30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
مالان من الانف ای الی المارن وما بمعنی الذی ، فان قلت لم قید بھذا القید مع ان الروایۃ مسطورۃ فی الکتب عن اصحابنا ان الدم اذا نزل الی قصبۃ الانف ینقض الوضوء ولاحاجۃ الی ان ینزل الی مالان من الانف فای فائدۃ فی ھذا القید اذن سوی التکرار بلا فائدۃ لان ھذا الحکم قد علم فی اول الفصل من قولہ والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر قلت بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا لان عند زفر لاینتقض الوضوء مالم ینزل الدم الی مالان من الانف لعدم الظہور قبل ذلك اھ (قال فی المنحۃ بعد نقلہ) وھو شاھد قوی علی ماقالہ (ای صاحب البحر)فلا تغتر بتزییف صاحب النھر والله تعالٰی ولی التوفیق [1] اھ
وذکر مثل کلامہ الذی نقلنا ھھنا مع قلیل زیادۃ فی رسالۃ الفوائد المخصصۃ واورد خلاصتہ
“ الی ما لان من الانف -------ناك کے اس حصے تك اُتر آئے جو نرم ہے “ اس سے مراد “ مارن “ (نرمہ) ہے. اور “ ما “ بمعنی الذی ہے . اگر اعتراض ہو کہ قید کیوں لگائی جب کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں روایت یوں لکھی ہوئی ہے کہ خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقضِ وضو ہے. اور اس کی ضرورت نہیں کہ ناك کے نرم حصے تك اترے ایسی صورت میں اس قید کا کیا فائدہ ؟. سوا اس کے کہ بے سُود تکرار ہو کیونکہ یہ حکم تو وہیں معلوم ہو گیا جو شروع فصل میں فرمایا : اور خون اور پیپ جب یہ بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے “ ----تو میں کہوں گا یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے اس لئے کہ امام زفر کے نزدیك جب تك نرم حصے تك نہ اترے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ اس سے پہلے ظہور ثابت نہیں ہوتا “ ا ھ ، اسے علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کرنے کے بعد فرمایا : یہ صاحبِ بحر کے کلام پر قوی شاہد ہے تو صاحبِ نہر کی تردید سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے اور خدائے تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے ا ھ۔
اسی طرح کی بات علامہ شامی نے تھوڑے اضافے کے ساتھ اپنے رسالہ “ الفوائد المخصصہ “ میں بھی ذکر کی ہے------- اس کا خلاصہ ردالمحتار
فی ردالمحتار وختمہ بقولہ “ فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد فاغتنم ھذا التحریر المفرد [2] الخ۔
۹۸اقول : فــــ۱ نعم ھو صریح فی ان المراد فی تلك الروایۃ مااشتد اما عبارۃ المعراج التی فیھا کلام البحر والنھر فلا مساغ فیھا للحمل علی مااشتد للزوم الاختلاف بین الدلیل والمدعی کما علمت فالحق ان استناد البحر بھا لیس فی محلہ۔
ثم۹۹اقول : فــــ۲ان کان مراد الہدایۃ بالحکم الوجوب کما ھو المتبادر من کلامہ فانہ انما جعلہ واصلا الی مایلحقہ حکم التطھیر بعد نزولہ الی مالان فمعلوم ان المارن داخل من وجہ وخارج من وجہ یلحقہ حکم التطھیر فی الغسل ولا یلحقہ فی الوضوء فالتنصیص علی مثل ھذا لایعد عبثا ولا تکرارا فیسقط سؤال الغایۃ من رأسہ۔
میں بھی لکھا ہے اور اسے اس عبارت پر ختم کیا ہے : “ تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسے سے مراد اس کا سخت حصہ ہے ۔ اس منفرد تحریر کو غنیمت جانو “ ۔ الخ
اقول : ہاں یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اس روایت میں سخت حصہ ہی مراد ہے لیکن عبارتِ معراج جس میں بحر و نہر کی گفتگو ہے اسے “ سخت حصے “ پر محمول کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے کہ دلیل اور دعوٰی کے درمیان اختلاف لازم آتا ہے ، جیساکہ معلوم ہو ا تو حق یہی ہے کہ اس سے بحر کا استناد بے جا ہے ۔
ثم اقول : اگر حکم سے ہدایہ کی مراد وجوب ہو جیسا کہ اس کی عبارت سے یہی متبادر ہے---- کیونکہ اس میں خون کو نرم حصے تك پہنچنے کے بعد ہی اس جگہ تك پہنچنے والا قرار دیا ہے جسے حکم تطہیر لاحق ہوتا ہے تو یہ معلوم ہے کہ نرمہ ایك طرح سے داخل ہے اور ایك طرح سے خارج ہے ، غسل میں اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے اور وضو میں لاحق نہیں ہوتا اس لئے ایسی چیز سے متعلق تصریح کر دینے کو بے فائدہ اور تکرار شمار نہ کیا جائے گا تو غایۃ البیان کا اعتراض ہی سرے سے ساقط ہے ۔
فــــ۱ : ۶۷معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
فـــ۲ : ۶۸تطفل علی العلامۃ الاتقانی
وعلی فــــ۱ ھذا فالعجب من العلامۃ صاحب العنایۃ رحمہ الله تعالٰی حیث صرح ان المراد بالحکم الوجوب ثم تبع الغایۃ فی ایراد ھذا السؤال والجواب وزادان “ قولہ (ای قول الھدایۃ) لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر یعنی بالاتفاق لعدم الظہور قبل ذلك عند زفر[3] اھ واعترضہ العلامۃ سعدی افندی فی حاشیتہ علیھا قائلا “ فیہ بحث [4] اھ ولم یبین وجہہ۔
[1] منحۃالخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۲
[2] رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۱
[3] العنایہ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۲
[4] حاشیۃسعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع