ ناانصافی کرے ، اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے انصاف کرنے کی صورت میں انصاف کا حکم بدرجہ اولی ہوگا ۱۲م) تو اگر کہا جائے “ اگر چہ نماز میں “ تو یہ ان کے قول “ ہیات مسنونہ “ پر مبالغہ ہوگا ، جیسا کہ محشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ذکر کیا ، اس لئے کہ نماز کے اندر ہیات کی شرط خفی ہے ، سجدے میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم خفی نہیں ، لیکن جب شارح نے فرمایا “ اگر چہ غیر نماز میں “ تو یہ ان کے قول “ ساجدا “ پر مبالغہ ہو ا ، ہیات مسنونہ پر مبالغہ نہ ہوا ، اس لئے کہ غیر نماز میں ہیات کی شرط ہونا کھلی ہوئی بات ہے ، خفی صرف یہ حکم ہے کہ اس میں بھی وضو نہ ٹوٹے گا ، یہی وجہ ہے کہ جب علامہ محشی نے اسے ہیات پر مبالغہ قرار دے دیا تو نا چار انہیں یہ تعبیر کرنا پڑی کہ “ اگر چہ نماز میں ہو “ درمختار کے جو نسخے ہمارے پا س ہیں ان میں “ ولو فی غیر الصلوۃ “ ہے اور حاشیہ لکھتے وقت علامہ شامی نے بھی اسی طرح نقل کیا “ قولہ ولو فی غیر الصلوۃ “ اگر ان کے حاشیے میں یہ نقل نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کے پاس جو نسخہ درمختار تھا اس میں لفظ “ غیر “ ساقط تھا ۔
اب رہا علامہ شامی کااپنی تقریر کی تائید میں اعتماد حلبی کا تذکرہ ، او ریہ کہ انہوں نے اسی پر اعتماد کیا ہے کہ وضو نہ ٹوٹنے کے لئے
ایضا۔
فـاقـول لعلہ فـــ لایتعین ھذا الاعتماد مرادا فانہ ذکر فی الغنیۃ قول ابن شجاع ان النوم ساجدا فی غیر الصلٰوۃ ناقض مطلقًا ثم نقل عن الخلاصۃ والکفایۃ ان فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ وعن الہدایۃ انہ الصحیح ثم عن القمی التفصیل بالنقض ان کان علی غیر ھیاۃ السنۃ وعدمہ ان کان علیہا ثم حقق ان المناط وجود نہایۃ الاسترخاء وان القاعدۃ الکلیۃ المعتمدۃ کما سیجیئ ان شاء الله تعالٰی۔
فافادان السجود علی ھیاۃ السنۃ غیر ناقض ولو خارج الصلاۃ وانہ المعتمد فصح العزومن ھذا الوجہ ایضا وحینئذ یکون کلام الشارح رحمہ الله تعالٰی ساکتا عن حکم الساجد فی الصلاۃ علی غیر ھیاۃ السنۃ۔
ہیات مسنونہ کی شرط میں سجدہ نماز بھی شامل ہے
فاقول : شارح کی مراد بھی یہی اعتماد ہے یہ متعین نہیں ، اس لے کہ شیخ حلبی نے غنیہ میں پہلے ابن شجاع کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ “ غیر نماز میں بحالت سجدہ سونا مطلقًا ناقض ہے “ پھر خلاصہ اور کفایہ سےنقل کیا ہے کہ ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کا کوئی فر ق نہیں ۔ اور ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ یہی صحیح ہے پھر علامہ قمی سے یہ تفصیل نقل کی ہے کہ “ اگر خلاف سنت طریقہ پر ہو تو وضو ٹو ٹ جائے گا اور بطریق سنت ہو تو نہ ٹوٹے گا “ پھر یہ تحقیق فرمائی ہے کہ مداراس پر ہے کہ انتہائی حد تك اعضاء ڈھیلے پڑجانے کی صورت پائی جائے اور معتمد قاعدہ کلیہ بیان کیاہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی آئے گا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع