30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مع تبعیۃ العنایۃ وجزم الحلیۃ وھو مفسر لایقبل التاویل ویقرب منہ نص الفتح بتعمیم الندب ومع النھر مااسلفنا من کثرۃ النصوص فی کلتا المسألتین القصر علی الوجوب والتقیید بالمارن وفیھا سبعۃ نصوص مفسرات اٰبیات عن التاویل کلام الذ خیرۃ والملتقط والخزانۃ عن الخلاصۃ وثالث عبارات الجوھرۃ و البرجندی وجامع الرموز والدررفلا امکان للتطبیق والحمل علی اختلاف الروایۃ ایسر من نسبۃ احد الفریقین الی الخطاء والغلط والغفلۃ و الشطط فالذی تحرر عندی ان ھھنا عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنہم روایتین روایۃ النقض بالسیلان فی ماصلب وان لم یصل الی مالان وھی التی عرفناھاباعتماد اتقان الاتقانی وعلیھا یجب تعمیم الحکم الندب وھوالذی اختارہ فی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وتبعھم الطحطاوی و ردالمحتار والاخری عدم النقض الا بالسیلان فیما لان وھی الروایۃ الشہیرۃ الشائعۃ فی الکتب الکثیرۃ وعلیھا یقتصر
نہ ہوتی جب کہ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی ہے اور حلیہ نے اس پر جزم کیا ہے یہ ایسی مفسَّر ہے جس میں تاویل نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ اس سے قریب ندب کو شامل کرنے میں فتح کی تصریح ہے اور نہر کی موافقت میں وجوب پر اکتفا اور نرمہ کی تقیید دونوں ہی مسئلوں میں نصوص کی وہ کثرت ہے جو ہم ہیش کر چکے ، ان میں سات نصوص مفسَّر ناقابل تاویل ہیں عبارات ۱ذخیرہ ، ۲ملتقط ، ۳خزانۃ المفتین عن الخلاصہ ، ۴جوہرہ کی تیسری عبارت ، ۵برجندی ، ۶جامع الرموز ، ۷درر کی عبارتیں تو تطبیق کا کوئی امکان نہیں اب ایك فریق کی جانب غلطی و خطا اور زیادتی و غفلت کی نسبت کرنے سے آسان یہ ہے کہ اختلافِ روایت مان لیا جائے تو میرے نزدیك واضح بات یہ ہے کہ یہاں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے دو روایتیں ہیں ایك روایت یہ کہ سخت حصے کے اندر پہنچنے سے وضو ٹوٹ جائیگا اگرچہ نرم حصے تك نہ پہنچے -----یہ وہ روایت ہے جو اتقانی کے اتقان اور پختہ کاری پر اعتماد سے ہمیں معلوم ہوئی ، اس کی بنیاد
الحکم علی الوجوب ولایبقی داع اصلا الی تعمیم الندب وھو الذی مشی علیہ الاکثرون فاذن الثانی اکثرو اشھر واظھر وایسر غیر ان مراعاۃ الاول احوط کما قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدر بعد نقل کلامی البحر والنھر “ اقول مافی البحر احوط فتامل [1] اھ وصورۃ السیلان فیما اشتد مع عدم النزول الی المارن نادرۃ لاعلینا ان نعمل فیھا بالاحوط فلذا جنحت الیہ جنوحا ماتبعا لھؤ لاء المحققین الجلۃ الکرام ۔
۱۰۴اقول : والثانی و ان ظھر وجہہ فان الخروج الی ظاھر البدن شرط بالاتفاق قال صدرالشریعۃ المعتبر الخروج الی ما ھو ظاھر شرعا [2] اھ وما صلب من الانف داخل فی الداخل خارج عن الخارج بالاتفاق ولذا لم یجب تطہیرہ فی الغسل ایضا فالاول ایضالہ وجہ وذلك انا لما رأینا الشرع ندب الی غسلہ فی الغسل والوضوء
پر حکم میں ندب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے اسی کو فتح القدیر ، حلیہ ، البحرالرائق اور مراقی الفلاح میں اختیار کیا اور ان ہی کا طحطاوی اور ردالمحتار نے اتباع کیا ، دوسری روایت یہ کہ جب تك نرم حصے میں نہ بہے وضو نہ ٹوٹے گا یہی روایت کثیر کتابوں میں عام اور مشہور ہے اس کی بنیاد پر حکم وجوب تك محدود رہے گا اور ندب کو شامل کرنے کا بالکل کوئی داعی نہ رہ جائے گا ۔ اسی پر اکثر حضرات چلے ہیں ، ایسی صورت میں ثانی اکثر ، اشہر ، اظہر اور ایسر ہے مگر یہ کہ اول کی رعایت احوط ہے جیسا کہ سیّد طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں بحر و نہر کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا : میں کہتا ہوں جو بحر میں ہے وہ احوط ہے ، تو تامّل کرو اھ اور نرمے تك خون آئے بغیر صرف سخت حصے میں بہے یہ صورت بہت کم پیش آنیوالی ہے اس میں احوط پر عمل کر لینا کچھ ضروری نہیں اسی لئے ان بزرگ محققین کی پیروی میں اس کی جانب میرا کچھ میلان ہوا ۔
اقول : ثانی کی وجہ تو ظاہر ہے ----کیونکہ ظاہر بدن کی طرف نکلنا بالاتفاق شرط ہے --- صدر الشریعہ فرماتے ہیں : معتبر اس حصہ بدن کی طرف نکلنا ہے جو شرع میں ظاہر قرار دیا گیا ہے اھ ----- اور ناك کا سخت حصہ بالاتفاق داخلِ بدن میں داخل اور خارجِ بدن سے خارج ہے اسی لئے غسل میں بھی اسے پاك کرنا واجب نہیں ------مگر اول کی بھی ایك وجہ ہے وہ یہ کہ جب ہم نے دیکھا کہ شریعت نے غسل اور وضو میں اس کا دھونا مندوب رکھا ہے
علمنا ان لہ وجہا الی الظاھر والالم یندب غسلہ کسائر الداخلات فاذا وجد السیلان فیہ اوجبنا الوضوء للاحتیاط نظر الی ذلك الوجہ ھذا ماظھر لی۔ والله تعالٰی اعلم
وبالجملۃ انا العبد الضعیف اجدنی امیل الی القول الثانی من حیث الدرایۃ وشھرۃ الروایۃ معالکن لاجل الاحتیاط وتلك الروایۃ الھائلۃ القائلۃ ان الوجوب ثمہ باتفاق ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنھم احببت میلاما الی الاول وعلی توفیق الله المعول۔
ثم ۱۰۵اقول : ظھرلی الاٰن بتوفیق المنان علی تعمیم الحکم للندب نقضان احدھما فــــ۱ تظافر نصوص المذھب ان نزول فــــ۲ شیئ الی الفرج الداخل لاینقض طھرا قط مالم یجاوزہ الی الفرج الخارج مع
اور اس کی دعوت و ترغیب دی ہے تو اس سے ہمیں علم ہوا کہ اس کا ایك رُخ ظاہر کی جانب بھی ہے ورنہ اس کا دھونا مندوب نہ ہوتا ، جیسے دیگر داخلی حصوں کا حال ہے۔ تو جب اس سخت حصے میں سیلان پایا جائے تو اسی پر نظر کرتے ہوئے احتیاطًا ہم نے وضو واجب کہا یہ مجھ پر ظاہر ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔
الحاصل میں بندہ ضعیف اپنے کو درایت اور شہرت روایت دونوں کی وجہ سے قول ثانی کی طرف مائل پاتا ہوں لیکن احتیاط کی وجہ سے اور اس عظیم روایت کی وجہ سے ، جس میں یہ ہے کہ یہاں وجوب پر ہمارے تینوں ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا اتفاق ہے میں نے اول کی طرف مائل ہونا پسند کیا اور خدا ہی کی توفیق پر بھروسہ ہے ۔
ثم اقول : ندب کے حکم کو عام کرنے پر خدا کی توفیق سے مجھ پر ابھی دو نقض منکشف ہوئے :
نقضِ اوّل : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اُتر آئے توناقضِ طہارت نہیں جب تك اس سے بڑھ کر فرج خارج تك نہ آ جائے حالانکہ فرج داخل کو بطور ندب تطہیر کا حکم ہوتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع