30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فلا یجوز ان یقول بہ احد فانہ حینئذ لیس الا کنوم المنبطح سواء بسواء بل ھو ھولا یفارقہ الا بقبض فی الایدی والارجل کما لایخفی۔
وراجعت الخلاصۃ فوجدت نصھا ھکذا فی الاصل قال لاینقض الوضوء النوم قاعدا او راکعا اوساجدا اوقائما ھذا فی الصّلاۃ فان نام خارج الصلاۃ قائما اوعلی ھیاۃ الرکوع والسجود فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ [1]اھ
ثم قال اذا نام فی سجود التلاوۃ لایکون حدثا عندھم جمیعا کما فی الصلٰوتیۃ وفی سجدۃ الشکر کذلك عند محمد و ھکذا روی عن ابی یوسف وسواء سجد علی ھیاۃ وجہ السنۃ او غیر السنۃ نحوان یفترش ذراعیہ ویلصق
نہ ہو ، تو اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ سونا بالکل منہ کے بل لیٹ کر سونے کی طرح ہوا بلکہ دونوں بالکل ایك ہوئے ، صرف ہاتھ پاؤں سمیٹنے کا فر ق رہا ، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔
(یہاں مذکورہ کلام شامی کے تین معنی ذکر کئے اول مراد ہے توکلام ناقص او ربعض صورتو ں کے احاطہ سے قاصر ہوگا ، دوم مراد ہو تو وہ خاص مسنون حالت پر سجدہ ہے ، سوم مراد ہو کہ کسی قسم کا بھی سجدہ کرنے والا ہے اور کسی بھی ہیات پر سجدہ کر رہا ہو اور سوجائے تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا ۱۲م)
اور میں نے خلاصہ اٹھا کر دیکھا تو اس کی عبارت اس طر ح پائی “ اصل مبسوط میں ہے ، فرمایا : بیٹھ کر ، یا رکوع میں ، یا سجدہ میں یاقیام میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ یہ اندرون نماز کا حکم ہے اور اگر بیرون نماز کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات میں سوگیا تو ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان کوئی فر ق نہیں ۔
اور آگے فرمایا : سجدہ تلاوت میں سوجانا ان سبھی حضرات کے نزدیك حدث نہیں جیسے کہ سجدہ نماز میں اور سجدہ شکر میں بھی امام محمد کے نزدیك یہی حکم ہے اور ایسا ہی امام ابو سف سے مروی ہے خواہ مسنون طریقہ پر سجدہ یا ہو غیر مسنون طریقہ پر ، جیسے یوں کہ کلائیاں بچھا دے اور پیٹ کو رانوں سے
بطنہ علی فخذیہ وعند ابی حنیفۃ یکون حدثا وفی سجد تی السھو لایکون حدثا [2] اھ
فافاد ان عموم الھیا ۃ انما ھو فی السجود المشروع کسجود التلاوۃ والسھو عندا لکل والشکر عندھما۔ لما لم تشرع سجدۃ الشکر عندہ قال بالنقض فیھا اذالم تکن علی ھیاۃ السنۃ۔
وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا من الکلام علی النوم فی الصّلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان قال) وان نام قائما او علی ھیاۃ الرکوع والسجود غیر مستند الی شیئ ففی البدائع العامۃ علی انہ لایکون حدثا لان استمساك فیھا باق وفی التحفۃ الاصح انہ لیس بحدث کما فی الصلاۃ وعلیہ مشی فی الخلاصۃ وذکرانہ ظاھر المذھب وعکس ھذا بالنسبۃ الی ھیاۃ الرکوع بالسجود فی الخانیۃ فذکرانہ حدث فی ظاھر الروایۃ والاول
ملادے اور سجدے میں سوجائے ، اور امام ابو حنفیہ کے نزدیك حدث ہوگا اور سجدہ سہو میں حدث نہ ہوگا اھ۔
اس کلام سے افادہ فرمایا کہ صرف سجدہ مشرو ع میں ایسا ہے کہ کسی بھی ہیات پر ہو اس میں بندے سے و ضو نہ جائے گا ، سجدہ مشرو ع جیسے سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو سب کے نزدیك اور سجدہ شکر صاحبین کے نزدیك ۔ اور سجدہ شکرچوں کہ امام اعظم کے نزدیك مشرو ع نہیں اس لئے وہ اس میں نیند کے ناقض ہونے کے قائل ہیں جب کہ مسنون ہیئت پر نہ ہو۔
حلیہ کے حوالے سے اندرون نماز سونے سے متعلق جو کلام ہم نے پہلے نقل کیا اس کے بعد اس میں ہے “ اور اگر بیرون نماز ہو (اس کے بعد وہ صورتیں ذکر کیں۔ پھر کہا) اگر کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات پر کسی چیز سے ٹیك لگائے بغیر سوگیا تو بدائع میں ہے کہ عامہ علماء اس پر ہیں کہ وضو نہ جائے گا اس لئے کہ ان صورتوں میں بندش باقی رہتی ہے ۔ اور تحفہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ایسی نیند حدث نہیں جیسے اندرون نماز اسی پر خلاصہ میں مشی ہے اور ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے اور ہیات رکوع وسجود سے متعلق خانیہ میں اس کے بر عکس یہ بتایا کہ وہ ظاہر الروایہ میں حدث ہے ، اور اول ہی
ھو المشھور کما فی الذخیرۃ [3] اھ ملخصا
فافادان فــــ۱ کلامھم ھذا فی غیر الصلٰوۃ وافادفـــ۲ ببقاء الاستمساك ان المراد ھیاۃ السجود المسنونۃ فھذا الذی یشم من عبارۃ ردالمحتار لیس مراد الخلاصۃ ولاالتحفۃ ولا الخانیۃ ولا الذخیرۃ ولا الحلیۃ فلیتنبہ۔
بقیت اربع :
و۱ھی الھیاۃ المسنونۃ خارج الصلوۃ فی السجدۃ المشروعۃ او۲غیرھا۳ وغیرالمسنونۃ فی السجدۃ المشروعۃ فی الصلوۃ او۴ غیرھا۔
فھذہ تجاذبت فیھا الاٰراء ووجدت ھھنا مما اعتمدہ المصنفون فی تصانیفھم المتداولۃ فی المذھب اربعۃ اقوال۔
الاول ان کان علی ھیأۃ المسنونۃ لاینقض ولو خارج الصلوۃ ، وعلی غیرھاینقض ولو
مشہور ہے ، جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ ملخصا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع