30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی البحر مرادھم ان یتجاوز الی موضع تجب طھارتہ اوتندب من بدن وثوب ومکان[1] اھ
ولا شك ان مسح الدم من باطن الفرج لفرصۃ لیس الا لازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ولذا عبر صلی الله علیہ وسلم عنہ بالتطھیر فحکم التطہیرلایختص بالماء علا انا علمنا ان نظر الشارع ھھنا الی ازالۃ اثر الدم من الباطن فلاشك ان الماء ابلغ فیہ لاسیما بعد المسح بالخرقۃ کما عرف فی الاستنجاء بالماء بعد المسح بالحجر ولذا فــــ اتت الروایۃ عن محرر المذھب محمد رحمہ الله تعالٰی فی اغتسال المرأۃ انھا ان لم تدخل اصبعھا
متعلق ہے کہ اسے جنابت میں اور نجاست سے دھونا واجب ہے تو اس میں خون اتر آنا ناقض وضو ہے اھ ۔ غنیہ میں ہے : یانجاست حقیقیہ کے ازالہ میں ( حکمِ تطہیر ہو) اھ ۔
البحر الرائق میں ہے ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی پاکی واجب یا مندوب ہے وہ جگہ بدن کی ہو یا کپڑے کی یا خارجی جگہ ا ھ۔
اور اس میں شك نہیں کہ باطن فرج سے کسی ٹکڑے سے خون پونچھنا نجاست حقیقۃً دور کرنے ہی کے لئے ہے ، اسی لئے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تطہیر سے تعبیرفرمائی تو حکم تطہیر پانی ہی سے خاص نہیں علاوہ اس کے کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نظرِ شارع یہاں اندر سے خون کا اثر دورکرنے پر ہے تو پانی یقینا اس میں زیادہ کارگر ہو گا ، خصوصًا پارچہ سے پونچھنے کے بعد ، جیسا کہ پتھر سے پونچھنے کے بعد پانی سے استنجاء کے بارے میں معلوم ہے ۔ اسی لئے محررِ مذہب امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے عورت کے غسل کے بارے میں روایت آئی کہ اگر وہ فرج میں انگلی نہ لے جائے تو تنظیف نہ ہو گی ۔
فـــــ : غسل میں عورت کو مستحب ہے کہ فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھو لے ہاں واجب نہیں بغیر اس کے بھی غسل اتر جائے گا ۔
فی فرجھا فلیس بتنظیف کما فی ردالمحتار[2] عن التاترخانیۃ ، وفھم منہ الامر بالوجوب فجعل المختار خلافہ قال الشامی وھو بعید[3] اھ
۱۰۵قلت : فانہ ان اراد الوجوب قال لیس بطہارۃ ولم یقلہ وانما قال لیس بتنظیف وما فی الدر وغیرہ لا تدخل اصبعھا فی قلبھا بہ یفتی[4] فمرادہ نفی الوجوب کمافی ردالمحتار[5] عن السید الحلبی عن العلامۃ الشرنبلالی لاجرم ان قال فی الفتح تغسل فرجھا الخارج لانہ کالفم ولا یجب ادخالھا الاصبع فی قبلھا وبہ یفتی [6] اھ ونفی الوجوب لاینفی الندب۔
و الاخر وھو الا قوی فــــ والاظھر۔ جیسا کہ ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے نقل ہے اور صاحبِ تاتارخانیہ نے اس سے وجوب سمجھا اور مختار اس کے خلاف کو بتایا ۔ علامہ شامی نے کہا : وجوب کا معنی بعید ہے ا ھ ۔
قلت : اس لئے کہ اگر وجوب مراد ہوتا تو یہ کہتے کہ طہارت نہ ہو گی ۔ یہ انہوں نے نہ کہا بلکہ صرف یہ کہا کہ تنظیف نہ ہوگی اور درمختار وغیرہ میں جو لکھا ہے کہ : اپنی شرمگاہ میں انگلی نہ لے جائے گی ، اسی پر فتوی ہے اس کا مقصود وجوب کی نفی ہے یعنی اس پر یہ واجب نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار میں سید حلبی سے نقل ہے وہ علامہ شرنبلالی سے ناقل ہیں اسی لئے فتح میں ہے : عورت اپنی فرج خارج کو دھوئے اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے اور اس کا شرمگاہ میں انگلی داخل کرنا واجب نہیں اور اسی پر فتوی ہے ا ھ اور وجوب کی نفی سے مندوبیت کی نفی نہیں ہوتی ۔ نقض دیگر۔ ۔ ۔ زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔
فــــ : ۷۳تطفل اخر علی العلماء الستۃ ۔
۱۰۶اقول : اجمعنا فــــ۱ ان خروج شیئ الی الشرج لاینقض طھرا مالم یبرز وقد لحقہ حکم التطھیر ندبا فان فــــ۲ السنۃ للمستنجی ان یجلس افرج مایکون ویرخی کی یظھر فیطھر مایبقی کامنا لولا الانفراج والارخاء ۔
قال فی الحلیۃ اذا کان الاستنجاء بالماء من الغائط فلیجلس کأفرج مایکون مرخیا نفسہ کل الارخاء لیظھر مایدا خلہ من النجاسۃ فیزیلہ وان کان فــــ۳ صائما ترك تکلف الارخاء [7]
وقد بین المقدمتین معافی الدر المختار باوجز لفظ حیث قال فی اٰخر فصل الاستنجاء
[1] البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱
[2] رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
[3] رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
[4] الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دھلی ۱ / ۲۸
[5] رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
[6] فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۰
[7] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع