30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حالت میں لاخارج نہیں ) لا خارج پر سلب وارد ہونے سے اثبات کی طرف لوٹ جائے گا ، تو معنی کا مآل یہ ہو گا : بعض ما لیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث( بعض وہ جو نجس نہیں بدن مکلف سے غیر حدث ہونے کی حالت میں خارج ہے ) اور عکس مستقیم یہ سالبہ کلیہ ہوگا : لاشی من نجس خارج منہ غیر حدث (کوئی نجس ، غیر حدث ہوتے ہوئے بدن سے خارج نہیں ) اور اس کے صدق کی صورتیں وہی ہیں جو ہم نے پہلے بیان کیں ۔
بالجملہ دونوں وجہوں پر آنے والے دونوں
علی الوجہین متعاکس فحاصل عکس النقیض علی جعلہا موجبۃ ھو حاصل المستوی علی جعلہا سالبۃ وبالعکس ھذا ما تحتملہ العبارۃ اما علماؤنا فانما ارادوا الوجہ الاول اعنی الایجاب ولم یریدوا عکس النقیض بل المستوی لکن لامنطقیا بل عرفیا کما عرفت ۔
واما النظر الدقیق فاقول : ان کانت القضیۃ موجبۃ کما ارادوا فقد حکموا کلیا علی مالیس بحدث بلا نجس فیجب ان یکون اللانجس مساویا للخارج غیر حدث اواعم منہ مطلقًا ونقیض المتساویین متساویان والاعم والاخص مطلقًا مثلہما بالتعکیس فیجب ان یکون النجس مساویا للاخارج غیر حدث او اخص منہ مطلقًا واللاخارج غیر حدث یصدق بوجہین ان لایکون خارجا اصلا اویکون خارجا حدثا والنجس ان ابقی علی ارسالہ یکون اعم منہ
عکسوں کا حاصل ایك دوسرے کا عکس ہو گا ، موجبہ بنانے پر جو عکس نقیض کا حاصل ہے وہ سالبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے اور اس کے برعکس (سالبہ بنانے پر عکس نقیض کا حاصل موجبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے ) یہ وہ ہے جس کا عبارت میں احتمال ہے لیکن ہمارے علماء نے وجہ اول یعنی ایجاب مراد لیا ہے اور عکس نقیض نہیں بلکہ مستوی ، وہ بھی منطقی نہیں بلکہ عرفی مراد لیا ہے جیسا کہ معلوم ہوا ۔
اب رہی نظر دقیق ، فاقول : ( تو میں کہتا ہوں ) اگر قضیہ کلیہ ہو جیسا کہ علماء نے مراد لیا تو انہوں نے کلی طور پر ، اس پر جو حدث نہیں ہے لانجس ہونے کا حکم کیا ( اور کہا کہ ہر وہ جو خارج غیر حدث ہے وہ لانجس ہے )تو ضروری ہے کہ لانجس ، خارجِ غیر حدث کا مساوی ہو یا ا س سے اعم مطلق ہو اور متساویین کی نقیضیں متساویین ہوتی ہیں مگر بر عکس ( یعنی اخص اعم مطلق ) تو ضروری ہے کہ لانجس کی نقیض نجس ، خارجِ غیر حدث کی نقیض لاخارج غیر حدث کے مساوی ہو یا اس سے اخص ہو اور لا خارج غیر حدث کا صدق دو طرح کا ہو گا ، ایك یہ کہ سرے سے خارج ہی نہ ہو ، دوسرے یہ کہ خارج ہو مگر حدث ہو اور نجس اگر اپنے اطلاق پر (بلا قید ) باقی رکھا جائے
لما بینا فی رسالتنا لمع الاحکام ان قیئ قلیل الخمر والبول لیس بحدث فیصدق علیہ النجس ولا یصدق اللاخارج غیر حدث بل ھو خارج غیر حدث فوجب ان یراد بالنجس النجس بالخروج کما حققنا ثمہ وحینئذ یکون اخص من اللاخارج غیر حدث فان کل نجس بالخروج یصدق علیہ انہ لیس بخارج غیر حدث بل حدث ولا یصدق علی کل لاخارج غیر حدث انہ نجس بالخروج لجواز ان لا یکون خارجا اصلا فاذن تؤل القضیۃ الی قولنا کل خارج من بدن المکلف غیر حدث فھو لانجس بالخروج وعکس نقیضھا کل نجس بالخروج فھو لاخارج منہ غیر حدث واذا کان ذلك کذا لك انتفی الوجہ الاول من مصداقی اللاخارج غیر حدث لان النجس بالخروج خارج لاشك فلم یبق الا ان یکون خارجا حدثا والخروج قد اعتبر فی الموضوع فلا حاجۃ الی عادتہ فی المحمول
اس سے اعم ہو گا جس کی وجہ ہم نے اپنے رسالہ لمع الاحکام میں بیان کی ہے کہ شراب اور پیشاب کی قے قلیل حدث نہیں تو اس پر نجس صادق ہو گا اور لاخارج غیر حدث صادق نہ ہوگا بلکہ وہ خارج غیر حدث ہے تو ضروری ہے کہ نجس سے نجس بالخروج مراد ہو جیسا کہ وہیں ہم نے تحقیق کی ہے اس صورت میں وہ لا خارج غیر حدث سے اخص ہو گا اس لئے کہ ہر نجس بالخروج پر یہ صادق آئے گا کہ وہ خارج غیر حدث نہیں بلکہ حدث ہے اور ہر لاخارج غیر حدث پر یہ صادق نہ ہو گا کہ وہ نجس بالخروج ہے اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ سرے سے خارج ہی نہ ہو تو اب قضیہ کا مآل یہ ہو گا کہ “ ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج غیر حدث ہے تو وہ لانجس بالخروج ہے “ اور اس کا عکسِ نقیض یہ ہو گا : ہر وہ جو نجس بالخروج ہے وہ لاخارج غیر حدث ہے اور یہ جب ایسا ہو گا تو لاخارج غیر حدث کے دو مصداقوں میں سے پہلی صورت منتفی ہو گئی اس لئے کہ نجس بالخروج بلاشبہہ خارج ہے تو صرف یہ صورت رہی کہ خارج حدث ہو اور خروج کا اعتبار موضوع میں ہو چکا ہے تو اسے محمول میں دوبارہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں تو خلاصہ عکس یہ ہو گا کہ ہر نجس بالخروج حدث ہے
فیخرج فذلکۃ العکس ان کل نجس بالخروج حدث فتبین ان فیہ من این جاء التقیید بالاشیاء الخارجۃ من بدن المکلف فی موضوعہ وکیف خرج السلب الوارد علی ماوعلی الحدث من محمولہ حتی لم یبق فیہ الا لفظۃ حدث فارتفع الا یراد ان معا عن البر جندی والشیخ اسمعیل جمیعا انما بقی الاخذ علی اخذھا سالبۃ الطرفین وکانہ رحمہ الله تعالٰی نظر الی وجود السلب ولو فی المتعلق ولیس فیہ کبیر مشاحۃ ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالٰی ولی التوفیق ۔
وکذلك ان کانت سالبۃ لابد ایضا من الحمل المذکور اذلا شك ان المراد الکلیۃ لان المقصود اعطاء ضابطۃ فقد سلبت النجاسہ کلیۃ عن الخارج غیر حدث فیکون النجس مباینالہ ولا یباینہ الابارادۃ النجس بالخروج اذ لولاھا لکانت اعم لمسألۃ قیئ الخمرا لمذکورۃ لکن مرادھم ھوا لایجاب کماعلمت ۔
اما قول البرجندی ھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ
اس سے واضح ہوا کہ اس میں موضوع کے اندر “ بدن مکلف سے نکلنے والی چیزوں “ کی قید کہاں سے آئی اور “ ما “ پر اور “ حدث “ پر وارد ہونے والا سلب اس کے محمول سے کیسے نکل گیا یہاں تك کہ صرف لفظ حدث رہ گیا تو برجندی اور شیخ اسمٰعیل سے دونوں اعتراض ایك ساتھ اُٹھ گئے ، صرف یہ مؤاخذہ رہ گیا کہ اسے سابقۃ الطرفین کیوں مانا ، گویا برجندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے یہ دیکھا کہ سلب موجود ہے اگرچہ متعلق ہی میں ہے اور اس میں کوئی بڑا حرج نہیں اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی مالك توفیق ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع