دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

 

فـــــ۱ : مسئلہ : اگر معاذ الله کیڑے قے ہو گئے یا سانپ ، وضو نہ جائے گا اگرچہ منہ بھرکر ہو ۔

فــــ۲ : مسئلہ : ہر جاندار کا پِتّہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے مثلًا آدمی کے پت نجاست غلیظہ ہیں گھوڑے گائے کے نجاست خفیفہ ۔

فــــ۳ : مسئلہ : ہر جانور کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے مثلًا اونٹ ، گائے ، بھینس ، بکری کی نجاست خفیفہ اور جلالہ کی غلیظہ ۔

وھو یقتضی انہ کذلك وان قاء من ساعتہ (ای لانہ ایضا واراہ جوفہ قال) وقد منا فی النواقض عن الحسن ماھوالاحسن وقد صححہ (ای صاحب التجنیس) بعد قریب ورقۃ فقال فی الصبی ارتضع ثم قاء فاصاب ثیاب الام ان زاد علی الدرھم منع قال و روی الحسن عن ابی حنیفۃ انہ لایمنع مالم یفحش لانہ لم یتغیر من کل وجہ فکان نجاستہ دون نجاسۃ البول بخلاف المرارۃ لانھا متغیرۃ من کل وجہ کذا فی غریب الروایۃ عن ابی حنیفۃ وھو الصحیح وفیہ ماذکرنا[1]  اھ فقد صححہ فی المعراج وغیرہ وقیل ھو المختار واستظہرہ المحقق وجعلہ الاحسن فلعل الی ھذا مال فی خزانۃ المفتین فحذف ذلك القید۔

قلت اولا  :  لو اختار ھذا ماکان لیعزوالی الخلاصۃ                         

اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر فورًا قے کی ہو تو بھی یہی حکم ہے (یعنی اس لئے کہ اسے بھی اس کے جوف نے چھپا لیا تھا ۔ آگے ہے : ) اور ہم نواقض میں حسن سے وہ نقل کر چکے ہیں جو احسن ہے اور تقریبًا ایك ورق کے بعد اسے ( صاحبِ تجنیس نے) صحیح بھی کہا ہے وہ فرماتے ہیں : بچہ نے دودھ پیا پھر قے کر دی جو ماں کے کپڑے پر لگ گئی اگر وہ ایك درہم سے زیادہ ہے تو ممانعت ہے اور حسن نے امام ابو حنیفہ سے روایت کی ہے کہ مانع نہیں جب کہ بہت زیادہ نہ ہو ، اس لئے کہ وہ پوری طرح متغیر نہ ہوا تو اس کی نجاست پیشاب کی نجاست سے کم ہو گی بخلاف پِتّے کے اس لئے کہ وہ ہر طرح بدل چکا ہے ، ایسا ہی غریب الروایہ میں امام ابو حنیفہ سے مروی اور وہی صحیح ہے اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا اھ تو اسے معراج وغیر ہ میں صحیح کہا اور کہا گیا کہ وہی مختار ہے اور حضرت محقق نے اسی کو ظاہر کہا اور احسن قرار دیا تو شاید خزانۃ المفتین کا میلان اسی طرف ہو اس لئے وہ قید حذف کر دی ۔

میں جواب دوں گا ، اولًا : اگر اسے اختیار کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا کہ خلاصہ کے

مالم تردہ۔  

وثانیا :  قد تبع الخلاصۃ بعد ھذا بسطرین فاطلق مسألۃ قیئ الطعام والماء اطلاقا کما ارسلت المتون والعامۃ۔

وثالثا :  رأیتنی کتبت علی ھامش الفتح من النواقض مانصہ قولہ وعلی ھذا یظھر مافی المجتبی الخ ۔

اقول :   وبالله التوفیق فی ھذا فــــ الظھور خفاء شدید فان الماء والطعام وان لم یستحیلا لکنہما یقبلان النجاسۃ بالمجاورۃ فاذا اعادا من معدن النجس کانا متنجسین وان لم یکونا نجسین فیجب النقض بھما کالریح طاھرۃ عینہا وناقض خروجھا لانبعاثھا من محل النجاسۃ نعم مسألۃ الدود والحیۃ واضحۃ الوجہ فانہما لایتداخلہما النجاسۃ وما علیہما قلیل فلا ینقضان الا اذا کثر خروجہما من غثیان واحد حتی بلغ ما علیہما الکثیران وقع ھذا                                            چھپا لیا ہو مثلًا پانی تھا پھر اس کی قے کی تو اس کا حکم اس کے پیشاب کا ہے انتہی ۔

کے حوالے سے وہ بات بیان کریں جو اس نے مراد نہ لی۔

ثانیًا : اس کے دو سطر بعد خلاصہ کی تبعیت کرتے ہوئے کھانے اور پانی کی قے کو مطلق بیان کیا ہے جیسے متون اور عامہ مصنفین نے بغیر قید کے ذکر کیا ہے ۔

ثالثًا : میں نے دیکھا کہ فتح القدیر باب النواقض کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا ہے : قولہ اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں ہے الخ۔

اقول : و بالله التوفیق اس ظہور میں شدید خفا ہے اس لئے کھانا اور پانی اگرچہ متغیر نہ ہوا مگر دونوں اتصال کی وجہ سے نجاست قبول کر لیں گے پھر جب نجاست کے معدن سے لوٹیں گے تو متنجس( ناپاك ہو جانے والے ) ہوں گے اگرچہ بذاتِ خود نجس نہ ہوں تو ان سے وضو ٹوٹنا ضروری ہے جیسے ریح خود پاك ہے اور اس کا خروج ناقضِ وضو ہے اس لئے کہ وہ محلِ نجاست سے اٹھتی ہے ہاں کیڑے اور سانپ کے مسئلہ کہ وجہ واضح ہے اس لئے کہ ان دونوں کے اندر نجاست داخل نہیں ہوئی اور جو ان کے اوپر لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے تو یہ ناقض نہ ہوں گے مگر جب ایك ہی متلی سے زیادہ مقدار میں نکلیں یہاں تك کہ جو نجاست ان کے اوپر لگی ہو وہ کثیر کی حد کو

 

 فــــ  :  تطفل علی الفتح ۔

والعیاذ بالله تعالٰی ھذا ما اختلج بقلب العبد الضعیف اول وقوفی علی ھذا الکلام ثم بعد یومین رأیت العلامۃ المحقق ابرہیم الحلبی ذکر فی شرح المنیۃ الکبیر روایۃ المجتبی عن الحسن و انہ قیل ھو المختار ثم عقبہ بقولہ و الصحیح ظاھر الروایۃ انہ نجس لمخالطۃ النجاسۃ و تداخلہا فیہ ، بخلاف البلغم و بخلاف دود او حیۃ لانہ طاھر فی نفسہ ، و لم تتداخلہ النجاسۃ و ما یستتبعہ قلیل لا یبلغ ملأ الفم اھ  فھذا عین ما بحثہ و لله



[1]   فتح القدیر کتاب الطہارۃ باب الانجاس وتطہیرہا المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ بسکھر ۱ / ۱۷۹ ، ۱۸۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن