30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : اس پر ہمارا اجماع ہے کہ مخرج کی اندونی سطح تك نجاست کا آ جانا ، ناقضِ طہارت نہیں جب تك کنارے پر ظاہر نہ ہو حالاں کہ ندبًا اسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پاخانے سے استنجا کرنے والے کے لئے سنّت یہ ہے کہ جہاں تك ہو سکے پاؤں کشادہ کر کے اور ڈھیلا ہو کر بیٹھے اور ڈھیلا پن نہ ہونے کی صورت میں جو کچھ چھپا رہتا سب ظاہر ہو کر پاك ہو جائے ۔
حلیہ میں ہے : “ جب پاخانہ سے استنجاء پانی کے ذریعہ کرنا ہو تو جہاں تك ہو سکے کشادہ ہو کر ، اپنے کو پورے طور سے ڈھیلا کر کے بیٹھے تا کہ اندر رہ جانے والی نجاست ظاہر ہو جائے اور اسے زائل کر دے ، اگر روزہ دار ہو تو ڈھیلا ہونے کا تکلف ترك کر دے ا ھ “ ان دونوں باتوں کو درمختار میں مختصر ترین لفظوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے کہ فصل استنجاء کے آخر میں کہا : “ باوضو
فـــــــ۱ : مسئلہ : نجاست اگر مخرج کی اندرونی سطح تك آ جائے وضو نہ جائے گا جب تك کنارے پر ظاہر نہ ہو ۔
فــــــ۲ : مسئلہ : بڑے استنجے میں سنت یہ ہے کہ خوب پاؤں پھیلا کر بیٹھے اور سانس سے نیچے کو زور دے کہ جتنا حصہ مخرج کا ظاہر ہو سکے ظاہر ہو کر سب نجاست دھل جائے ۔
فــــ۳ : مسئلہ : یہ مسنون طریقہ کہ بڑے استنجے میں مذکور ہوا روزہ دار کے لئے نہیں وہ ایسا نہ کرے ۔
استنجی فــــ المتوضیئ ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض والا لا [1] اھ فافاد بالجملۃ الاولی ان غسل داخل الدبر سنۃ و بالاخیرۃ ان النزول الیہ غیرناقض مالم یبرز و لا اعلم فی ھاتین خلافا لاحد من علمائنا فاستقر بحمد الله تعالٰی عرش التحقیق علی ماکان علیہ الاکثرون کما ھو القاعدۃ المقررۃ ان الصواب مع الاکثر وقد تبین لك مما تقرر فوائد :
(۱) مرادھم بحکم التطھیر ھو الوجوب وکلامھم مناف لزیادۃ الندب کما افاد فی النھر لالما قال بل لما افاض علی المھیمن المتعال۔
(۲)لایشترط فی النقض بما من غیر السبیلین الاالخروج بالسیلان علی ظاھر البدن ولو بالقوۃ فلا یستثنی من
نے استنجاء کیا اگر بطور سنت ہو اس طرح کہ ڈھیلا رہے ، تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ا ھ ۔
پہلے جملے سے افادہ کیا کہ مقام کے اندرونی کنارے کو دھو لینا سنت ہے اور بعد والے جملے سے یہ بتا دیا کہ وہاں نجاست اُتر آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تك کہ کنارے پر ظاہر نہ ہو ، میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں ہمارے علماء میں سے کسی کا کوئی اختلاف ہے تو بحمدہٖ تعالٰی عرش تحقیق اسی پر مستقر ہوا جس پر اکثر ہیں جیساکہ مقرر قاعدہ ہے کہ درستی و صواب اکثر کے ساتھ ہے تقریر ماسبق سے چند فوائد روشن ہوئے :
(۱) حکم تطہیر سے ان حضرات کی مراد وجوب ہے اور ان کا کلام اضافہ ندب کے منافی ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا اسکی وجہ وہ نہیں جو نہرمیں بیان ہوئی بلکہ وہ جس کا میرے اوپر رب نگہبان و برتر نے فیضان کیا ۔
(۲) غیر سبیلین سے نکلنے والی نجاست سے وضو ٹوٹنے میں صرف خروج کی شرط ہے اس طرح کہ ظاہر بدن پر اس کا سیلان ہو اگرچہ بالقوہ ہو ، تو بدن کے ظاہر حسّی
فـــ : مسئلہ : بڑا استنجاء ڈھیلوں سے کر کے وضو کر لیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجاء اس مسنون طریقہ پر پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر وضو کرے گا جاتا رہے گا اور ویسے ہی کرے گا تو ہمارے نزدیك نہ جائے گا۔
الظاھر حساالا داخل عــــہ العین لانہ
سے صرف اندرونِ چشم کا استثناء ہو گا ، کیونکہ
عــــہ : والیہ یشیر کلام الفاضل یوسف چلپی تلمیذ العلامۃ مولی خسرو فی ذخیرۃ العقبی حیث قال الخروج الی مایطھر ھو الانتقال من الباطن الی مایجب تطہیرہ وان یصل الیہ ولم یتلوث ھو بہ ، والمقصود من اعتبار قید الی مایطھر الاحتراز عن الخروج الی مایعد من ظاھر البدن حسا ولا یعد منہ شرعا لحکمۃ شرعیۃ کداخل العین لانہ لایجب تطہیرہ فالذی یخرج من بدن الانسان الی باطن العلقۃ والقراد خارج الی مایجب تطہیرہ لا بمعنی انہ لم یبق فی باطنہ الحقیقی الذی ھو تحت الجلدۃ وباطنہ الشرعی الذی ھو داخل العین [2] اھ فالکان فی قولہ اولا کداخل العین کاف الاستقصاء بدلیل اٰخر کلامہ وفیہ من الفوائد ان المراد الحکم الوجوب منہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع