30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ وہ بدن سے نکلنے والی ایك نجاست ہے کیونکہ خاص سبیلین سے خارج ہونے کا کوئی اثر کہیں ظاہر نہ ہوا اور یہ سبب غیر سبیل سے نکلنے والی چیز میں بھی موجود ہے تو حکم وہاں بھی پہنچے گا ، تو اصل خارج سبیلین ہے ، حکم اس طہارت کا ختم ہو جانا جو وضو سے ثابت ہوتی ہے علت ، نجاست کا بدن سے نکلنا ، فرع ، غیرسبیلین سے نکلنے والی نجس چیز اور اس پر مدار ہے تو زوال طہارت یہاں بھی متعدی ہو جائے گا اھ۔
(۵) اسی کے مثل البحر الرائق میں بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے : “ نقض خروج سے ہوتا ہے اور اس کی حقیقت باطن سے ظاہر کی طرف نکلنا ہے ، یہ بات سبیلین کے اندر ظہور سے متحقق ہوتی ہے ۔ اور غیر سبیلین میں ایسی جگہ بہنے سے جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ نظر آتی ہے تو وہ ظاہر کہلائے گی خارج نہ ہو گی ، اھ۔
(۶ تا ۹) فتح القدیر ، ۶حلیہ ، ۷غنیہ ، ۸ بحر ، ۹ طحطاوی ، اور۹ شامی میں ہے : سنّت اور قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلیں یہی افادہ کرتی ہیں کہ وضو ٹوٹنا خارج نجس سے وابستہ رہے گا اھ۔
وفی الغنیۃ اذا زالت بشرۃ کانت الرطوبۃ بادیۃ لامنتقلۃ ولا تکون منتقلۃ الا بالتجاوز والسیلان[1] اھ
وفی۱۰تبیین الامام الزیلعی “ الخروج انما یتحقق بوصولہ الی ما ذکرنا لان ماتحت الجلدۃ مملوء دما فبا لظھور لایکون خارجا بل بادیا وھو فی موضعہ[2] اھ
وفی ۱۱المحیط ثم ۱۲الدرر “ حد الخروج الانتقال من الباطن الی الظاھر و ذلك یعرف بالسیلان من موضعہ[3] اھ “
وفی ۱۳شرح الوقایۃ للامام صدر الشریعۃ المعتبر الخروج الی ماھو ظاھر البدن شرعا[4] اھ
وقال ۱۴الامام النسفی فی متن الکنز ینقضہ خروج نجس منہ [5] اھ
واستحسنہ فی ۱۵جامع الرموز فقال حق العبارۃ ناقضہ خروج غنیہ میں ہے : جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت نمایاں ہو گی وہ منتقل ہونے والی نہ ہو گی ، منتقل تو تجاوز اور سیلان ہی سے ہو گی اھ۔
(۱۰) امام زیلعی کی تبیین الحقائق میں ہے : خروج اس جگہ پہنچنے ہی سے متحقق ہو گا جو ہم نے بیان کی اس لئے کہ زیر جلد حصہ ، خون سے بھرا ہوا ہے تو صرف ظہور سے وہ خارج ہو گا بلکہ اپنی جگہ رہتے ہوئے دکھا ئی دینے والا ہوگا اھ
(۱۱ ، ۱۲ ) محیط پھر درر میں ہے : خروج کی تعریف ، باطن سے ظاہر کی طرف منتقل ہونا اور اس کی شناخت اپنی جگہ سے بہہ جانے سے ہو گی اھ۔
(۱۳) امام صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : اعتبار اس جگہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع