30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے مستفادہوا کہ ان حضرات کا یہ کلام بیرون نماز سونے کی صورت میں ہے ۔ اور بندش باقی رہنے سے یہ افادہ کیا کہ سجدہ کی مسنون ہیأۃ مراد ہے۔ تو یہ عموم جو ر د المحتار کی عبارت سے متر شح ہے نہ خلاصہ کی مراد ہے نہ تحفہ کی ، نہ خانیہ ، نہ ذخیرہ ، نہ حلیہ کی ، تو اس پر متنبہ رہنا چاہیئے ۔
اب چار صورتیں باقی رہیں :
(۱) سجدہ کی مسنون ہیات بیرون نماز کسی مشر وع سجدہ میں ہو (۲) یہ ہیات کسی غیر مشرو ع سجدہ میں ہو(۳) غیر مسنون ہیات سجدہ مشرو عہ میں اندرون نماز ہو (۴) یا (یہ ہییات سجدہ مشروعہ) میں بیرون نماز ہو۔
ان ہی چارصورتوں میں آراء کی کش مکش ہے اور یہاں مجھے چار اقوال ملے جن پر مصنفین نے اپنی متداول تصانیف مذہب میں اعتماد کیا ہے ۔
قول اول : سونا اگر سجدہ کی مسنون ہیاۃ پر ہو تو ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ۔ اور غیر مسنون ہیات پر ہو تو ناقض وضو ہے اگر چہ
فــ۱ : معروضۃ رابعۃ علی العلا مۃ ش۔
فــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فیھا۔
وھو الذی عولنا علیہ وقدمنا نقلہ عن ۱مراقی الفلاح و۲المحیط و۳عقد الفرائد و۴شرح المنیۃ الصغیر وفی ۵مجمع الانھر لانوم ساجد فی الصلاہ اوخارجہا علی الصحیح عندنا وفی المحیط انما لا ینقض نوم الساجد اذا کان رافعا بطنہ من فخذیہ جافیا عضدیہ عن جنبیہ وان ملتصقا بفخذیہ معتمدا علی ذراعیہ فعلیہ الوضوء [1] اھ
وقال ۶العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الہدایۃ قولہ بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود و الرکوع والسجود فی الصلاۃ یعنی اذا کان علی ھیاۃ سجود الصلاۃ من تجافی البطن عن الفخذین وعدم افتراش الذر اعین اما اذا کان بخلافہ فینقض [2] اھ وفی ۷الرحمانیۃ عن العتابیۃ وعن اصحابنا ان النوم فی السجود انما لایفسد اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ [3] اھ ۔ وفی المعراجیہ
اندون نماز ہو۔
یہی وہ قول ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا ور اسی کو ۱مراقی الفلاح ۲ محیط ۳ عقد الفرائد اور ۴منیہ کی شرح صغیر سے ہم نے پہلے نقل کیا ، اور ۵مجمع الانہر میں ہے : ناقض وضو نہیں سجدہ کرنے والے کی نیند ، نماز میں ہو یابیرون نما ز ، اس قول پر جو ہمارے نزدیك صحیح ہے۔ اور محیط میں ہے سجدہ کرنیوالے کی نیند ناقض اس صورت میں نہیں جب پیٹ ران سے اٹھائے ہوئے بازو کر وٹو ں سے جدا کئے ہو ۔ اور اگر رانوں سے چپکا ہوا ، کلائیوں کے سہارے پر رکا ہوا ہوتو اس پر وضو ہے اھ ۔
۶علامہ اکمل الدین با بر تی عنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں ، عبارت ہدایہ ، بخلاف قیام ، قعود ، رکوع اور نماز میں سجدہ کی حالت پر سونے کے ( کہ یہ ناقض نہیں) مراد یہ ہے کہ جب سجدہ نماز کی ہیات پر سویا ہو کہ پیٹ رانوں سے الگ ہو اور کلائیاں بچھی نہ ہو ں لیکن جب اس کے بر خلاف ہو تو ناقض ہے اھ۔ (۸۔ ۔ ۔ ۷)رحمانیہ میں عتابیہ سے نقل ہے : اور ہمارے اصحاب سے منقول ہے کہ سجدہ میں سونا صرف اس صورت میں مفسد نہیں جب مسنون ہیات پر ہو اھ۔ (۹)معراجیہ
کما نقل عنہا فی ذخیرۃ العقبی مانصہ عن الامام الثانی رحمہ الله تعالٰی انہ لوتعمد النوم فی السجود ینقض والافلالان القیاس ان یکون ناقضا الا انا استحسناہ فی غیر العمد لان من یکثر الصلاۃ باللیل لایمکنہ الاحتراز عن النوم فیہ فاذا تعمد بقی علی اصل القیاس ۔
وجہ ظاھر الروایۃ ماروی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال اذا نام العبد فی سجودہ یباھی الله تعالٰی بہ ملٰئکتہ فیقول انظروا الی عبدی روحہ عندی وجسدہ فی طاعتی وانما یکون جسدہ فیھا اذا بقی وضوء ہ وجعل ھذا الحدیث فی الاسرار عــــہ من المشاھیر ولان الاستمساك باق فانہ لوزال لزال علی احد
کی عبارت جیسا کہ اس سے ذخیرۃ العقبی میں نقل کیا ہے یہ ہے : امام ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ اگر سجدہ میں قصدا سوئے تو ناقض ہے ورنہ نہیں اس لئے کہ قیاس یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے مگر بلاقصد نیند آنے کی صورت میں ہم نے استحسان سے کام لیا کیونکہ رات میں بکثرت نماز پڑھنے والے کے لئے نیند آنے سے بچنا ممکن نہیں پھر جب قصد سوائے تو حکم اصل قیاس پر باقی رہے گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع