دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

قلت یہی اوضح اور اوجہ ہے ۔

اور درمختار میں ہے کہ نیز وضو کو حکما وہ نیند توڑدیتی ہے جو چستی کو زائل کردے ، اس طرح کہ اس کی مقعد زمین سے اٹھ جائے ، مثلا ایك پہلو پر سوگیا یا سرین پر سوگیا یا گدی یا چہرے کے بل سوگیا ، اور چستی زائل نہ کرتی ہو تو ناقض وضو نہیں خواہ وہ قصدا ہی سوگیا ہو نماز میں ہو نہ ہو ، مختار یہی ہے ( فتح میں اس کی تصریح ہے ، شرح وہبانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایۃ میں ہے کہ نماز میں سونا کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر ، یا سجدہ میں ۔ حدث نہ ہوگا خواہ نیند کا غلبہ ہوگیا یا قصدا نیند آئی ہو ، ش) جیسے کسی ایسی چیز سے ٹیك لگا کرسوگیا کہ اگر اس کو ہٹایاجائے تو گر پڑے ، یا بیٹھ کر سوگیا(ابو حنیفہ سے ظاہر مذہب یہی ہے اور تمام مشائخ نے اسی کو لیاہے اور یہی اصح ہے جیسا کہ بدائع میں ہے ، ش)اور اس پر فتوی ہے جواہر الاخلاطی کا اور جو شخص مسنون حالت پر سوگیا ، یعنی اس کا پیٹ رانوں سے جداہوں ، بازو پہلوؤں سے جداہوں ، بحر ۔ طحطاوی نے کہا کہ بظاہر اس سے مراد وہ مسنون ہیئت ہے جو مردو ں کے لئے ہے نہ کہ عورت کے لئے ، ش

اقول :   یہ استظہار کا مقام نہیں ہے اس کی تصریح بڑے بڑے علماء مثلا قاضی خان

 

فــــ :  معروضۃ علی العلامتین ط و ش۔   

وغیرہ علا انھم فــــ لولم یصرحوا لکان ھو المتعین للارادۃ لان المقصود ھیاۃ تمنع الاستغراق فی النوم کما لایخفی) ولوفی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی اومتورکا(بان یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض فتح ش)اومحتبیا (بان جلس علی الیتیہ ونصب رکبتیہ وشدساقیہ الی نفسہ بیدیہ اوبشیئ یحیط من ظہرہ علیہما شرح المنیۃ ش ۔

اقول :  ولا مدخل ھھنا لوضع الیدین فانما مطمح النظر تمکین الورکین ولذا عممت) وراسہ علی رکبتیہ (غیر قیدش وبالاولی اذا لم یکن رأسہ کذلك ط)اوشبہ المنکب (ای علی وجہہ وھو کما فی شروح الہدایۃ ان ینام واضعا الیتیہ علی عقبیہ وبطنہ علی فخذیہ ونقل عدم النقض بہ فی الفتح عن الذخیرۃ ایضا ش۔  

قلت ونقل فی الہندیۃ عن محیط وغیرہ نے کی ہے ، علاوہ ازیں اگر وہ اس کی تصریح نہ بھی کرتے تو یہی متعین ہوتاکیونکہ اس سے مراد ایسی ہیئت ہے جو نیند میں مستغرق ہوجانے سے مانع ہو اور یہ ظاہر ہے) یہ صورت خواہ نماز کے علاوہ ہی کیوں نہ ہوئی ہو ، معتمد مذہب یہی ہے ، اس کو حلبی نے ذکر کیا یا بطور تورك (یعنی وہ اپنے دونوں قدم ایك طرف نکال لے اور اپنے سرین زمین سے چپکا دے ، فتح وش) “ او محتبیا “ یا اپنے سرین پر بیٹھ جائے اور اپنی دونوں پنڈلیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے یا کسی چیز سے پیٹھ سے باندھ دے شرح منیہ ش۔

اقول :  اس میں ہاتھ کی وضع کا کوئی دخل نہیں ہے اصل مقصود تو دونوں سرینوں کا جمانا ہے ، اس لئے میں نے اس کو عام رکھا ہے اور اس کا سر اس کے دونوں گھٹنوں پر ہو (یہ قیدنہیں ، ش ، اور جب اس کا سر اس طر ح نہ ہو تو بطریق اولی ایسا ہوگا ، ط) یااوندھے کے مشابہ (یعنی چہرے کی بل سونے والے کی طر ح اوراس کی ہیئت جیسا کہ ہدایہ کی شروح میں ہے یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں سرین اپنی دونوں ایڑیوں پر رکھے اور اپنا پیٹ اپنی دونوں رانوں پر رکھے اور اس میں نہ ٹوٹنا فتح میں ذخیرہ سے بھی منقول ہوا ، ش۔

قلت ہندیہ میں محیط سرخسی سے منقول ہے

 

فــــ :  معروضۃ اخری علیھما

السرخسی انہ الاصح قال ش ثم نقل فی الفتح عن غیرھا لونام متربعا و رأسہ علی فخذیہ نقض قال وھذا یخالف مافی الذخیرۃ واختار فی شرح المنیۃ النقض فی مسألۃ الذخیرۃ لارتفاع المقعدۃ وزوال التمکن واذ ا نقض فی التربع مع انہ اشد تمکنا فالوجہ الصحیح النقض ھنا ثم ایدہ بما فی الکفایۃ عن المبسوطین من انہ لونام قاعدا او وضع الیتیہ علی عقبیہ وصارشبہ المنکب علی وجہہ قال ابو یوسف علیہ الوضوء  اھ

اقول :   ومن عرف المناط عرف القول الفصل فمن حناراسہ بحیث لم یرفع عجزہ عن الارض لم ینقض وھو مراد الشارح ومن حنا حتی رفع نقض وھو مراد الغنیۃ ولذا عولت علی ھذا التفصیل) اوفی محمل او سرج اواکاف (حال الصعود وغیرہ منیۃ ش ) ولوالدابۃ عریانا فان حال الھبوط نقض (لتجافی المقعدۃ عن ظھر الدابۃ حلیہ ش) والا(بان کان حال الصعود والاستواء منیۃ ش) لاولو

کہ اصح یہی ہے ، ش نے کہا پھر فتح میں ذخیرہ کے علاوہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص پالتی مار کر بیٹھا اور اسی حال میں سوگیا اور اس کا سرا س کی دونوں رانوں پر ہے تو وضو ٹو ٹ گیا ، یہ ذخیرہ کے مخالف ہے اور شرح منیہ میں ذخیرہ کی بیان کر دہ صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کو پسند کیا ہے کیونکہ مقعد اٹھ گئی اور استقرار ختم ہوگیا ، اور جب پالتی مار کر بیٹھنے کی صورت میں وضو ٹو ٹ گیا حالانکہ اس میں استقرار زیادہ ہے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہاں بھی ٹوٹنا چاہئے ، پھر کفایہ کی عبارت جو دونوں مبسوطوں سے منقول ہے سے تائیدکی ، اس میں یہ ہے کہ اگر بیٹھ کر سوگیا یا اپنی سر ین کو اپنی ایڑیوں پر رکھا اور اوندھا ہوگیا تو ابو یوسف فرماتے ہیں اس پر وضو لازم ہے اھ۔

اقول :  جو شخص مناط کو جانتا ہے ہے وہ فیصلہ کن قول کو سمجھ سکتا ہے ، جس شخص نے اپنا سر جھکا یا مگر اپنی سرین زمین سے نہ اٹھائی تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور یہی مراد شارح کی ہے ، اور اگر سرین اٹھ گئے تو ٹو ٹ جائے گا ۔ اور غنیہ کی مراد یہی ہے اس لئے میں نے اس تفصیل پر اعتماد کیا ہے ، یا کسی محمل یا زین یانمدہ میں (چڑھنے کی صورت ہویا کوئی اور صورت ، منیہ ش) اور اگر سواری کے جانور پر زین وغیرہ نہ ہو تو اتر تے وقت وضو ٹو ٹ جائے گا ( کیونکہ سواری کی پشت سے مقعد ہٹ گئی ہوگی ، حلیہ ش ، ) ورنہ ( مثلا یہ کہ چڑھنے یا بیٹھنے کی حالت میں ہو ، منیہ ش)تو وضو

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن