30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰۰اقول : وجہ فــــ۲ ٢التقریر علی ھذا التقدیران ائمتنا الثلثلۃ رضی الله تعالٰی عنھم یعتبرون السیلان الی مایلحقہ حکم التطھیر ولو ندبا و زفر وان اجتزأ بمجردا لظھورلکن یجب عندہ الوصول الی ماھو ظاھر البدن اذلا ظھور قبل ذلك فما دام الدم فی ما اشتدت
اس تفصیل کے پیشِ نظر علامہ صاحبِ عنایہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِپر تعجب ہے کہ انہوں نے حکم سے وجوب مراد ہونے کی تصریح کی پھر بھی یہ اعتراض و جواب ذکر کرنے میں غایۃ البیان کی پیروی کر لی اور مزید یہ لکھا کہ : عبارت ہدایہ “ لوصولہ الخ ----کیوں کہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے اس سے مراد کہ ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کاحکم بالاتفاق ہے۔ کیونکہ نرم حصے تك پہنچنے سے پہلے امام زفر کے نزدیك ظہور ثابت نہیں ہوتا اھ۔ اس پر علامہ سعدی آفندی نے اپنے حاشیہ عنایہ میں یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ “ اس میں بحث ہے “ اور وجہ بحث بیان نہ کی ۔
اقول : اس تقدیر پر صورت تقریر یہ ہو گی کہ ہمارے تینوں ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماس جگہ بہنے کا اعتبار کرتے ہیں جسے تطہیر کا حکم ہو اگرچہ بطور ندب ہو۔ اور امام زفر نے اگرچہ خون بہنے کے بجائے صرف ظاہر ہونے پر اکتفا کیا ہے لیکن ان کے نزدیك ایسی جگہ پہنچنا واجب ہے جو ظاہر بدن ہو کیونکہ ظہور اس سے پہلے ہو گا ہی نہیں تو خون جب تك
فــــ ۱ : ۶۹تطفل علی العنایۃ ۔
فــــ ۲ : ۷۰تطفل علی العلامۃ سعدی آفندی
من الانف سائلا فیہ غیر واصل الی مالان یتحقق الناقض عند الائمۃ لندب غسلہ فی الغسل والوضوء لاعندالامام زفر لان مااشتد لیس من ظاھر البدن عند احد فلا یتحقق الظہور اما اذا تجاوز حتی وصل الی الحرف الاول مما لان فقد تحقق الناقض علی القولین اما علی قول الائمۃ فظاھر واما علی قول زفر فلظھورہ علی ظاھر البدن فیتحقق الخروج۔
فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق فان مراد زفر بالوصول مجرد الظھور وبما یلحقہ حکم التطھیر ظاھر البدن ومراد الائمۃ بالوصول السیلان وبما یلحقہ التطھیر ماشرع تطھیرہ ولو ندبا فاذا وصل الی ھنا حصل الوصول بالمعنیین الی مایطھر علی القولین وھذا تقریر صاف واف لابحث فیہ ولا غبار علیہ۔
بقی الفحص عن الروایۃ
۱۰۱اقول : لانمتری ان صاحب الغایۃ ثقۃ الی الغایۃ وقد اعتمد کلامہ فی العنایۃ وجزم بہ فی الحلیۃ حتی حکم باعتمادہ علی صاحب المنیۃ و
ناك کے سخت حصے میں بہہ رہا ہے نرم حصے تك پہنچا نہیں ہے اس وقت ائمہ ثلاثہ کے نزدیك ناقض متحقق ہے اس لئے کہ غسل و وضو میں اس حصے کو دھونا مندوب ہے جبکہ امام زفر کے نزدیك ناقض متحقق نہیں کیونکہ سخت حصہ کسی کے نزدیك ظاہر بدن میں شمار نہیں تو ظہور ثابت نہیں لیکن جب ذرا آگے بڑھ کر نرم حصے کے پہلے کنارے تك پہنچ جائے تو دونوں ہی قول پر ناقض متحقق ہو گیا ۔ قولِ ائمہ پر تو ظاہر ہے اور قول امام زفر پر اس لئے کہ خون ظاہر بدن پر ظاہر ہو گیا تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔
اب کلامِ عنایہ میں جو آیا کہ فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق اس کا مطلب واضح ہے اس لئے کہ پہنچنے سے امام زفر کی مراد محض ظاہر ہونا ہے اور “ جسے حکم تطہیر لاحق ہے “ سے ان کی مراد ظاہر بدن ہے۔ اور پہنچنے سے ائمہ کی مراد بہنا ہے اور “ جسے حکم تطہیر لاحق “ سے ان کی مراد وہ جس کی تطہیر مشروع ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو خون جب نرم حصے تك پہنچ گیا تو دونوں قول کے مطابق جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس تك پہنچنے کا دونوں معنی حاصل ہو گیا یہ---- صافی وافی تقریر ہے جس میں نہ کوئی بحث ہے اور نہ اس پر کوئی غبار ہے ۔
اب رہی روایت کی تفتیش اقول : ہم اس میں شك نہیں رکھتے کہ صاحب غایہ نہایت درجہ ثقہ ہیں ، ان کے کلام پر صاحبِ عنایہ نے اعتماد کیا اور اس پر صاحبِ حلیہ نے جزم کیا یہاں تك کہ ان پر اعتماد کر کے صاحبِ منیہ اور
علی من ھو اجل واکبر اعنی الامام برھان الدین محمود صاحب الذخیرۃ انھما مشیا ھھنا علی قول زفر۔ لکن الذی رأیتہ فیما بیدی من الکتب ھو المشی علی التقیید والحکم علیھم جمیعا انھم اغفلوا المذھب ومشوا علی قول زفرفی غایۃ الاشکال۔
وقد اسمعناك نصوص ۱المنیۃ و۲الجوھرۃ و۳التبیین و۴معراج الدرایۃ بل و۵الفتح و۶العنایۃ و۷النھایہ وفی الجوھرۃ ایضًا لو سال الدم الی ما لان من الانف والانف مسدودۃ نقض اھ[1] وفیھا ایضا احترز بقولہ حکم التطھیر عن داخل العین وباطن الجرح وقصبۃ الانف [2] اھ وفی ۸خزانۃ المفتین للامام السمعانی رامزا علی مافی نسختی خ للخلاصۃ اذا دخل اصبعہ فی انفہ فدمیت اصبعہ ان نزل الدم من قصبۃ الانف نقض وانکان من داخل الانف لا[3] اھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع