30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نام قاعدا یتمایل فسقط ان انتبہ حین سقط (ای قبل ان یصیب جنبہ الارض ط حلیہ ش او عند اصابۃ جنبہ الارض بلا فصل ط غنیہ ش) فلا نقض بہ یفتی (اما لواستقر ثم انتبہ نقض لانہ وجد النوم مضطجعا حلیہ ش) کناعس یفہم اکثر ما قیل عندہ(قال الرحمتی ولا ینبغی ان یغتر الانسان بنفسہ لانہ (بما یستغرقہ النوم ویظن خلافہ ش ) مزیدا مابین الاھلۃ منّی ومن ط وش )۔ [1]
نہ ٹوٹے گا ، اگر بیٹھے بیٹھے سوگیا اور ہچکولے کھاکر گر ا اور گر تے ہی بیدار ہوگیا( یعنی پہلو کے زمین پر لگنے سے قبل ط حلیہ ش یا پہلو کے زمین پر لگتے ہی بلا تاخیر گراط غنیہ ش) تو وضو نہ ٹوٹے گا یہی مفتی بہ قول ہے ، لیکن اگر ٹھہرگیا پھر بیدار ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گاکیونکہ کروٹ لینے کی حالت نیند میں پائی گئی حلیہ ش ) جیسے اونگھنے والا ، اکثر باتیں سمجھتا ہے(رحمتی نے کہا کہ انسان کو دھوکے میں نہ رہنا چاہئے ، کبھی اس پر نیند کا غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کے خلاف گمان کرتا ہے ، ش )ہلالوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ عبارت درمختار پر میرا اور شامی وطحطاوی کا اضافہ ہے۔
افادات عدیدۃ مضیدۃ(مفیدۃ) سدیدۃ
الاولٰی : فــــ اعلم ان النوم علی وضع سجود فیہ خلف کثیر ونزاع ممدود وانا ارید ان شاء الکریم المجید ان اذکرہ علی وجہ حاصر یجلوبہ الحق کبدر زاھر وما توفیقی
افادہ اولٰی : سجدے کی ہیات پر سونے کے مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف ونزاع پایا جاتا ہے ، بمشیت رب کریم میں اسے ایسی احاطہ کن صورت میں بیان کرناچاہتا ہوں جس سے حق بدر تابندہ کی طر ف روشن ہوجائے ۔ اور مجھے توفیق نہیں
فــــ : تحقیق شریف للمصنف ان الصلوۃ وغیرھا فی نقض الطھارۃ بالنوم سواء۔
الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب۔
فاقول : واستعین بالقریب المجیب ذلك الوضع الذی نام فیہ اماان یکون علی الھیاۃ المسنونۃ للرجال اوعلی غیرھاوکل امافی الصلاۃ ومنھا سجود السھو وسہامن نقل الخلاف فیہ کمانبہ علیہ فی الفتح او فی سجدۃ مشروعۃ خارجہا وھی سجدۃ التلاوۃ والشکرا وفی غیر ذلك ویدخل فیہ ماکان علی ھیاۃ ساجد ولم ینوھا اصلا فالصورست۔
وقد اجمعوا علی عدم النقض فی الاولی وھی السجود فی الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃاماما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا فی الصلاۃ وغیرھا قیل یکون حدثا ای مطلقًا سواء کان علی الھیاۃ المسنونۃ اولا لانہ ذکر ھذا التفصیل من بعد فی قول مقابل لہ قال وذکر فی الخانیۃ انہ
مگرخداہی کی طر ف سے ، اسی پرمیرا توکل ہے اور اسی کی طر ف رجوع لاتاہوں۔
فاقول : و رب قریب مجیب کی مدد لیتے ہوئے عرض پر داز ہوں ، سونے والا جس وضع سجدہ پرسویاہے وہ یاتومردوں کے لئے سجدہ کی مسنون ھیأت کے مطابق ہوگی یامسنون ھیأت نہ ہوگی ، دونوں صورتیں یا تو نماز میں ہوں گی ، اسی میں سجدہ سہو بھی شامل ہے اور جس نے اس سے متعلق اختلاف نقل کیااس سے سہو ہو اجیسا کہ فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے یا بیرون نماز کسی جائز ومشروع سجدہ میں ہوں گی ، یہ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکرہے ، یا ان سب کے علاوہ میں ہوں گی اسی میں وہ بھی داخل ہے جو سجدہ کی ہیات پر ہو اور سجدہ کی کوئی نیت نہ ہو ، تویہ کل چھ صورتیں ہوئیں۔
پہلی صورت یہ کہ نماز میں مسنون طریقہ پر سجدہ ہو ، اس صورت پر سوجانے سے وضو نہ ٹوٹنے پر سب کا اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہے کہ : بحالت سجدہ نماز میں اور بیرون نماز سوجانا کہا گیاکہ حدث ہے ، یعنی مطلقًا خواہ مسنون طریقے پر ہو یا نہ ہو ، یہ اس لئے کہ علامہ شامی نے یہ تفصیل آگے اس کے مقابل ایك قول میں خود بیان کی ہے ، آگے لکھتے ہیں ، اور خانیہ میں ذکر کیا کہ یہی
ظاھر الروایۃ۔ [2]
فاقول : ھذا فــــ۱ الاطلاق ان صدر عن احد فھو محجوج بنص الحدیث وتصریحات ائمۃ القدیم والحدیث وقد تقدم عن الحلیۃ ان لاخلاف عندنا فی ذلك اماالخانیۃ فـــ۲٢ فلم تذکرہ بھذا الارسال وانما نصہا ھکذا ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا نام قائما او راکعا اوساجدا اما خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الرکوع والسجود قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالٰی یکون حدثا فی ظاھر الروایۃ وقیل ان کان ساجدا علی وجہ السنۃ بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحیث یری من خلفہ عفرۃ ابطیہ لایکون حدثا وان کان ساجدا علی وجہ غیر السنۃ بان الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ کان حدثا[3] اھ
[1] الدرالمختار کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضو مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶ ، ۲۷ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضو دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۵تا۹۷ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار بحث نواقض الوضو المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۲
[2] ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، بحث نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
[3] فتاوی قاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی النوم ، نولکشور لکھنو ۱ / ۲۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع