30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قالوا لاینقض ماظھر من موضعہ ولم یرتق کالنفطۃ اذا قشرت ولا ماارتقی عن موضعہ ولم یسل کالدم المرتقی من مغرز الابرۃ والحاصل فی الخلال من الاسنان وفی الخبر من العض وفی الاصبع من ادخالہ فی الانف[1]۔
علماء نے فرمایا : وہ خون ناقض نہیں جو اپنی جگہ سے ظاہر ہوا اور اوپر نہ چڑھا جیسے آبلہ ، جب اس کا پوست ہٹا دیا جائے اور وہ بھی ناقض نہیں جو اوپر چڑھ گیا اور بہا نہیں جیسے سُوئی چبھونے کی جگہ سے چڑھنے والا خون اور وہ بھی نہیں جو خلال میں دانتوں سے اور روٹی میں دانت لگانے سے اور انگلی میں اسے ناك کے اندر ڈالنے سے لگ جاتا ہے ۔ (ت)
اسی طرح جامع الرموز میں محیط سے ہے ۔ عالمگیری میں ہے :
المتوضیئ اذا عض شیئا فوجد فیہ اثر الدم اواستاك بسواك فوجد فیہ اثر الدم لا ینتقض مالم یعرف السیلان کذا فی الظھیرۃ [2] اھ
باوضو نے کسی چیز کو دانت سے کاٹا تو اس چیز میں خون کا نشان لگ گیا یا کسی مسواك سے دانت صاف کیا تو اس میں خون کا اثر دیکھا تو یہ ناقض نہیں جب تك کہ بہنے کا علم نہ ہو ، ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔ ا ھ (ت)
الاوّل : یقول ف العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف لقد احسن المحقق البحر صاحب البحر فیما نقلنا عنہ انفا فی مسئلۃ الخلال والخبزاذ جزم بھذا المصرح بہ المنصوص علیہ من غیر واحد من المشائخ العظام ولم یرکن الی مایوھمہ ظاھر مافی التبیین حیث قال ذکر الامام علاء الدین ان من اکل خبز ا و رأی اثر الدم فیہ من اصول اسنانہ ینبغی ان یضع اصبعہ اوطرف کمہ
تنبیہ اوّل : بندہ ضعیف ، مولائے لطیف ا س پر لطف فرمائے ، کہتا ہے : صاحبِ بحر سے خلال اور روٹی کا مسئلہ جو ابھی ہم نے نقل کیا اس میں انہوں نے بہت خوب کیا کہ اس تصریح شدہ حکم پر جزم کیا جس پر متعدد مشائخ عظام سے نص موجود ہے اور اس وہم کی طرف مائل نہ ہوئے جو تبیین الحقائق کی ظاہر عبارت سے پیدا ہوتا ہے ، تبیین میں لکھا ہے : امام علاء الدین نے ذکر کیا کہ جو روٹی کھا رہا تھا اور اس میں خون کا اثر دیکھا جو اس کے دانتوں کی جڑ سے اس میں لگ آیا تو اسے چاہئے کہ اپنی انگلی یا آستین کا کنارہ
فــــ : مسئلہ : فقط اتنی بات کہ مثلاناك یا دانت سے انگلی پر خون لگ آیا دوبارہ دیکھا پھر اثر پایا وضو جانے کو کافی نہیں جب تك اس میں خود بہنے کی قوت مظنون نہ ہو۔
علی ذلك الموضع فان وجد فیہ اثر الدم انتقض وضؤوہ والافلا [3] اھ
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ۔
۷۶اقول : فــــلوکان ظھور اثر الدم علی شیئ بالاتصال ناقضا مطلقًا فلم لم ینقض حین رأی الدم علی الخبز اولا بل الواجب ان تکون فی نفسہ قوۃ التجاوز من محلہ لاان یمسہ شیئ فلیتصق بہ وھذا اظھر من ان یظھر ولعلہ ھو المقصود ای یجرب ھل ھو سائل ام کان بادیا وانتقل الی الخبز بالمساس۔
ولعل ظانا یظن ان البادی لقلتہ وعدم مددہ ینتشف بالمساس الاول فاذا وضع الاصبع او الکم وظھر فیہ
اس جگہ رکھ کر دیکھے اگر اس میں بھی خون کا اثر ہے تو اب اس کا وضو ٹوٹ گیا ، ورنہ نہیں ا ھ (ت)
میں نے دیکھا کہ تبیین کے اس مقام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے :
اقول : اگر کسی چیز کے مس ہونے کی وجہ سے اس پر خون کا اثر دکھائی دینا مطلقًا ناقضِ وضو ہے تو پہلی بار روٹی پر خون کا اثر دیکھنے ہی کے وقت وضو کیوں نہ ٹوٹا---- در اصل یہ بات نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ خون میں بذاتِ خود اپنی جگہ سے تجاوز کرنے کی قوت ہو ، نہ یہ کہ کوئی چیز مس ہونے سے خون اس پر چپك جائے ۔ یہ اتنا زیادہ ظاہر کہ اظہار سے بے نیاز ہے---- شاید قول مذکور کا مقصود بھی یہی ہے یعنی یہ کہ جانچ کرے کہ وہ لگنے والا خون بہنے والا ہے یا صرف بادی (دکھائی دینے والا) تھا اور مس ہونے کی وجہ سے روٹی پر لگ آیا۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ محض دکھائی دینے والا خون ، کم ہونے اور اندر سے اضافہ نہ ملنے کے باعث پہلی بار مس ونے سے ہی خشك ہو جائے گا پھر جب اُنگلی یا آستین رکھی اور
فــــ ۵۰تطفل علی الامام الزیلعی۔
ظھر ان لہ مددا فلا یکون بادیا بل خارجا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع