30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸۲اقول : وعجبا فــــ منہ ان عزاما عزاللجامع الصغیر جاز ماثم قال والثانی ای عدم النقض عن محمد فان مافی الجامع الصغیر مطلقًا ان لم یکن ظاھرہ انہ قول ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنھم فلا اقل من ان یکون قول محمد فکیف ینسبہ الیہ بعن۔ ثم لانظر الی قولہ اقیس مع مامر من تصحیحات عامۃ الائمۃ قول عدم النقض
سے خون ڈھلکا نہیں لیکن اوپر چڑھا اور سرِزخم سے زیادہ ہو گیا تو ناقض نہیں --- یہ اس کے برخلاف ہے جو مجموع النوازل میں ہے اور اوّل امام ثانی سے مروی ہے اور دوم امام محمد سے روایت ہے--- رحمہماالله تعالٰی اور ناقض ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے اس لئے کہ خون کا اپنے مخرج سے جدا ہونا سیلان ہے ا ھ ۔
قلت ناظر پر عیاں ہے کہ وجیز میں دونوں مذہب ، دونوں اماموں کی جانب منسوب کرنے میں معاملہ اُلٹ گیا ہے ۔
اقول : اور صاحبِ وجیز پر یہ بھی تعجب ہے کہ جامع صغیر کا حوالہ تو جزم کے ساتھ پیش کیا پھر بھی یہ لکھ دیا کہ “ والثانی عن محمد “ یعنی ناقض نہ ہونا امام محمد سے ایك روایت ہے حالانکہ جامع صغیر میں جو حکم مطلقًا بیان ہوا ہے ظاہر یہ ہے کہ وہ ہمارے تینوں ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا قول اور مذہب ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی کم از کم وہ امام محمد کا قول ضرور ہے پھر امام محمد کی طرف اس کی نسبت بلفظ “ عن “ کیسے کر رہے ہیں ( جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا قول اور مذہب نہیں بلکہ ان سے ایك روایت ہے ۱۲م )
فــ : ۵۴تطفل علی البزازیۃ
بلفظ ھو الصحیح والاصح والمختار وغیرھا ویقطع النزاع مارأیت فی جواھر الاخلاطی وفی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ والتتار خانیۃ ، ثلثتھم عن فتاوٰی خوارزم وفی الھندیۃ عن المحیط واللفظ للاولی اذالم ینحدر عن رأس الجرح ولکن علافصار اکبر من رأس الجرح لا ینتقض وضوؤہ والفتوی علی عدم النقض فی جنس ھذہ المسائل [1] اھ والله الموفق۔
الثالث : ابو یوسف یجمع القیئ اذا اتحد المجلس ولا یعتبر السبب وعکس فـــ محمد وقولہ
پھر وجیز نے ناقض ہونے کو جو “ اقیس “ (زیادہ قرینِ قیاس ) کہا قابلِ التفات نہیں کیونکہ اس کے مقابلہ میں ناقض نہ ہونے کے قول کے متعلق ، صحیح ---- اصح ---- مختار وغیرہ الفاظ سے عامّہ ائمہ کی تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ گزرا -----اور قاطع نزاع وہ ہے جو میں نے جواہر الاخلاطی۱ میں اور فوائد مخصصہ میں ذخیرہ ۲و تاتارخانیہ۳ کے حوالے سے دیکھا ، ان تینوں میں فتاوی خوارزم سے نقل ہے اور ہندیہ میں بھی دیکھا کہ محیط سے منقول ہے ، الفاظ اول کے ہیں : جب خون سرِزخم سے نہ ڈھلکے لیکن اوپر چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو ناقضِ وضو نہیں اور “ اس جنس کے مسائل میں فتوی عدمِ نقض پر ہی ہے ا ھ “ والله الموفّق۔
تنبیہ سوم : (قے اگر منہ بھر ہو تو ناقضِ وضو ہے لیکن تھوڑی تھوڑی قے چند بار کر کے اتنی مقدار میں آئی کہ اگر سب یکجا ہو تو منہ بھر ہو جائے
فــ : مسئلہ : قے اگر منہ بھر کر ہو ناقض وضوہے ، پھر اگر چند بار تھوڑی تھوڑی آئے کہ سب ملانے سے منہ بھر کرہوجائے تواگر ایك ہی متلی سے آئی ہے وضو جاتارہے گااگرچہ مختلف جلسوں میں آئی ہو ، اوراگر متلی تھم گئی تھی پھر دوسری متلی سے اور آئی تو ملائی نہ جائے گی اگرچہ ایك ہی مجلس میں آئی ہو۔
الاصح وتطابقت النقول ھھنا علی اعتبار المجلس قال فی الحلیۃ “ فعلی ھذا یحتاج محمد رحمہ الله تعالٰی الی الفرق والله تعالٰی اعلم بذلك [2]اھ
واشار فی ردالمحتار الی مایحذ و حذو جوابہ فقال کانھم قاسوھا علی القیئ ولما لم یکن ھنا اختلاف سبب تعین اعتبار المجلس فتنبہ[3] اھ
۸۳اقول : ھذا عجیب فــــ فان من اسے یکجا مان کر نقضِ وضو کا حکم ہو گا یا نہیں ؟) امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ ایك نشست کے اندر چند بار میں جتنی قے آئی ہے سب یکجا مانی جائے گی خواہ ایك سبب یعنی ایك متلی سے آئی ہو یا چند سے اور امام محمد کے نزدیك اس کے بر عکس ہے ( ایك متلی سے چند بار میں جتنی آئی ہے یکجا نہ مانیں گے اگرچہ کئی مجلس اور کئی نشست میں ہو ) ----اصح امام محمد کا قول ہے لیکن یہاں (یعنی چند بار آئے ہوئے خون سے متعلق ) ساری روایات اس پر متفق ہیں کہ ایك مجلس کا اعتبار ہو گا (سبب ایك ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر و اعتبار نہیں )----- حلیہ میں فرمایا : اس بنیاد پر امام محمد کو دونوں مقام میں وجہ فرق بیان کرنے کی ضرورت ہو گی والله تعالٰی اعلم بذلك ا ھ ،
[1] جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی) ص۷ ، الفوائدالمخصصۃ رسالۃ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثامنۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۶۰ ، الفتاوی الھندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع