30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و۱۷قال العلامۃ السید ابو السعود الازھری فی فتح الله المعین ۱۸نقلا عن ابیہ السید علی الحسینی ان المراد بحکم التطھیر وجوبہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح [1] اھ
فھذا ما ارتکز فی اذھان العامۃ جیلا فجیلا غیران المحقق علی الاطلاق الامام الہام کمال الدین محمد بن الھمام زادالندب ایضا حیث یقول لو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاٰخر منھا لاینتقض لانہ لایلحقہ حکم وجوب التطہیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینتقض[2] اھ۔ وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ قائلا بعد نقلہ مایاتی عن
سب کی عبارتیں ان شاء الله تعالٰی آگے نقل ہوں گی ۔
(۱۶) اسی پر علامہ عمر بن نجیم نے النہر الفائق میں جزم کیا ۔
(۱۷) اور علامہ سید ابو السعود ازہری نے فتح الله المعین میں ۱۸اپنے والد سید علی حسینی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : “ حکم تطہیر سے مراد اس کا وضو وغسل میں واجب ہونا ہے اگرچہ مسح ہی کے ذریعے“۔
یہی بات عامہ علماء کے ذہن میں نسل در نسل ثبت رہی مگر محقق علی الاطلاق ا مام ہمام کمال الدین محمد بن الہمام نے مندوب ہونے کا بھی اضافہ کیا ، وہ لکھتے ہیں : “ اگر آنکھ کے اندر کسی زخم سے خون نکل کر آنکھ ہی کی دوسری جانب بہا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا ندب کا حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس صورت کے جب خون سر سے ناك کے نرم حصے میں اتر آئے کیوں کہ اسے جنابت میں اور کوئی نجاست لگنے سے دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقضِ وضو ہو گا ا ھ “ اور ان کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ان کا اتباع کیا اور اتقانی کے حوالے سے آنے والی
الاتقانی فعلی ھذا المرادان یتجاوز الی موضع یجب طہارتہ او تندب کما اشرنا الیہ اٰنفا [3] اھ
۸۶قلت : والاشارہ فی قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیرای شرع فی حقہ الحکم الذی ھو التطہیر اھ فان المشروع یعم المندوب۔[4]
۸۷اقول : و ربما یترشح ھذا التعمیم من النہایۃ ایضًا فانہ مع تصریحہ بان المراد الوجوب کما تقدم فرع علیہ بقولہ حتی “ لوسال الدم الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض وفی الوضوء سنۃ وکذلك فی المبسوط[5] اھ “ فان الاستنان لو لم یکف لکان ذکرہ عبثا الاان یقال المراد انہ وان لم یکن فی الوضوء الا سنۃ لکنہ فی الغسل فرض فتحقق التجاوز الی مایجب تطھیرہ فی الجملۃ
عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا : “ تو اس بنا پر مراد یہ ہو گی کہ ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی طہارت واجب یا مندوب ہوتی ہے جیسا کہ اس کی جانب ہم نے اشارہ کیا “ ا ھ
قلت اشارہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر کے تحت ان کی اس عبارت میں ہے یعنی اس کے حق میں مشروع ہے وہ حکم جو تطہیر ہے ا ھ “ اس لئے کہ مشروع ، مندوب کو بھی شامل ہے ۔
اقول : یہ تعمیم نہایہ سے بھی کچھ مترشح ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے وجوب مراد ہونے کی تصریح مذکور کے باوجود اس پر تفریع میں یہ لکھا ہے : “ یہاں تك کہ خون اگر ناك کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ استنشاق جنابت میں فرض اور وضو میں سنت ہے ---- ایسا ہی مبسوط میں ہے “ ا ھ ۔ اس لئے کہ سنت ہونا اگر کافی نہ ہوتا تواس کا تذکرہ عبث ہوتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وضو میں اگرچہ صرف سنّت ہے لیکن غسل میں فرض ہے تو ایسی جگہ تجاوز متحقق ہو گیا جس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہے تو اس جملے ( وضو میں سنت ہے )
فتکون زیادۃ ھذہ الجملۃ تحقیقا لقولہ فی ماسبق فی الجملۃ وھذا ھوالذی یتعین حمل کلامہ علیہ کیلا یخالف اٰخرہ اولہ۔
۸۸اقول : وکذلکفـــــ لظاہر کلام المحقق حیث اطلق تجاذب فی الاول والاٰخر فانہ عمم الندب ثم ذکر النزول الی مالان وعلله بوجوب غسلہ فی الغسل ومعلوم ان المفہوم معتبر فی کلمات العلماء ولو کان الحکم عندہ کذلك فی النزول الی مااشتد کان الظاھر ان یذکرہ ویعلله بندب غسلہ فی الغسل والوضوء کی یکون مثالا لما زاد من الندب ولایوھم خلاف المرام ھلکنہ رحمہ الله تعالٰی لم یر بُدّا من اتباع العامۃ فانھم انما صورو المسألۃ ھکذا کما ستعرفہ ان شاء الله تعالٰی ۔
کا اضافہ دراصل اس لفظ “ فی الجملۃ “ کی تحقیق قرار پائے گا جو پہلے ان کی عبارت میں آ گیا ہے ------ اسی معنی پر ان کے کلام کو محمول کرنا متعین ہے تا کہ اس کا آخری حصہ ابتدائی حصے کے مخالف نہ ہو ۔
اقول : اسی طرح محقق علی الاطلاق کے بھی ظاہر کلام کے اندر اول تا آخر کے درمیان کش مکش پائی جاتی ہے کیوں کہ پہلے انہوں نے حکم کو ندب کے لئے بھی عام کر دیا پھر ناك کے نرم حصے تك خون اتر آنے کا ذکر کیا اور غسل میں اس کا دھونا واجب ہونے سے علت بیان کی اور معلوم ہے کہ کلماتِ علماء میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اگر ان کے نزدیك ناك کے سخت حصے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع