30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶ ، ۷) امام کرمانی کی جواہر الفتاوٰی کے باب دوم میں ہے جو امام جمال الدین بزدوی کے فتاوٰی کے لئے خاص کیا گیا ہے : “ وہ جو غیر سبیلین سے نکلے اگر ٹھہر جائے اور سرِ زخم سے تجاوز نہ کرے
الجرح فطاھرۃ[1] اھ۔
ثم اطال فی بیان حکمۃ فــــــ الفرق بین الخارج والبادی ملخصہ ان البادی الکائن تحت الجلدۃ ھو الذی انتقل عن طبیعۃ الدم الی طبیعۃ اللحم وانتھی نضجہ غیرانہ لم ینجمد بخلاف السائل۔
وفی شرح ۸الطحاوی للامام الاسبیجابی ثم ۹ایضاح الاصلاح لابن کمال باشا قال اصحابنا اذا خرج وسال عن رأس الجرح نقض الوضوء وقال زفر ینقضہ سال اولم یسل وقال الشافعی لاینقضہ سال اولم یسل[2] اھ
وفی ۱۰الخلاصۃ ان خرج من قرح بہ دم او صدید اوقیح فسال عن رأس الجرح نقض عندنا[3] اھ
وفی ۱۱المنیۃ ان سال عن رأس الجرح ینتقض وان لم یسل لا ینتقض وتفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح[4] اھ
تو پاك ہے “ اھ۔
پھر خارج اور ظاہر کے درمیان فرق کی حکمت تفصیل سے بیان کی ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر جلد پایا جانے والا ظاہر وہی ہے جو خون کی طبیعت سے گوشت کی طبیعت کی طرف منتقل ہو گیا اور جس کے پکنے کا عمل پورا ہو گیا ہے مگر وہ ابھی منجمد نہیں ہوا اور سائل ایسا نہیں ہوتا ۔
( ۸ ، ۹) امام اسبیجابی کی شرح طحاوی پھر ابن کمال پاشا کی ایضاح الاصلاح میں ہے : ہمارے اصحاب نے فرمایا : جب خون نکلے اور سرِ زخم سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور امام زفر فرماتے ہیں وضو ٹوٹ جائے گا بہے نہ بہے اور امام شافعی فرماتے ہیں نہیں ٹوٹے گا بہے یا نہ بہے اھ۔
(۱۰) خلاصہ میں ہے : اگر پھوڑے سے خون ، پیپ یا پانی نکل کر سر زخم سے بہہ جائے تو ہمارے نزدیك ناقض ہے اھ۔
(۱۱) منیہ میں ہے : اگرسرِ زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے اور نہ بہے تو ناقض نہیں اور بہنے کی تفسیر یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے اھ۔
فـــ : حکمۃ الفرق بین السائل و البادی۔
وفی ۱۲صدر الشریعۃ “ اذا سال عن رأس الجرح علم انہ دم انتقل من العروق فی ھذہ الساعۃ وھو الدم النجس اما اذا لم یسل علم انہ دم العضو [5] اھ “ یشیر الی الحکمۃ التی ذکرھا الامام جمال الدین۔
وفی ۱۳جواھر الاخلاطی ان سال عن رأس الجرح نقض والا لا والسیلان الانحدار عن رأس الجرح[6] اھ
وقال ۱۴صاحب السراج نفسہ فی الجوھرۃ النیرۃ حد التجاوز ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذاعلا ولم ینحدر لاینقض[7] اھ
وھذاھو الموافق لما تقدم ان المعنی الخروج وظھورہ بالانتقال فاذن لااری ھذٰا القیل الا مستحدثا بعد ائمتنا علی خلاف مایعطیہ کلامھم جمیعا وعلی خلاف اطلاقات المتون وعامۃ الکتب المعتمدۃ وعلی خلاف ما ھو قضیۃ جمیع الادلۃ الموردۃ من السنۃ و
(۱۲) صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : جب سرِ زخم سے بہہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسا خون ہے جو اسی وقت رگوں $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع