30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکلا ہوا بہنے کے قابل نہیں ہوتا مگر جلسہ واحدہ کا جمع کئے سے ہو جاتا ہے اور بار بار وضو اور کپڑوں کی تطہیر موجب ضیق کثیر ہے کہ معذوری کی حد تك نہ پہنچا اس کے لئے اس پر عمل میں بہت آسانی ہے ۔
حتی قال العلامۃ الشامی لم ارمن سبقہ الیہ ولامن تابعہ علیہ بعد المراجعۃ الکثیرۃ فھو قول شاذ قال ولکن صاحب فــــ الھدایۃ امام جلیل من اعظم مشائخ المذھب من طبقۃ اصحاب التخریج والتصحیح فیجوز للمعذ ورتقلیدہ فی ھذا القول عند الضرورۃ فان فیہ توسعۃ عظیمۃ لاھل الاعذار قال وقد کنت ابتلیت مدۃ بکی الحمصۃ ولم اجد ماتصح بہ صلاتی علی مذھبنا بلامشقۃ الا علی ھذا القول فاضطررت الی تقلیدہ ثم لماعافانی الله تعالٰی منہ اعدت صلاۃ تلك المدۃ ولله تعالٰی الحمد [1] اھ ھذا کلامہ فی شرح منظومتہ فی رسم المفتی[2]
وقال فی الفوائد المخصصۃ صاحب الہدایۃ من اجل اصحاب
رکھتا ہے یہاں تك کہ علامہ شامی نے فرمایا کہ بہت مراجعت اور جستجو کے باوجود مجھے کوئی ایسا نظر نہ آیا جس نے ان سے پہلے یہ قول کیا ہو اور نہ ان کے بعد کوئی ملا جس نے اس قول میں ان کی متابعت کی ہو تو وہ ایك شاذ قول ہے (آگے فرمایا ) لیکن صاحبِ ہدایہ عظیم تر مشائخ مذہب میں سے امام جلیل ، اصحابِ تخریج و تصحیح کے طبقہ سے ہیں تو وقتِ ضرورت معذور کے لئے اس قول میں ان کی تقلید روا ہے اس لئے کہ عذر والوں کے لئے اس میں بڑی وسعت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں : میں ایك مدت تك آبلوں کی بیماری میں مبتلا تھا اور ایسی صورت نہ پاتا تھا جس میں ہمارے مذہب کے مطابق میری نماز بلامشقت درست ہو سکے ، سوا اس قول کے تو مجبورًا میں نے اس کی تقلید کی پھر جب الله تعالٰی نے مجھے اس سے عافیت بخشی تو اس مدت کی نمازوں کا میں نے اعادہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ولله تعالٰی الحمد اھ یہ علامہ شامی کا وہ کلام ہے جو رسم المفتی میں اپنے منظومہ کی شرح میں انہوں نے لکھا ہے
اور فوائد مخصصہ میں لکھتے ہیں : صاحبِ ہدایہ بزرگ تر
فــــ : صاحب الہدایۃ امام جلیل من ائمۃ التخریج وا لترجیح یجوز تقلیدہ ۔
الترجیح فیجوز للمبتلی تقلیدہ لان فیما ذکرناہ مشقۃ عظیمۃ فجزاہ الله تعالٰی خیر الجزاء حیث اختار التوسیع والتسہیل الذی بنیت علیہ ھذہ الشریعۃ الغراء السہلۃ السمحۃ [3] اھ
اقول : جوزالامام الکبیر العلم الشہیر الخصاف تزویج الوکیل مؤکلتہ بغیبتھا من دون تسمیتھا قال فـــــ۱ الامام شمس الائمۃ السرخسی الخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ فقال فی البحر فـــــ۲ المختار فی المذھب خلاف ما قالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا[4] اھ
وفی الدرعن تصحیح القدوری الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع[5] اھ
وفی عدۃ رد فـــــ۳ المحتار التقلید اصحابِ ترجیح سے ہیں تو مبتلا کے لئے ان کی تقلید جائز ہے اس لئے کہ جو ہم نے ذکر کیا اس میں بڑی مشقت ہے تو خدائے تعالٰی انہیں جزائے خیر بخشے کہ وہ توسیع و تسہیل اختیار کی جس پر اس روشن ، سہل ، آسان شریعت کی بنیاد رکھی گئی ۔ اھ
اقول : امام کبیر ، علم شہیر خصاف نے جائز قرار دیا ہے کہ وکیل اپنی مؤکلہ کا نکاح اس کی غیر موجودگی میں اس کا نام لئے بغیر کر دے ، امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : خصاف علم میں بزرگ تھے ، ان کی اقتداء ہو سکتی ہے اس پر بحر میں فرمایا : مذہب مختار اس کے برخلاف ہے جو خصاف نے فرمایا اگرچہ خصاف بزرگ ہیں اھ۔
اور درمختار میں تصحیح قدوری کے حوالے سے ہے قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے اھ۔
ردالمحتار کے باب العدۃ میں ہے : تقلید
فــــــ۱ : الخصاف کبیر فی العلم یجوز اقتداؤہ ۔
فــــــ۲ : العلم بما ھو المختار فی المذھب و ان کان قائل خلافہ اما ما کبیرا۔
فـــــــ۳ : تقلید الغیر عند الضرورۃ و ان جاز بشروطہ فلعمل نفسہ اما الافتاء فلایکون الا فی الراجح فی المذھب۔
[1] شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹
[2] شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹ ، ۵۰
[3] الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۶۳
[4] البحر الرائق کتاب النکاح فصل لابن العم ان یزوج الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۳۷
[5] الدر المختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع