30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
البحر الرائق میں ہے : حسن سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقضِ وضو نہیں ، امام حلوانی نے فرمایا : اس میں خارش یا چیچك والوں کے لئے وسعت ہے ایسا ہی معراج میں ہے اھ منحۃ الخالق میں ہے : جمہرہ میں کہا : بولا جاتا ہے تَنَفَّطَتْ یَدُ الرَّجُل ، جب آدمی کے ہاتھ کی جلدکام کی وجہ سے پتلی ہو جائے اور اس میں پانی جیسی چیز پیدا ہو جائے اور بولتے ہیں : الکف نفیطۃ و منفوطۃ ( ہتھیلی آبلہ دار ہو گئی ) ایسا ہی غایۃ البیان میں ہے ۔ آگے لکھا : وضو ٹوٹنا ا س وقت ہے جب آبلہ کی اصل خون ہو اور کبھی شروع ہی سے پانی ہوتا ہے اھ ثم اقول : اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب آبلہ میں اتنا خون یا پیپ ہو جو پانی کو ناپاك کر دے ورنہ حجّت وہ نصوص ہیں جو پہلے ہم رقم کر چکے والله تعالٰی اعلم ۔ (ت)
______________________
رسالہ
نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم۱۳۲۵ھ
(قوم کو تنبیہ کہ کس نیند سے وضوء فرض ہوتا ہے )
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ۱۱ : ۱۴ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کس طرح کے سونے سے وضو جاتا ہے اس میں قول مننقح کیا ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمدلله الذی لاتأخذہ سنۃ ولا نوم وافضل الصلاۃ والسلام بعدد اٰنات کل یوم علٰی من لا ینام قلبہ فما کان وضوؤہ لینتقض
تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جس پر نیند طاری نہیں ہوتی اور افضل درود و سلام ہر روز آنات کی تعداد کے مطابق اس ذات پر جس کا دل نہیں سوتا اور جس کا وضو نیند سے
بالنوم وعلی اٰلہ وصحبہ الذین نبھوا فنبّھوا من نوم الغفلۃ غفلۃ القوم۔
نہیں ٹوٹتا اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو بیدار ہوئے اور قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا ۔ (ت)
امام المدققین سیدی علاء الدین دمشقی حصکفی وعلامہ جلیل ابو الاخلاص حسن شرنبلالی ومحقق بالغ النظر سیدی ابرہیم حلبی ودیگر اکابر اعلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہم نے درمختار ونور الایضاح وغنیہ وصغیری وغیرہا میں بعد احاطہ اقوال جو اس باب میں قول منقح فہیم مستفید من القی السمع وھو شھید کیلئے افادہ فرمایا اس کا حاصل وعطر محاصل یہ ہے کہ نیند فــــ۱ دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے :
اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائیگا اور ایك بھی کم ہے تو نہیں ، مثلًا :
(۱)فـــ۲ دونوں سرین زمین پر ہیں اور دونوں پاؤں ایك طرف پھیلے ہوئے کرسی کی نشست اور ریل کی تپائی بھی اس میں داخل ہے۔
اقول : مگر فـــ ۳ یورپین ساخت کی کرسی جس کے وسط میں ایك بڑا سوراخ اسی مہمل غرض سے رکھا جاتا ہے اس سے مستثنٰی ہے اس کی نشست مانع حدث نہیں ہوسکتی۔
(۲) دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ ساقوں پر محیط ہیں جسے عربی میں احتبا کہتے ہیں خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر ہوں اگرچہ سر گھٹنوں پر رکھا ہو۔
(۳) دو زانو سیدھا بیٹھا ہو۔
(۴) چار زانو پالتی مارے ۔
یہ صورتیں خواہ زمین پر ہوں یا تخت یا چارپائی پر یا کشتی یا شقدف یا شبری یا گاڑی کے کھٹولے میں۔
فـــ۱ : نیند دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے ان میں سے ایك بھی کم ہو تو وضو نہ جائے گا
فـــ۲ : مسئلہ : سونے کی دس صورتیں جن سے وضونہیں جاتا۔
فـــ۳ : مسئلہ : کرسی مونڈھے پرپاؤں لٹکائے بیٹھا تھا ، سوگیا ، وضونہ گیا۔ مگر یورپین ساخت کی کرسی جس کی وسط نشست گاہ میں ایك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع