30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــ : ۸۳تطفل اٰخر علی الحلیۃ و ابن مالك فی اٰخرین۔
قط حکم التطھیر ولن یلحقہ ابدا ما بقی فکیف یقاس علیہ ماکان ظاھر البدن قطعاحسا وشرعا ثم اعتری معتر اخر عنہ حکم اداء التطھیر موقتالوقت البرء ام کیف یجعل العارض کاللازم والحادث عن قریب الزائل عما قلیل کاللازب المستمر۔
و۱۱۷ثانیا : انما فــــ المنقول عن ائمتنا رضی الله تعالٰی عنھم شیئان اما النقض بمجرد العلو علی رأس الجرح وان لم ینحدر کما روی عن محمد والیہ مال الامام محمد بن عبدالله وعلیہ مشی فی مجموع النوازل والفتاوی النسفیۃ وجعلہ فی الوجیز اقیس وفی الدرایۃ اصح ۔
واما بالانحدار عن رأس الجرح وھو المعتمد وعلیہ الفتوی ولم ینقل عن احد منھم قط ان الا نحدار عن الرأس ایضالا یکفی للنقض مالم یجاوز سطح ورم
اسے کسی وقت نہ حکمِ تطہیر لاحق ہوا اور نہ ہرگزکبھی لاحق ہو گا جب تك کہ وہ باقی ہے پھر اس پر اس کا قیاس کیسے ہو سکتا ہے جو حِسًّا اور شرعًا قطعی طورپر ظاہر بدن ہے پھر اس پر کوئی عارض در پیش ہوا جس نے اچھے ہونے تك کے لئے عارضی طور پر تطہیر کو عمل میں لانے کا حکم مؤخر کر دیا یا عارض کو لازم کی طرح کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اور جلد ہی رونما ہونے والے کچھ دیر بعد زائل ہونے والے کو ہمیشہ لگے رہنے والے کی طرح کیسے کہا جا سکتا ہے !
ثانیًا : ہمارے ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے منقول دو ہی چیزیں ہیں :
(۱) یا تو محض سر زخم پر چڑھ جانے سے وضو ٹوٹ جانا اگرچہ نیچے نہ اُترے جیسا کہ یہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مروی ہے ، اسی کی طرف امام محمد بن عبدالله مائل ہوئے ، اسی پر مجموع النوازل اور فتاوٰی نسفیہ میں چلے ہیں ، اسی کو وجیز میں زیادہ قرین قیاس اور درایہ میں اصح کہا ہے ۔
(۲)یا سر زخم سے نیچے اُتر آنے پر وضو ٹوٹنے کا حکم ہے یہی معتمد ہے اور اسی پر فتوی ہے اور ان حضرات میں کسی سے یہ کبھی بھی منقول نہیں کہ وضو ٹوٹنے کے لئے سر زخم سے نیچے اتر آنا بھی کافی نہیں جب تك کہ ورم زخم کی پوری سطح سے
فــــ : ۸۴تطفل ثالث علیھم۔
الجرح کلہ قدر ذراع کان او اکثر۔ بل قد نطقت کتب المذھب قاطبۃ بان مجرد الا نحدار عن الرأس کاف فی النقض۔ وھذا محرر المذھب محمد رضی الله تعالٰی عنہ قائلا فی ۱جامعہ الصغیر “ محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی جعنھم فی نفطۃ قشرت فسال منھا ماء اودم اوغیرہ عن رأس الجرح نقض الوضوء وان لم یسل لم ینقض[1] اھ “ ۔
۲قال الامام الاجل قاضی خان فی شرحہ و السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح وعن محمد رحمہ الله تعالٰی اذا انتفخ علی رأس الجرح وصار اکثر من رأس الجرح انتقض والصحیح ماقلنا [2] اھ
و فی ۳محیط الامام السرخسی ثم ۴النھر ثم ۵الہندیۃ حدالسیلان ان یعلو فینحدرعن رأس الجرح [3] اھ
وفی ۶جواھر الفتاوی للامام الکرمانی فی الباب الثانی المعقود لفتاوی الامام جمال الدین البزدوی اما التی تخرج من غیر السبیلین ان جوقفت ولم تتعدد عن رأس
تجاوز نہ کر جائے وہ ایك ہاتھ ہو یا زیادہ۔
بلکہ تمام تر کتبِ مذہب ناطق ہیں کہ سر زخم سے محض ڈھلك آنا وضو ٹوٹنے کے لئے کافی ہے ۔
(۱) یہ ہیں محرر مذہب امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجو جامع صغیر میں فرماتے ہیں : محمد راوی یعقوب سے وہ ابو حنیفہ سے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماس آبلہ کے بارے میں جس کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی یا خون یا اور کچھ سرِ زخم سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نہ بہا تو نہ ٹوٹے گا اھ۔
(۲) امام اجل قاضی خان اس کی شرح میں فرماتے ہیں : بہنا یہ ہے کہ سرِ زخم سے ڈھلك آئے اور امام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہ سے روایت ہے کہ جب سرِ زخم پھول جائے اور سرِ زخم سے زیادہ ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائیگا ۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا اھ۔
($&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع