دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

اسی کی طرف علامہ مولٰی خسرو کے تلمیذ فاضل یوسف چلپی کی عبارت ذخیرۃ العقبی سے بھی اشارہ ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں : خروج الٰی ما یطہر “ یہ ہے کہ اندر سے ایسی جگہ کی طرف منتقل ہو جس کی تطہیر واجب ہے اگرچہ اس جگہ تك نہ پہنچے اور وہ اس سے آلودہ نہ ہو “ الٰی ما یطہّر “ کی قید کے ذریعہ اس جگہ کی طرف خروج سے احتراز مقصود ہے جو حسًّا ظاہر بدن سے شمار ہو اور کسی شرعی حکمت کی وجہ سے ظاہر بدن سے نہ شمار ہو جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ کیوں کہ اس کی تطہیر واجب نہیں تو بدن انسان سے نکل کر جونك اور کلّی کے پیٹ تك منتقل ہونے والا خون ایسی چیز کی طرف نکلنے والا ہے جس کی تطہیر واجب ہے نہ اس معنی کے لحاظ سے کہ وہ اپنے حقیقی باطن میں نہ رہا جو زیرِ جلد ہے اور نہ شرعی باطن میں رہا جو داخلِ چشم ہے ا ھ تو کاف ان کے پہلے لفظ کداخل العین میں کاف استقصا ہے جس پر دلیل ان کا آخر کلام ہے۔ اس کلام سے ایك فائدہ یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ حکم سے مراد وجوب ہے ۱۲ منہ (ت)

لیس من الظاھر شرعا اصلا ودخل المارن وخرجت القصبۃ وسیا تیك بعض مایتعلق بھذہ الفائدۃ فی التنبیہ الخامس ان شاء الله تعالٰی وبقید القوۃ دخل مااذا افتصد فطار الدم ولم یتلوث رأس الجرح وما اذا ترب اواخذ بخرق اومص فـــ۱ علق اوقراد کبیر من دمہ مالو خرج لسال ولم یبق فـــ٢۲حاجۃ الی زیادۃ المکان فیما یطھرکما فعل فی الغنیۃ والبحر لادخال صورۃ الفصد فورد علیہ مالو سال الی نھر او وقع علی عذرۃ اوجلد خنزیر الی غیر ذلك وسقطت فــــ٣۳ المنازعات التی کانت مستمرۃ من زمن الامام صدرالشریعۃ الی عہد السید الشامی فی قولھم سال الی مایطہر ، و                            

یہ ظاہر شرعی تو بالکل ہی نہیں اور ناك کا نرم حصہ ظاہر بدن میں داخل رہا اور سخت حصہ خارج ٹھہرا ، اس فائدہ سے متعلق کچھ باتیں ان شاء الله تنبیہ پنجم میں آئیں گی اور بالقوہ کی قید لگانے سے وہ صورت داخل ہو گئی کہ جب فصد لگائی تو خون اُڑا اور سرِزخم آلودہ نہ ہوا اور وہ صورت کہ خون پر مٹی ڈال دی یا کسی کپڑے میں جذب کر لیا یا کسی جونك یا بڑی کِلّی نے اس کا اتنا خون چوس لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہتا اور ما یطہر کے تحت بیرونی جگہ کا اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی جیسا کہ غنیہ اور بحر میں صورتِ فصد کو داخل کرنے کے لئے اضافہ کیا تھا تو اس پر ان صورتوں سے اعتراض ہوا جن میں خون جا کر کسی دریا میں بہا یا پاخانے پر یا خنزیر کی جلد پر گرایا اور ایسی کسی چیز پر پڑا اور وہ سارے نزاعات ساقط ہو گئے جو امام صدر الشریعہ کے زمانے سے علامہ شامی کے زمانے تك لفظ “ سال الی ما یطہر “ کے تحت چلے آ رہے تھے ۔ اور

 

فـــــ۱ : مسئلہ : جونك یا بڑی کِلّی بدن کو لپٹی ، اگر اتنا خون چوس لیا کہ خود نکلتا تو بہہ جاتا تو وضو جاتا رہے گا اور تھوڑا چوسا یا چھوٹی کِلّی تھی تو وضو نہ جائے گا ، یوں ہی کھٹمل یا مچھر کے کاٹے سے وضو نہیں جاتا۔

فـــــ۲ : ۷۴تطفل علی الغنیۃ والبحر ۔
فـــــ
۳ : فصل منازعۃ طالت منذ مئین سنۃ۔  

صارت فـــ۱العبارۃ الحسنۃ الصافیۃ الوافیۃ بحمد الله تعالٰی ما

 ۱۰۷اقول :   ناقضہ من غیر السبیلین کل نجس خرج منہ وفیہ قوۃ سیلانہ علی ماھو ظاھر البدن شرعا۔   

(۳) ۱۰۸لیس فـــ۲ فی النزول الی ما صلب النقض روایۃ واحدۃ کما اوھم الاتقانی وتبعہ من تبعہ ولا عدم فـــ۳ النقض روایۃ واحدۃ کما زعم النھر بل ھما روایتان والثانی اشھر واظھر۔

(۴) ۱۰۹لم فـــ۴ تمش المنیۃ ولا الذخیرۃ علی قول زفرکما زعم المحقق فی الحلیۃ بل مشیا علی الروایۃ الشہیرۃ۔

(۵) لاداعی لحمل الوجوب علی الثبوت کما ارتکب البحر بل ھو المراد علی اشھر الروایات۔

(۶) لامعنی لحمل القصبۃ فی کلام المعراج علی ماصلب کما فھم فی       عمدہ ، بے غبار ، مکمل عبارت بحمدہٖ تعالٰی یہ ہوئی جو

میں کہتا ہوں “ ناقض طہارت غیر سبیلین سے ہو وہ نجس ہے جو اس سے نکلے اور اسکے اندر اس پر بہنے کی قوت ہو جو شرعًا ظاہر بدن ہے ۔

(۳) ناك کے سخت حصے کی طرف خون اتر آنے میں صرف یہی ایك روایت نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا جیسا کہ علامہ اتقانی نے اپنے کلام سے یہ وہم پیداا کیا اور ان کی اتباع کرنے والوں نے ان کا اتباع کیا اور نہ یہی ایك روایت ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا جیسا کہ صاحبِ نہر کا خیال ہے۔ بلکہ یہ دونوں روایتیں ہیں اور ثانی زیادہ مشہور اور ظاہر ہے ۔

(۴) منیہ اور ذخیرہ امام زفر کے قول پر گامزن نہیں جیسا کہ محقق حلبی کا حلیہ میں خیال ہے بلکہ دونوں روایت مشہورہ پر چلے ہیں ۔

(۵) وجوب کو ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں جیسا کہ بحر نے اس تاویل کا ارتکاب کیا بلکہ اشہر روایات کے مطابق وجوب ہی مراد ہے ۔

(۶) کلامِ معراج میں “ بانسے “ کو سخت حصے پر محمول کرنے کا کوئی معنی نہیں جیسا کہ بحر میں

 

فـــ۱ : افادۃ المصنف عبارۃ حسنۃ فی بیان الناقض من غیر السبیلین ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن