30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلام سے ہوتی ہے جو بحوالہ درر محیط سے نقل ہوا کہ زخم کے بالائی حصے سے جو خون کے مقابل ہے وہ خون ہی کی جگہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس میں خون اُبل کر ہر طرف سے اس کے کنارے کے مقابل ہو گیا تو مضر نہ ہو اس لئے کہ یہ چڑھنا ہے ڈھلکنا نہیں ، اس پر لازم آتا ہے کہ اگر بالائی حصے میں اُبلے پھر اس کے اندر ہی ڈھلك آئے اور اس سے باہر تجاوز نہ کرے تو ناقض نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنی جگہ کے اندر منتقل ہونے والا ہے اپنی جگہ سے منتقل ہونے والا نہیں ۔ گویا یہی مشکلات اور خزانۃالروایات کی عبارت کا مطمع نگاہ ہے اور نہر ، سراج اور طحطاوی علی مراقی الفلاح کی عبارت اس کے منافی نہیں : اس حکم کو بیان کرنے کا فائدہ داخل چشم اور باطن زخم سے وارد ہونے والے اعتراض کا دفعیہ ہے اس لئے
فیہما ممکنۃ وانما الساقط حکمہ[1] اھ۔
فلیس ظاھرا فی جعلہ ظاھرا الا ظاھرا وھو ظاھر بخلاف ماکان ظاھرا ثم عرض عارض فانہ لایخرجہ عن الخروج الی الدخول کما علمت فلیس فیھا ان کل مالایطلب تطہیرہ بالفعل لعذر فالسیلان علیہ لایضرکما اوھم بعض وافہم بعض ۔
وبالجملۃ ماکان ظاھرا لایصیر بالعذر باطنا کما افاد ابن الکمال وما کان باطنا لعلہ لایصیر ظاھرا مالم ینزل علیہ حکم التطہیر کما یفھم من المشکلات وخزانۃ الروایات او النھر والینابیع وطحطاوی المراقی وردالمحتار ایضا۔
فھذا مایترا ای لی ویحتاج الٰی زیادۃ تحریر فمن ظفر بہ من کلمات العلماء فلیسعفنا بالاطلاع علیہ لعل الله یحدث بعد ذلك امرا ولا حول ولا قوۃ الاّ بالله العلی العظیم۔
کہ حقیقتِ تطہیر ان دونوں میں ممکن ہے صرف حکمِ تطہیر ساقط ہے اھ ۔ یہ عبارت بجز ظاہر حسی کے اُسے ظاہر بدن قرار دینے میں ظاہر نہیں اور ظاہر حسی ہونا توظاہر ہے بخلاف اس کے جو پہلے ظاہر بدن تھا پھر اس پر کوئی عارض در آیا کہ یہ اسے خروج سے نکال کر دخول میں نہ ملا دے گا جیسا کہ معلوم ہوا تو مشکلات میں یہ نہیں کہ ہر وہ جس کی تطہیر بالفعل کسی عذر کی وجہ سے مطلوب نہیں تو اس پر خون بہنا مضر نہیں جیسا کہ بعض نے اس کا وہم پیدا کیا اور بعض کی عبارت سے مفہوم ہوا ۔
مختصر یہ کہ جو پہلے ظاہر تھا وہ عذر کی وجہ سے باطن نہ ہو جائے گا جیسا کہ ابنِ کمال نے افادہ فرمایا اور جو باطن تھا امید یہی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے گا جب تك کہ اس پر حکم تطہیر وارد نہ ہو۔ جیسا کہ مشکلات اور خزانۃالروایات سے مفہوم ہوتا ہے یا نہر ، ینابیع ، طحطاوی علی مراقی الفلاح اور ردالمحتار سے بھی ۔
یہ وہ ہے جو مجھے سمجھ میں آیا ہے اور اس میں مزید تنقیح کی ضرورت ہے جسے کلمات علماء سے دستیاب ہو وہ ہمیں مطلع کر کے حاجت روائی کرے ، شاید ا س کے بعد خدا کوئی اور امر ظاہر فرمائے اور طاقت و قوت نہیں مگر برتری و عظمت والے خدا ہی سے ۔
السادس : تقدم ان الدم فی مجلس یجمع وھی الروایۃ الدوارۃ فی الکتب اجمع لکن قال فـــــ الامام الاجل برھان الملۃ والدین صاحب الہدایۃ رحمہ الله تعالٰی فی کتابہ مختارات النوازل فی فصل النجاسۃ الدم اذا خرج من القروح قلیلا قلیلا غیر سائل فذاك لیس بمانع وان کثر وقیل لوکان بحال لوترکہ لسال یمنع[2] اھ
ثم اعاد المسألۃ فی نواقض الوضوء فقال ولو خرج منہ شیئ قلیل ومسحہ بخرقۃ حتی لو ترك یسیل لاینقض وقیل[3] الخ۔
فھذا صریح فی ترجیح عدم الجمع مطلقًا لکنہ متوغل فی الغرابۃ
تنبیہ ششم : گزر چکا کہ ایك مجلس میں تھوڑا تھوڑا چند بار آنے والا خون جمع کیا جائے گا یہی وہ روایت ہے جو تمام کتابوں میں متداول ہے لیکن امام اجل برہان الملۃ و الدین صاحبِ ہدایہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مختارات النوازل فصل النجاسۃ میں لکھا ہے : “ پھوڑے سے خون جب تھوڑا تھوڑا نکلے ، بہنے والا نہ ہو تو وہ مانع نہیں اگرچہ زیادہ ہو جائے اورکہا گیا کہ اگر اس کی یہ حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیا جاتا تو بہتا تو وہ مانع ہے “ اھ
پھر ناقضِ وضو میں یہ مسئلہ دوبارہ لائے تو کہا : “ اگر اس سے کچھ تھوڑا نکلے اور اسے کسی کپڑے سے پونچھ دے یہاں تك کہ اگر چھوڑ دیتا تو بہتا تو ایسا خون ناقض نہیں اور کہا گیا الخ۔ “
تو یہ نہ جمع کئے جانے کے حکم کی مطلقًا ترجیح میں تصریح ہے لیکن یہ قول انتہائی غرابت
فـــــ : مسئلہ : صاحبِ ہدایہ نے ایك کتاب میں فرمایا کہ خون جو تھوڑا تھوڑا نکلے کہ کسی دفعہ کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہ ہو اگرچہ جمع کرنے سے کتنا ہی ہو جائے اصلًا ناقضِ وضو نہیں اگرچہ ایك ہی مجلس میں نکلے یہ قول خلاف مشہور و مخالف جمہور ہے بے ضرورت اس پر عمل جائز نہیں ، ہاں جو ایسے زخم یا آبلوں میں مبتلا ہو جس سے اکثر خون یا ریم قلیل نکلتا رہتا ہے کہ ایك بار کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع