دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

اور یہی اس کے مطابق ہے جو گزرا کہ مقصود خروج ہے اور اس کا ظہور انتقال سے ہوتا ہے تو ان سب کی روشنی میں ، میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ قول (پھیلے ہوئے پورے ورم کی حد پار کرنا ضروری ہے ) ہمارے ائمہ کے بعد پیدا ہوا ہے جو ان سب حضرات کے مضمون کلام کے برخلاف ہے ، متون اور عامہ کتب معتمدہ کے اطلاعات کے خلاف ہے اور سنت و قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلوں

القیاس کماعلمت۔

و۱۱۸ثالثا :  مع قطع فــــ۱ النظر عن کل ذلك ھذا یشبہ فرض محال فقد قدمنا عن الفتح والبحر والغنیۃ ان التطہیر یعم الطہارۃ من الخبث ومعلوم انہ یکون بکل مائع طاھر قالع ولا یشترط فیہ شدۃ الاسالۃ بل تکفی الازالۃ ولو بثلٰث خرق مبلولۃ وفی الدر “ تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا[1] اھ ولا اعلم ورما یضرہ المسح بخرقۃ بلت بعرق یناسبہ بل ربما ینفع فلعلہ فرض لا یقع۔

و ۱۱۹رابعا :  ان لزم صلوحہ لطلب ایقاع التطھیر بالفعل فاذا فــــ۲ کان بالانسان والعیاذ بالله مایضرہ اصابۃ الماء فی شیئ من بدنہ فھذا ان افتصد لایکون حدثا وان اصابتہ شجۃ فی رأسہ

کے تقاضے کے خلاف ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوا ۔

ثالثًا : ان سب سے قطع نظر یہ گویا فرض محال ہے اس لئے کہ ہم فتح القدیر ، البحر الرائق اور قنیہ(غنیہ) کے حوالے سے بیان کر آئے ہیں کہ تطہیر نجاست حقیقیہ سے طہارت کو بھی شامل ہے اور معلوم ہے کہ یہ تطہیر ہر بہنے ، پاك اور زائل کرنیوالی چیز ہو جاتی ہے اور اس میں تیزی سے بہانا شرط نہیں بلکہ زائل کرنا کافی ہے اگرچہ تین بھگوئے ہوئے پارچوں ہی سے ہو جائے ۔ درمختار میں ہے : “ انگلی اور سر پستان جو نجس ہے اسے کسی وجہ سے تین بار چاٹ لینے پر طہارت ہو جاتی ہے اھ “ میں نہیں جانتا کہ ایسا کوئی ورم ہو گا جسے اس کے مناسب عرق سے بھگوئے ہوئے پارچے سے پونچھنا ضرر دیتا ہو بلکہ ایسا تو نفع بخش ہی ہو گا تو شاید یہ ایسا مفروضہ ہے جو وقوع میں آنے والا نہیں ۔

رابعًا : اگر یہ ضروری ہے کہ اس قابل ہو کہ بالفعل تطہیر کو عمل میں لانے کا مطالبہ ہو تو جب انسان کو ، پناہ بخدا ایسی کوئی بیماری ہو جس کی وجہ سے اس کے جسم کے کسی حصے میں پانی لگنا مضر ہو ، یہ شخص اگر فصد لگوائے تو حدث نہ ہو اور اگر اس کے سر میں چوٹ

 

فــــ۱ : ۸۵تطفل رابع علی الحلیۃ والارکان ۔

فـــــ۲  :  تطفل خامس علی الحلیۃ و ابن ملك و من معھما۔

فسال الدم من قرنہ الی قدمہ فھو علی وضوئہ ولم یتنجس بھٰذہ الدماء الفوارۃ بدنہ ولا ثیابہ بل لواخذ غیرہ تلك الدماء ولطخ بھا ثوبہ کان صیغا طیبا طاھرا لان مالیس یحدث لیس بنجس ولو کان المرض باحد شقیہ فان خرج من الشق السلیم دم قدر رأس ذباب بطل وضوؤہ وان افتصد من الشق الماؤف وخرج الدم ارطالا لم یضر وھو طاھر مع انہ ھو الدم المسفوح وھذا کلہ غیر معقول ولا منقول ولا متجہ ولا مقبول فلامریۃ عندی ان المراد کل ماھو ظاھر البدن شرعا وان تأخر طلب ایقاع تطھیرہ بالفعل الی زوال عذر ۔

و رحم الله العلامۃ ابن کمال باشا حیث قال فی الایضاح سال الی مایطھر ای الی موضع یجب ان یطھر بالغسل او مسح عند عدم عذر شرعی لابد من ھذا التعمیم حتی ینتظم الموضع الذی سقط عنہ حکم التطہیر بعذر [2] اھ۔ وتبعہ السید العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ

لگ جائے جس سے خون اس کے سر سے پاؤں تك بہے جب بھی وہ باوضو رہے ۔ اور اس جوش مارتے ہوئے خون سے نہ اس کا بدن نجس ہو نہ کپڑا بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی اسے لے کر اپنے کپڑے میں لگا لے تو اچھا خاصا پاك و پاکیزہ رنگ ہو ، اس لئے کہ جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ، اگر اس کی دوجانبوں میں سے ایك میں بیماری ہو ایسی صورت میں تندرست جانب میں مکھی کے سر برابر خون نکل آئے تو اس کا وضو باطل ہو جائے اور ماؤف جانب اگر فصد لگوائے اور کئی رطل خون نکل آئے تو کچھ نہ بگڑے وہ پاك ہی رہے جب کہ یہ بہتا ہوا خون ہے ، یہ سب نہ معقول ہے نہ منقول ، نہ باوجہ نہ مقبول ، تو میرے نزدیك اس میں کوئی شك نہیں کہ مراد یہ ہے کہ ہر وہ جو شرعًا ظاہر بدن ہو اگرچہ بالفعل زوال عذر تك اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہو ،

خدا کی رحمت ہو علامہ ابن کمال پاشا پر وہ ایضاح میں فرماتے ہیں : “ سال الی ما یطہر “ یعنی ایسی جگہ بہے جسے دھونا یا مسح کرنا عذرشرعی نہ ہونے کے وقت واجب ہو ، یہ تعمیم ضروری ہے تاکہ حکم اس جگہ کو بھی شامل رہے جس سے کسی عذر کی وجہ سے حکمِ تطہیر ساقط ہو گیا ہے اھ۔ ان کی پیروی علامہ سید طحطاوی نے بھی حاشیہ مراقی الفلاح

مراقی الفلاح والعلامۃ الفھامۃ نوح افندی لما نقل مانقل عن المشکلات عقبہ بقولہ لکن قال بعض المحققین یرید ابن کمال فنقل کلامہ ثم قال وھذا مخالف لما فی المشکلات ولعل الحق ھذا[3]  اھ

 



[1]   الدر المختار باب الانجاس مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳

[2]   فتح المعین  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۴۱

[3]   فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن