دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

تك اتر آنے کا حکم ایسا ہی ہوتا تو ظاہر یہ تھا کہ اسے ذکر کرتے اور غسل اور وضو میں اسے دھونے کے مندوب ہونے سے اس کی تعلیل فرماتے تاکہ جو لفظ “ ندب “ انہوں نے بڑھایا اس کی ایك مثال ہو جاتی اور خلاف مقصود کا وہم نہ پیدا ہوتا لیکن حضرت محقق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عامّہ علماء کے اتباع سے کوئی مفر نہ دیکھا کیونکہ انہوں نے مسئلہ کی صورت اسی طرح رکھی ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالٰی معلوم ہو گا ۔

 

فـــــ :  ۵۷تطفل علی الفتح ۔

ثم لم ارمن تبعہ بعدہ غیر تلمیذہ حتی اتی المحقق البحر فشید ارکانہ فی بحرہ قائلا انما فسرنا الحکم بالاعم من الواجب والمندوب لان مااشتد من الانف لاتجب طہارتہ اصلا بل تندب لما ان المبالغۃ فی الاستنشاق لغیر الصائم مسنونۃ وقد صرح فی معراج الدرایۃ وغیرہ بانہ اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف نقض وفی البدائع اذا نزل الدم الی صماخ الاذن یکون حدثا وفی الصحاح صماخ الاذن خرقہا ولیس ذلك الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ فقول بعضھم المراد ان یصل الی موضع تجب طہارتہ محمول علی ان المراد بالوجوب الثبوت وقول الحدادی اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف لاینقض محمول علی انہ لم یصل الی ما یسن ایصال الماء الیہ فی الاستنشاق

پھر ان کے بعد ان کی تبعیت کرنے والا ان کے تلمیذ صاحبِ حلیہ کے سوا کسی کو میں نے نہ دیکھا یہاں تك کہ محقق صاحبِ بحر آئے تو انہوں نے البحر الرائق میں اس کے ستون مضبوط کئے اور فرمایا : “ ہم نے حکم کی تفسیر اس سے کی جو واجب اور مندوب دونوں کو عام ہے اس لئے کہ ناك سے سخت حصے کی طہارت بالکل (یعنی وضو اور غسل کسی میں بھی ) واجب نہیں بلکہ مندوب ہے اس لئے کہ غیر روزہ دار کے لئے اشتنشاق میں مبالغہ (یعنی نرم حصے سے بڑھا کر سخت تك پانی چڑھا دینا ) مندوب ہے---- اور معراج الدرایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ خون جب ناك کے بانسے تك اُتر آئے تو ناقضِ وضو ہے اور بدائع میں ہے : خون جب صماخِ گوش ( کان کے سوراخ ) تك اُتر آئے تو حدث ثابت ہو جائے گا ، صحاح میں صماخِ اذن کا معنی کان کا شگاف لکھا ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ اس کی تطہیر غسل وغیرہ میں مندوب ہے تو بعض حضرات کا یہ فرمانا کہ “ مراد ایسی جگہ پہنچنا ہے جس کی طہارت واجب ہے “ ----- اس پر محمول ہو گا کہ واجب ہونے کا مطلب ثابت ہونا ہے اور حدادی کی عبارت : “ اذا نزل الدم الی قصبۃالانف لا ینقض (خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض نہیں ) “ اس پر محمول ہو گی کہ اس جگہ تك نہ پہنچے جہاں استنشاق میں پانی پہنچانا

توفیقا بین العبارات وقول من قال اذا نزل الدم الی مالان من الانف نقض لایقتضی عدم النقض اذا وصل الی مااشتد منہ الا بالمفہوم والصریح بخلافہ وقد اوضحہ فی غایۃ البیان والعنایۃ والمراد بالوصول المذکور سیلانہ [1] اھ

۸۹اقول : فــــ تاویلہ کلام الحدادی فی السراج الوھاج کانہ یرید بہ ان “ الی “ فی کلامہ لاخراج الغایۃ ای نزل الدم من الراس وانتھی الی مبدء مااشتد من الانف من دون ان ینزل منہ شیئ فیہ  ، وھذا کان محتملا لولا ان الحدادی صرح فی مختصر سراجہ ان المراد بالحکم الوجوب و فرع علیہ تقیید الانتقاض بالنزول الی مالان کما تقدم وسیأتی عنھا ماھو انص واجلی               

مسنون ہے تاکہ عبارتوں میں تطبیق ہو جائے اور بعض حضرات کے کلام میں آیا ہے کہ “ جب خون ناك کے نرم حصے تك اتر آئے تو ناقضِ وضو ہے “ اس کا تقاضا یہ نہیں کہ جب سخت حصے تك پہنچے تو ناقضِ وضو نہیں مگر یہ کہ اس کا مفہوم لیا جائے حالاں کہ صریح اس کے برخلاف ہے اور غایۃ البیان و عنایہ میں سے واضح طور پر لکھا ہے اور وصول (پہنچنا ) جو مذکور ہوا اس سے مراد سیلان (بہنا ) ہے ا ھ ۔

اقول : حدادی کی عبارتِ سراج وہاج کی جو تاویل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ بحر یہ مراد لے رہے ہیں کہ عبارت سراج میں لفظ “ الی “ غایت کو خارج کرنے کے لئے ہے یعنی خون سر سے اُترے اور ناك کے سخت حصے کے شروع تك پہنچے خود اس حصے میں ذرا بھی نہ اُترے ، یہ احتمال تو تھا اگر حدادی نے اپنی مختصر سراج میں یہ تصریح نہ کر دی ہوتی کہ حکم سے وجوب مراد ہے اور اس پر تفریع کرتے ہوئے وضو ٹوٹنے کو خون کے نرم حصے تك اُتر آنے سے مقید نہ کیا ہوتا جیسا کہ گزرا اور آگے ان کی اس سے بھی زیادہ صریح اور روشن و

 

فـــــ : ۵۸تطفل علی البحر۔

وردہ اخوہ وتلمیذہ العلامۃ عمر فی النھر الفائق بقولہ “ وھذا وھم وانی یستدل بما فی المعراج وقد علل المسألۃ بما یمنع ھذا الاستخراج فقال مالفظہ لونزل الدم الی قصبۃ الانف انتقض بخلاف البول اذا نزل الی قصبۃ الذکر ولم یظھر فانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطھیر وفی الانف وصل فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض کذا فی المبسوط اھ وقد افصح ھذا التعلیل عن کون المراد بالقصبۃ مالان منھا لانہ الذی یجب غسلہ فی الجنابۃ ولذا قال الشارح (ای شارح الکنز یرید الامام الزیلعی) لو نزل الدم من الانف انتقض وضوؤہ اذا وصل الی مالان منہ لانہ یجب تطھیرہ وحمل الوجوب فی کلامہ عن الثبوت مما لاداعی الیہ وعلی ھذا فیجب ان یراد بالصماخ الخرق الذی یجب ایصال الماء الیہ فی الجنابۃ وبھذا ظھر ان کلامھم مناف لتلك الزیادۃ اھ [2] کلام النھر۔            

 



[1]   البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۱۔ ۳۲

[2]   النہر الفائق  کتاب الطہارۃ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن