30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وفی متن نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح فی فصل مالاینقض الوضوء (و) منہا (نوم مصل ولو راکعا اوساجدا) اذا کان (علی جہۃ السنۃ)
تورك کے یہی معنی تحفہ ، بدائع اور محیط رضی الدین میں ہیں ، تو بالاتفاق وضوٹوٹ جائے گا اھ ملتقطا
اور رد المحتا ر میں ہے کہ مریض چت لیٹ کر نماز پڑھ رہا تھا کہ سوگیا تو صحیح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ گیا ، جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے ، اور سراج میں اتنا اضافہ ہے کہ “ ہم اسی کو اختیار کر تے ہیں اھ۔
اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں نیند صرف اضطجاع یا اتکاء کی صورت میں ناقض وضو ہے اور اضطجاع کی دو صورتیں ہیں ایك تو یہ کہ اس پرنیند کا غلبہ ہوگیا تو سوگیا پھر سونے کی حالت ہی میں لیٹ گیا تو اس کا حکم اس حدث کا ساہے جو بے اختیار ہوگیا ۔ ایسی صورت میں وضوکر کے نماز کی بناء کرے گا ۔ اور اگر قصدا نماز میں لیٹ کر سویا تو وضو کرے گا اور از سر نو نماز ادا کرے گا ۔ اور اگر کسی معذوری کے باعث نماز لیٹ کر پڑھ رہا تھا کہ سوگیا وضو ٹو ٹ جائے گا اھ
اورنور الایضاح کے متن اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں فصل مالا ینقض الوضوء میں ہے : “ اور نواقض وضو میں نہیں ہے نمازی کا رکوع یا سجود میں سوجانا بشرطیکہ مسنون طریقہ کے مطابق
فی ظاھر المذھب [1] اھ
وفی منحۃ الخالق عن النھرالفائق عن عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء بنوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح [2] اھ
وقال المحقق الکبیر فی شرح المنیۃ الصغیر والمعتمد انہ ان نام علی الھیئۃ المسنونۃ فی السجود رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا مرفقیہ عن جنبیہ لایکون حدثاوالا فھو حدث لوجود نہایۃ استرخاء المفاصل سواء کان فی الصلاۃ اوخارجہا وتمام تحقیقہ فی الشرح [3] اھ
وفی التنویر والدر قام اوقرأ اورکع او سجد او قعد الاخیر نائما لا یعتد بہ بل یعیدہ ولو القراء ۃ اوالقعدۃ علی الاصح وان لم یعد تفسد ولو رکع اوسجد فنام فیہ اجزأہ لحصول الرفع منہ والوضع [4] اھ
ولفظ المراقی وان طرأ فیہ
ہوظاہر مذہب میں اھ “ اور منحۃ الخالق میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے عقد الفرائد سے نقل کیا کہ نماز کے سجدہ میں سوجانا وضو کو نہیں تو ڑ تا جبکہ مسنون طریقہ پرہو ، اس قید کا ذکر محیط میں ہے اوریہی صحیح ہے اھ۔
محقق کبیر نے شرح منیۃ الصغیر میں فرمایا ، اگر سجدہ میں ہیئت مسنونہ پر سویا کہ پیٹ رانوں سے اور بازو پہلو سے دور ہوں تو حدث نہیں ہوگا ورنہ بو جہ کشادگی مفاصل حدث ہے بحالت ایں نماز میں ہویا نہ ہو ، اس کی مکمل تحقیق شرح میں ہے اھ
اور تنویر اور درمیں ہے ، اگر کسی نے قیام ، قراء ت ، رکوع ، سجود یا قعدہ بحالت نیند کیا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا اس پر اس رکن کا اعادہ لازم ہے ، خواہ قراء ت یا قعدہ ہی کیوں نہ ہو ، اصح یہی ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اور اگر رکوع کیا یا سجدہ کیا پھر اسی حالت میں سوگیا تو یہی کافی ہے کیونکہ اس حالت میں جانا اور اس سے واپس آنا پایا گیا اھ۔
اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر کسی رکن میں
النوم صح بما قبلہ منہ [5] اھ
قلت وھو اوضح و اوجہ ،
وفی الدر المختار ایضا ینقضہ حکما نوم یزیل مسکتہ بحیث تزول مقعدتہ من الارض وھو النوم علی احد جنبیہ او ورکیہ اوقفاہ او وجہہ والا یزل مسکتہ لاینقض وان تعمدہ فی الصلاۃ اوغیرھا علی المختار(نص علیہ فی الفتح وھو قید فی قولہ فی الصلاۃ قال فی شرح الوھبانیۃ ظاھر الروایۃ ان النوم فی الصّلاۃ قائما اوقاعدا اوساجدا لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمدہ ش) کالنوم قاعدا اومستندا الی مالوازیل لسقط علی المذھب(ای ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ وبہ اخذ عامۃ المشائخ وھو الاصح کما فی البدائع ش وعلیہ الفتوی جواھر الاخلاطی) وساجد علی الھیاۃ المسنونۃ (بان یکون رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحر قال ط وظاھرہ ان المراد الھیئۃ المسنونۃ فی حق الرجل لاالمرأۃ ش۔
اقول : لیس فـــ ھذا محل الاستظھار وقد صرح بہ السادۃ الکبار کقاضی خان
نیند آگئی تو اس سے پہلے والا رکن صحیح رہا اھ۔
[1] مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، فصل عشرۃ اشیاء... الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت ص۹۴
[2] منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
[3] صغیر ی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوءمطبع مجتبائی دہلی ص ۷۸
[4] الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
[5] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، باب شروط الصلوۃ وار کانہا ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ص۲۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع