30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظاہر الروایۃ ہے اھ۔
اقول : یہ اطلاق (کہ نماز اور بیرون نماز مسنون یا غیر مسنون جس ہیات سجدہ پر بھی سوجائے وضو ٹو ٹ جائے گا ) اگر کسی سے صادر ہے اور کوئی اس کا قائل ہے تو اس کے خلاف نص حدیث اور عہد قدیم وجدید کے ائمہ کی تصریحات حجت ہیں حلیہ کے حوالے سے گزرچکا کہ اس بارے میں ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں ، رہا خانیہ کا حوالہ جو علامہ شامی نے پیش کیا تو خانیہ نے اس اطلاق کے ساتھ اسے بیان ہی نہ کیا ۔ ملا حظہ ہو اس کی عبارت یہ ہے ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کے اندر سونا حدث نہیں ہوتا ، قیام میں سوئے یا رکوع یا سجدے میں سوئے لیکن بیرون نماز اگر رکوع و سجود کی ہیات پر سوئے تو شمس الائمہ حلوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ ظاہر روایت میں یہ حدث ہے ، اور کہا گیا کہ اگر سنت کے طور پر سجدہ کی حالت ہو اس طرح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے ، بازو کروٹوں سے جدا کئے ہوئے ہو کہ پیچھے والا بغلوں کی سیاہی دیکھ لے تو حدث نہ ہوگا ، اور اگر خلاف سنت سجدہ ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے ملادیا ہو اور کلائیاں بچھادی ہو ں تو حدث ہوگا اھ۔
فـــــ۱١ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲٢ : معروضہ اخری علیہ
فاین ھذا من ذاك فلیتنبہ نعم جاء ت خلافیۃ عن ابی یوسف فی تعمد النومی علی خلاف ظاھر الروایۃ الصحیحۃ المختارۃ ولا تختص فی تحقیقنا بالسجود بل تعم الصلاۃ کلہا کما سیاتی ان شاءالله تعالٰی۔
واجمعوا علی النقض فی السادسۃ وھی کونہ علی ھیاۃ سجود غیر مسنونۃ من غیرنیۃ اوفی سجدۃ غیر مشروعۃ اما ما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا قیل لایکون حدثا فی الصلاۃ وغیرھا وصححہ فی التحفۃ وذکر فی الخلاصۃ انہ ظاھر المذھب وفی الذخیرۃ ھو المشھور [1] اھ۔
فاقول : ان فـــ اراد بالساجد الساجد الشرعی فعزو الحکم الی الخلاصۃ یصح لکنہ اذن لایتناول الا سجود الصلاۃ والسہو والتلاوۃ والشکر و
بتائیے اس تفصیل کو اس اطلاق سے کیا نسبت ؟ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے ، ہاں قصدا سونے کے بارے میں امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہ سے صحیح ، ترجیح یافتہ ظاہر الروایہ کے بر خلاف ایك اختلافی روایت آئی ہے اور وہ ہماری تحقیق میں حالت سجدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ پوری نماز کو شامل ہے ، جیسا کہ ان شاء الله تعالی ذکر ہوگا
چھٹی صورت یہ کہ سجدہ غیر مسنون طریقہ پر ہوا اورسجدہ کی نیت بھی نہ ہو یا کسی ایسے سجدہ کی نیت ہو جو مشروع نہیں اس صورت میں سونے سے وضو ٹوٹ جانے پر اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہوا کہ “ سجدہ کرتے ہوئے سوجانا کہا گیا کہ یہ نماز میں اور بیرون نمازبھی حدث نہیں اسی کو تحفہ میں صحیح کہا ۔ اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے ۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ یہی مشہور ہے اھ “
فاقول : اگر سجدہ کرنے والے سے شرعی سجدہ کرنے والا مراد لیا تو خلاصہ کا حوالہ صحیح ہے ، لیکن اس تقدیر پریہ صرف سجدہ نماز ، سجدہ سہو ، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کو شامل
فـــ : معروضۃ ثالثۃعلیہ۔
یبقی کلامہ ساکتا عن حکم مااذا کان علی ھیاۃ سجود من دون سجود او فی سجود غیر مشروع کما یفعلہ بعض الناس عقیب الصلاۃ ولا شك ان کلام الخلاصۃ والخانیۃ والتحفۃ والبدائع والحلیۃ التی لخص منہا ھذا الفصل یشمل ھذہ الصور کلہا فلاوجہ لاخراجہا عن الکلام مع ان الحاجۃ ماسۃ الی ادراك حکمہا ایضاوان اراد من کان علی ھیاۃ سجود ولو لم ینوہ اولم یشرع فیجب ان یکون المراد الھیاۃ المسنونۃ للرجال لانھا المانعۃ عن الاستغراق فی النوم فکان کالنوم قائما او علی ھیاۃ رکوع اما ان یؤخذ العموم فی الساجد کما احاط بہ کلمات المنقول عنہم جمیعا وقد اشار الیہ فی الخلاصۃ حیث عبر فی الصلاۃ بلفظۃ ساجدا وفی خارجہا بلفظۃ علی ھیاۃ السجود وفی الھیاۃ ایضا کما ھو قضیۃ ردالمحتار حیث ذکر تفصیل الھیاۃ فی قول ثالث مقابل لہذا حتی یلزم ان لاینقض نوم من نام فی غیر سجود مشروع علی ھیاۃ سجود المرأۃ
ہوگا ، اور ان کاکلام اس صورت کا حکم بتانے سے ساقط رہ جائے گا جب بے نیت سجدہ محض ہیات سجدہ ہو یا کوئی غیر مشرو ع سجدہ ہو جیسا کہ بعض لوگ بعد نماز سجدہ کرتے ہیں ، حالاں کہ خلاصہ ، خانیہ ، تحفہ ، بدائع اور حلیہ جن سے اس فصل کی تلخیص کی گئی ہے سب کاکام ان ساری صورتوں کو شامل ہے تو مذکورہ صورتوں کو کلام سے خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب کہ ان صورتوں کا بھی حکم دریافت کرنے کی ضرورت موجود ہے ، اور اگر ساجد سے وہ مراد ہے جو ہیأت سجدہ پر ہو ا گرچہ سجدہ کی نیت نہ رکھتا ہو یا وہ سجدہ مشروع نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس سے مراد وہ ہیات ہو جو مردو ں کے لئے مسنون ہے کیونکہ وہی حالت نیند کے استغراق سے روکنے والی ہے تو یہ ایسے ہی ہوا جیسے کھڑے کھڑے یا رکوع کی ہیات پر سوجانا ، لیکن یہ کہ ساجد میں عموم مراد لیا جائے ، جیساکہ ان حضرات کی عبارتیں اس کا احاطہ کرتی ہیں جن سے یہ احکام نقل کئے گئے ہیں ، اور خلاصہ میں بھی اس کی طر ف اشارہ ہے اس طر ح کہ اندرون نماز کی تعبیر لفظ ساجد سے کی ہے اور بیرون نماز کی تعبیر ہیات سجدہ سے کی ہے ، او رہیات میں بھی عموم مراد لیا جائے ، جیساکہ یہ کلام ردالمحتار کا مقتضا ہے اس لئے کہ انہوں نے ہیات کی تفصیل اس کے مقابل ایك تیسرے قول میں ذکر کی ہے اس پر یہ الزام آئے گا کہ جوکسی غیر مشرو ع سجدہ میں سجدہ عورت کی ہیات پر سوجائے تو اس کی نیند ناقض وضو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع