30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــــہ : یہ بیس صورتیں کلمات علماء میں منصوص ہیں جو باقی صورت اور کوئی پائی جائے اُس کیلئے ضابطہ بتایا گیا ہے اگر اُس کا حکم کتابوں سے نہ ملے تو اس ضابطہ سے نکال لیں یا اختلاف پائیں تو جو قول اس ضابطہ کے مطابق ہو اُس پر عمل کریں کما سیاتی التصریح بہ عن الغنیۃ ان شاء الله تعالٰی (جیسا کہ اس کی تصریح بحوالہ غنیہ آگے آرہی ہے)۱۲ منہ (م)
اقول : مگر یہ اُس ضابطہ منقحہ کے خلاف ہے کہ سرین دونوں جمے ہیں لیکن یہ صورت بہت نادرہ ہے ، تو احتیاطًا عمل کرلینے میں حرج نہیں ، والله تعالٰی اعلم۔ اور صورت بستم میں اگرچہ خاص دربارہ سجدہ نماز یا سجدہ مشروعہ مطلقًا نزاع طویل وہجوم اقاویل ہے مگر تحقیق احق فــــ۱ یہی ہے کہ جملہ صور مذکورہ بستگانہ میں نماز وغیر نماز سب کا حکم یکساں ہے ، نماز میں بھی سونے سے وضو نہ جانے کیلئے دونوں سرین کا جما ہونا یا ہیأت کا مانع استغراقِ نوم ہونا ضرور ہے ، ولہٰذا یہی اکابر تصریح فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں لیٹ کر سویا وضو نہ رہے گا عام ازینکہ چت ہو یا پٹ یا کروٹ پر یا ایك کہنی پر تکیہ دیے ، عام ازیں کہ قصدًا لیٹا ہو یا سوتے میں لیٹ گیا اور فورًا فورًا جاگ نہ اُٹھا فــــ۲حتی کہ اگر کوئی شخص بیماری کے سبب بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو اُسے بھی اگر لیٹے لیٹے پڑھنے میں نیند آگئی وضو جاتا رہے گا۔ غرض پہلی دس فــــ۳ صورتیں جن میں وضو نہیں جاتا اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی نہ جائے گا نہ نماز فاسد ہو اگرچہ قصدًا سوئے ، ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اُس کا اعادہ ضرور ہے اگرچہ بلا قصد سوجائے ، اور جو جاگتے میں شروع کیا اور اُس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا ، اور پچھلی دس صورتیں جن میں وضو جاتا رہتا ہے اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی جاتا رہے گا ، پھر اگر ان صورتوں پر قصدًا سویا تو نماز بھی گئی وضو کرکے سرے سے نیت باندھے اور بلاقصد سویا تو وضو نہ گیا نماز باقی ہے ، بعد وضو پھر اسی جگہ سے پڑھ سکتا ہے جہاں نیند آگئی تھی ، پھر سب صورتوں میں سونے کی تخصیص اس لئے ہے کہ اونگھ ناقضِ فــــ۴ وضو نہیں جبکہ ایسا ہوشیار رہے کہ پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو ، یونہی اگر بیٹھے فــــ۵بیٹھے جھوم رہا ہے
فــــ۱ : مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ نیند کی تمام صورتوں میں نماز وغیرنماز سب کا حکم یکساں ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : بیمار لیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وضو نہ رہا۔
فـــــ۳ : مسئلہ : نماز میں سونے کا کلیہ یہ ہے کہ اگر ان دس صورتوں پر سویا جن میں وضو نہیں جاتا تو نہ وضو جائے نہ نماز فاسد ہو ، ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اس کا اعادہ ضرور ہے ، اور جوجاگتے میں شروع کیا اور اس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا اگر وہ بقدر ادا ئے رکن تھا کافی ہے ، ان احکام میں قصد اسونا اور بلا قصد سوجانا سب برابر ہے ، اور اگران دس صورت پر سویا جن میں وضو جاتا رہتا ہے تو وضو تو گیا ہی پھر اگر قصدًا سویا تو نماز بھی فاسد ہوگئی ورنہ وضو کر کے جہاں سویا وہاں سے باقی نماز ادا کر سکتا ہے ۔
فــــ۴ : مسئلہ : اونگھنے سے وضو نہیں جاتا جب کہ ہوشیاری کا حصہ غالب ہو۔
فــــ۵ : مسئلہ : بیٹھے بیٹھے نیند کے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا اگر چہ کبھی ایك سرین اٹھ جاتا ہو۔
وضو نہ جائے گا اگرچہ جُھومنے میں کبھی کبھی ایك سرین اُٹھ بھی جاتا ہو بلکہ اگرچہ جھوم فـــ۱کر گر پڑے جبکہ فورًا ہی آنکھ کھل جائے ، ہاں اگر گرنے کے ایك ہی لمحہ بعد آنکھ کھُلی تو وضو نہ رہے گا۔
اقول : یہ قید ان سب صورتوں میں ہے جن میں وضو جانابیان ہوا کہ اُنہیں صورتوں پر سونا پایا جائے اور اگر سویا فـــ۲ اُس شکل پر جس میں وضو نہ جاتا اور جسم بھاری ہو کر یہ شکل پیدا ہوئی جس سے جاتا رہتا مگر پیدا ہوتے ہی فورًا بلاوقفہ جاگ اُٹھا وضو نہ جائے گا جیسے سجدہ مسنونہ میں سویا اور کلائیاں زمین سے لگتے ہی آنکھ کھل گئی اور یہ بھی فــــ۳یاد رہے کہ آدمی جب کسی کام مثلًا نماز وغیرہ کے انتظار میں جاگتا ہو اور دل اس طرف متوجہ ہے اور سونے کا قصد نہیں نیند جو آتی ہے اسے دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ غافل ہوگیا جو باتیں اس وقت ہوئیں اُن کی خبر نہیں بلکہ دو دو تین تین آوازوں میں آنکھ کھلی اور وہ اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نہ سویا تھا اس لئے کہ اس کے ذہن میں وہی مدافعت خواب کا خیال جما ہوا ہے یہاں تك کہ لوگ اس سے کہتے ہیں تُو سو گیا تھا ، وہ کہتا ہے ہرگز نہیں ، ایسے خیال کا اعتبار نہیں جب معتمد شخص کہے تو غافل تھا ، پکارا ، جواب نہ دیا ، یا باتیں پُوچھی جائیں اور یہ نہ بتاسکے تو وضو لازم ہے۔
فی الحلیۃ النوم ان کان فی الصلاۃ فلیس بحدث الا ان یکون مضطجعا وقال قاضی خان اومتکئا ثم فی بعض شروح القدوری الاتکاء فــــ۴عام والاستناد خاص وھو اتکاء الظھر لاغیر قلت
حلیہ میں ہے نیند بحالت نماز حدث نہیں ہے ، ہاں اگر کروٹ لیٹ کر ہو تو حدث ہے ۔ اور قاضی خاں نے اس میں ٹیك لگا کر سونے کو بھی شامل کیا ہے پھر قدوری کی بعض شرو ح میں ہے کہ اتکاء عام ہے اور استناد خاص ہے کیونکہ استناد میں صرف پیٹھ لگانا ہی ہوتا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ قاضی خان
فـــــ۱ : مسئلہ : جھوم کر گر پڑا اگر معا آنکھ کھل گئی وضونہ گیا۔
فـــــ۲ : مسئلہ : ان دسوں صورتوں میں جن سے وضو جاتا ہے ، یہی قید ہے کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے ورنہ اگر سویا اس صورت پر کہ وضو نہ جاتا اور نیند میں اس شکل پر آگیا جس میں جاتا ہے مگر معاشکل پیدا ہوتے ہی بلا وقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع