دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

اور اسے بیان کرنا بہت ضروری ہے اس لئے کہ اگر زخم میں خون پیپ وغیرہ کچھ رہا ہو تو بعد میں اندر جانے والا پانی اتصال کی وجہ سے نجس ہو جائے گا پھر زخم سے تجاوز کرنے پر وضو توڑ دے گا اس لئے کہ ایسے نجس کا نکلنا جو بہہ جائے مطلقًا ناقضِ وضو ہے اگرچہ وہ پہلے کوئی پاك چیز رہی ہو اندر جا کر صرف اتصال کی وجہ سے نجس ہو گئی ہو دیکھئے جب پانی پیا اور معدہ میں پہنچ گیا پھر فورًا قے کے ساتھ نکل آیا اور قے منہ بھر کر تھی تو وہ ناقضِ وضو ہے ، درمختار میں ہے : اگرچہ اندر ٹھہرا نہ ہو اور وہ نجاستِ غلیظہ ہے اگرچہ بچّے سے دودھ پیتے ہوئے ایسا ہوا ہو یہی صحیح ہے کہ نجاست سے اختلاط ہو گیا اسے حلبی نے ذکر کیا ۔ اھ

اگر سوال ہو کہ یہاں ایك روایت

 

فــــ۱ : مسئلہ : پھڑیا میں اگر ابھی خون وغیرہ رطوبت باقی ہے نہانے کا پانی اس میں بھرا اور بہہ کر نکلا وضو جاتا رہے گا کہ وہ پانی نجس ہو گیا ۔

فــــ۲ : مسئلہ : پانی پیا اور معدے میں اُتر گیا اور معًا قے ہو کر ویسا ہی صاف نتھرا پانی نکل گیا وضو جاتا رہا جب کہ منہ بھر کر ہو اور وہ پانی بھی نا پاك ہے ۔

فـــ۳ : مسئلہ : بچے نے دودھ پیا اور معدے تك پہنچا ہی تھا کہ فورًا ڈال دیا وہ دودھ نجس ہے جبکہ منہ بھر ہو روپے بھر جگہ سے زیادہ جس چیز پر لگ جائے گا ناپاك کر دے گا ۔

اخری ان قیئ الماء لاینتقض مالم یستحل وقد صحح ایضا قال فی البحر تحت قول المتن وقیئ ملافاہ ولوطعاما اوماء اطلق فی الطعام والماء قال الحسن اذا تناول طعاما اوماء ثم قاء من ساعتہ لاینقض لانہ طاھر حیث لم یستحل وانما اتصل بہ قلیل القیئ فلا یکون حدثا فلا یکون نجسا وکذا الصبی اذا ارتضع وقاء من ساعتہ وصححہ فی المعراج وغیرہ ومحل الاختلاف اذا وصل الی معدتہ ولم یستقر ، امالو قاء قبل فــــ الوصول الیہا وھو فی المریئ فانہ لاینقض اتفاقا کماذکرہ [1] الزاھدی اھ

وقال المحقق فی الفتح تحت قول الھدایۃ ان قاء بلغما فغیرناقض وقال ابو یوسف ناقض لانہ نجس بالمجاورۃ ولھما انہ لزج لاتتخلله النجاسۃ وما یتصل بہ        

اور ہے وہ یہ کہ پانی کی قے ناقضِ وضو نہیں جب تك کہ پانی متغیر نہ ہو ا ہو اس روایت کی تصحیح بھی ہوئی ہے کنز میں ہے : اور وہ قے جو منہ بھر ہو اگرچہ کھانے یا پانی کی ہو اس پر بحر میں کہا : کھانے اور پانی میں حکم مطلق بیان کیا حسن بن زیاد نے کہا جب کھانا کھائے یا پانی پئے پھر فورًا قے کر دے اور وہ ناقض نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے کیوں کہ ابھی وہ متغیر نہ ہوا صرف یہ ہے کہ اس سے تھوڑی سی قے کا اتصال ہوا تو یہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں ، اسی طرح بچہ جب دودھ پئے اور فورًا قے کر دے ، اسے معراج وغیرہ میں صحیح کہا- اور محلِ اختلاف وہ صورت ہے جب معدہ تك پہنچ گیا ہو اور ٹھہرا نہ ہو ، اور اگر معدہ تك پہنچنے سے پہلے قے کر دی جب کہ وہ کھانا پانی گزرنے کی نالی ہی میں تھا تو بالاتفاق ناقضِ وضو نہیں جیسا کہ زاہدی نے ذکر کیا ہے اھ۔

ہدایہ کی عبارت ہے : “ اگر بلغم کی قے کی تو وہ ناقض نہیں اور امام ابو یوسف نے فرمایا ناقض ہے اس لئے کہ اتصال کی وجہ سے وہ نجس ہے اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ وہ لیس دار ہے جس میں نجاست

 

فــــ : مسئلہ : پانی پیا کہ اور ابھی سینے ہی تك پہنچا تھا کہ اُچھو سے نکل گیا وہ ناپاك نہیں ، نہ اس سے وضو جائے ، یونہی دودھ۔

قلیل والقلیل فی القیئ غیر ناقض مانصہ “ وعلی ھذا یظھر ماء فی المجتبی عن الحسن لوتناول طعاما اوماء ثم قاء من ساعتہ لاینتقض لانہ طاھر [2]  الی اٰخر مامر عن البحر الی مسئلۃ ارتضاع الصبی قال المحقق قیل ھو المختار وما فی القنیۃ لو قاء فــــ۱ دودا کثیرا اوحیۃ ملأت فاہ لاینقض[3]  اھ “ وقال المحقق ایضا فی باب الانجاس مرارۃ فــــ۲  کل شیئ کبولہ واجترارہ فــــ۳  کسرقنیہ قال فی التجنیس لانہ و اراہ جوفہ الاتری ان مایواری جوف الانسان بان کان ماء ثم قاء فحکمہ حکم بولہ انتھی۔                                                                                                                                                                                                                                                                                

سرایت نہیں کر پاتی اور جو کچھ اس سے لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے اور قے میں قلیل غیر ناقض ہے “ اس کے تحت فتح القدیر میں حضرت محقق یہ لکھتے ہیں : اور اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں حسن سے منقول ہے کہ اگر کھانا کھایا یا پانی پیا پھر فورًا قے کر دی تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ وہ پاك ہے ( اس عبارت کے آخر تك جو بحرکے حوالے سے بچے کے دودھ پینے کے مسئلے تك گزری ) حضرت محقق نے فرمایا : وہی مختار ہے۔ اور وہ بھی ظاہر ہے جو قنیہ میں ہے کہ اگر بہت کیڑوں یا سانپوں سے منہ بھری قے کی تو ناقض نہیں اھ اور حضرت محقق ہی نے باب الانجاس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر جاندار کا پِتّہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے اور اس کی جگالی اس کے گوبر ، مینگنی کے حکم میں ہے تجنیس میں کہا اس لئے کہ اسے اس کے جوف نے چھپا رکھا ہے ، دیکھو جسے انسان کے جوف نے

 



[1]   البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴

[2]   فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ / ۴۱

[3]   فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ / ۴۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن